پرائیوسی / پالیسی


کیفے پیالہ ہر صورت میں لوگوں کی پرائیوسی کا خیال رکھنے کا پابند ہے ۔ اس سے مراد ہر شخص خواہ مرد ہو یا عورت کے نجی اور خاندانی معاملات، گھریلو، صحت اور ڈجیٹل روابط سمیت دیگر رابطوں کا احترام کرے۔ کی ایڈیٹوریل ٹیم اور رپورٹرز کیمرہ مین کے لیئے لازمی ہے کہ بلاو اجازت کسی کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی نہ کریں اور اگر ایسا کریں تو اس کی وضاحت کریں۔ اگرایسا نہ ہوا تو شکایت کنندہ کی جانب سے اس کی ذاتی معلومات عوام میں افشا کرنے پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔


ہراسمنٹ

کسی کو ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے یا خوفزدہ کرنے کا عمل انجام نہیں دیا جاسکتا۔ اگر کوئی شخص تصویر لینے، فون کرنے سے منع کردے تو پھر اس سے رابطہ نہیں کیا جاسکتا۔ کسی کے مکان دکان یا دفتر میں اگر قیام کرنے سے منع کیا جائے تو اس پر عمل کرنا ہوگا۔ کسی بھی غیر اخلاقی یا غیر قانونی ذرائع کو استعمال نہیں کیا جائے گا۔

غم

غم کی صورتحال میں صحافی کا رویہ ہمدردانہ ہوگا جبکہ خودکشی کے واقعہ کی رپورٹنگ کرتے وقت خودکشی کی تفصیل نہیں بتائی جائے گی۔ صرف اتنا ہی شیئر کیا جائے گا جتنا پولیس یا ڈاکٹرز بتائیں

بچوں کی کوریج

ایسے بچے جن کی عمر 16 سال سے کم ہو ان کا انٹرویو والدین یا گارجین کی منظوری کے بغیر نہیں لیا جاسکتا۔ نہ ہی ان کی تصاویر لی جاسکتی ہیں نہ ہی شیئر کی جاسکتی ہیں۔


بچوں پر جنسی حملوں کی رپورٹنگ

کسی بھی 16 سال سے کم عمر کے ایسے بچے کی شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی جس پر جنسی حملہ کیا گیا ہویا پھر وہ کسی واقعہ کے عینی شاہد ہوں۔

اسپتال کی کوریج

اسپتال اور پرائیویٹ کلینک پر جانے سے قبل ٹیم ممبرز اپنی شناخت ظاہر کریں اور کسی ذمے دار سے اجازت لیں۔ کسی کی پرائیوسی میں دخل اندازی پر بھی یہی پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔


جرائم کی رپورٹنگ

جرم ثابت ہونے تک کسی ملزم یا مجرم کے عزیزوں، دوستوں اور رشتے داروں کی شناخت ظاہر نہ کی جائے ۔


خفیہ آلات اور دھوکے سے معلومات حاصل کرنا  

خفیہ آلات کے ذریعہ اسٹنگ آپریشن نہی کیئے جائیں نہ ہی کسی کی ای میل یا فون یا میسسجز ہیک کیئے جائیں یہ قانون شکنی ہے۔


تفریق اور امتیاز

پریس کو کسی مرد و زن کو اس کے مذہب، رنگ و نسل، ذات، کسی ذہنی اور جسمانی مرض کی بنا پر تعصب اور تفریق کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ جب تک رپورٹنگ میں اس کی حقیقی ضرورت نہ ہو اس وقت تک کسی فرد کے مذہب، رنگ و نسل، جنس، ذات اور کسی ذہنی اور جسمانی مرض کو ظاہر کرنے سے گریز کیا جائے۔


ذرائع کا تحفظ

خبر کے لیئے ذرائع اہم ہوتے ہیں اور ایک صحافی کی ذمہ داری ہے کہ ذرائع کا تحفظ کرے۔