اسٹاک مارکیٹ کےاچانک اضافی 3منٹ، مارکیٹ کی انوکھی ترین ٹریڈنگ، کئی سوال اٹھ گئے

کراچی سے سید رضوان عامر: جمعے کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والی ٹریڈنگ نے کئی سوال اٹھا دیئے۔ اسٹاک مارکیٹ میں پہلے سے بتائے بغیر اضافی تین منٹ ٹریڈنگ کے دیئے گئے جس میں مارکیٹ کے بیس فیصد شیئرز کا کاروبار ہوگیا۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ مارکیٹ میں اچانک تین منٹ ٹریڈنگ بڑھا دی ہو اور ان تین منٹ میں شیئرز کا والیئم بیس کروڑ چھ لاکھ سے بڑھ کر تئیس کروڑ بانوے لاکھ ہوگیا ۔ اضافی تین منٹ کے مختصر دورانیہ میں اسٹاک مارکیٹ میں جمعے کے دن ہونے والی مجموعی ٹریڈنگ کا 20بڑے حصے کا کاروبار ہوا۔ پاکستان اسٹاک ایسچینج کی انتظامیہ نے ممبر بروکرز اور انویسٹرز کو اعتماد میں لینا تو دور کی بات انہیں اس غیر معمولی واقعے کی اطلاع دینا بھی ضروری نہ سمجھا۔

ذرائع کے مطابق این سی پی ایل نے اضافی تین منٹ کی ٹریڈنگ کو تسلیم نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ ٹریڈنگ کو صاف کردیا گیا اور مارکیٹ کا والیم پھر بیس کروڑ 14لاکھ ہوگیا۔

اپ ڈیٹ

کراچی اسٹاک ایکس چینج نے ایک ہنگامی پریس ریلیز اتوار کے روز جاری کی جس میں کہا گیا کہ صرف 3.4ملین کا کاروبار ہوا جو کل والیوم کا بمشکل ایک فیصد بنتا ہے۔

اہم سوالات اٹھ گئے

اضافی تین منٹ میں جو بیس فیصد سودے ہوئے اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟

ایک اور سوال اسٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ نے معاملہ کیوں دبانا چاہا اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا؟

سب سے بڑا سوال دیکھنا ہوگا کہ اضافی وقت میں کن اداروں اور کن شخصیات نے کن کمپنیوں کے شیئرز خریدے اور بیچے؟ اسٹاک مارکیٹ کیلئے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے خریدے گئے سرویلنس سسٹم سے ممکنہ بینی فشریز کا پتہ لگایا جاسکتا ہے؟

ذرائع اسٹاک مارکیٹ کے ریگولیٹر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اب تک معاملہ کا نوٹس نہیں لیا..ذرائع اسٹاک بروکرز اور انویسٹرز نے ایس ای سی پی سے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں