کینیڈا میں را اور آئی بی کا نیٹ ورک پکڑا گیا،جاسوس پر کینیڈا کی عدالت میں کیس شروع

بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کا کینیڈا میں بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا جو سیاستدانوں پر اثر انداز ہنے کے لیئے پیسہ اور بلیک میلنگ کے طریقے استعمال کررہا تھا۔ بھارتی جاسوس کے خلاف عدالت میں کیس شروع ہوگیا، کنیڈا کے نیوز نیٹ ورک گلوبل نیوز نے ایک خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس آپریشن کا انکشاف ایک فیڈرل کورٹ کی سماعت کے دوران ہوا جب کینیڈا کی سیکوریٹی انٹلی جینس سروس نے جاسوسی کے الزام میں ایک بھارتی شہری پر مقدمہ کیا جس کی سماعت کے دوران اس نیٹ ورک کے بارے میں تٖفصیلات سامنے آئیں۔سیکوریٹی حکام کی رپورٹ کے مطابق را اور بھارتی انٹیلی جنس بیورو نے بھارتی شہریوں کو ٹاسک دیئے ہوئے ہیں کہ وہ کینیڈا کے سیاستدانوں کو بھارت کے حق میں لانے کے لیئے ہر طرح کے حربے استعمال کریں۔ یہ آپریشن دوہزار نو سے جاری ہے۔
ہہ بھارتی شہری ایک نامعلوم نیوزپیپر کا ایڈیٹر انچیف بنا ہوا تھا کورٹ میں را کے ایجنٹ کو اے بی کے نام سے لکھا جارہا ہے۔
اس جاسوس کی بیوی اور بیتا کینڈا کے شہری ہیں۔ کینیڈین انٹلی جنس نے اپنی رپورٹ میں عدالت کو بتایا کہ یہ جاسوس دوہزار پندرہ میں مودی کے کینیڈا کے دورے سے پہلے تقریبا پچیس بار بھارتی انٹیلی جنس اہلکاروں سے ملا۔
اس جاسوس کا دعوی ہے کہ اسے کسی قسم کا ٹاسک نہیں دیا گیا تھا وہ را کے افسران سے بطور ایڈیٹر کے ملتا رہا ہے۔ لیکن اس شخص نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ اسے را اور آئی بی نے مختلیف کام کرنے کے لیئے کہا تھا بھارتی ایجینسیاں اسے بطور لابسٹ استعمال کرنا چاہتی تھیں۔اس شخص کا کہناہے کہ اس نے ایسا کام کرنے سے انکار کردیا تھا
کینیڈا کے امیگریشن حکام نے اس شخص کو ایک سوالنامہ بھیجا جس میں چارج شییٹ موجود ہے۔ اس شخص سے پوچھا گیا کہ

تم نے کہا ہے کہ را نے کینیڈا کے حکومتی شخصیات پر اثر انداز ہونے کا ٹاسک دیا یہ ٹاسک بھارتی حکومت کی طرف سے دیا گیا۔

تم نے اعتراف کیا ہے کہ تمھیں کہا گیا کہ کینیڈا کے مختلیف سیاستدانوں کو بھارتی مفادات کے لیے تیار کیا جائے۔

تم نے اعتراف کیا ہے کہ تمھیں ایک ٹاسک یہ بھی دیا گیا تھا کہ سیاستدانوں کو قائل کیا جائے کہ پاکستان کو بھیجی جانے والی کینیڈین حکومت کی فنڈنگ پاکستان میں دہشتگردی میں استعمال ہوگی

تم نے خود بیان دیا ہے کہ را کی ہدایت کے مطابق اس ٹاسک کی تکمیمل کے لیئے بھارتی ایجنسی را تمھیں مالی سپورٹ فراہم کرتی اور پروپیگنڈا مواد فراہم کرتی

اس شخص کی سیکوریٹی اسکریننگ اس وقت سامنے آئی جب اس نے کینیڈا کی امیگریشن کے لیئے درخواست دی۔
بھارت ایک عرصے سے کینیڈا کی حکومت کو پاکستان کے معملات پر دباو میں لینا چاہتا ہے ساتھ ہی بھارت کی کوششیں ہے کہ کینیڈا کی حکومت سکھوں کی سپورٹ ختم کردیں

۔کنینڈا کے وزیر اطلاعات بل بلیئر نے اس اسٹوری پر کمنٹس سے معذرت کی لیکن انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ خاصہ تشویشناک ہے کہ کوئی ملک ملک بھی جمہوری نظام پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں