ایک مریض۔۔۔ اقبال خورشید کی شارٹ اسٹوری

“ابے کیا ڈاکٹر زندہ باد، ڈاکٹر زندہ باد لگا رکھا ہے؟”
مجو قسائی نے تنک کر کہا۔ میں گنڈیریاں کھاتے کھاتے رکا، اور الو کی طرح اسے تکنے لگا۔
“لمڈے کو زکام ہوگیا تھا، سرکاری اسپتال گیا، ڈاکٹروں نے دیکھنے ہی سے انکار کر دیا، کم بخت۔”
“ارے بھائی، وہ بھی انسان ہیں۔” میں منمنایا۔ “انھیں حفاظتی کٹ تو دو۔”
“ابے تو حکومت دے کیوں نہیں رہی کٹ!” اس نے پیک تھوکی۔ “پیسہ کیا سکھانے کے لیے رکھا ہے۔ الٹا ہم پھٹے حالوں سے چندہ مانگ رہے ہیں، سالے!”
“اب تم جذباتی ہورہے ہو مجو۔ ڈاکٹرز بھی آخر انسان ہیں!”
“ابے چپڑقناتی، کیا صرف ڈاکٹر انسان ہیں؟ پیرامیڈیکل اسٹاف انسان نہیں، یہ سینیٹر ورکر انسان نہیں؟ ابے انھیں بھی تو دو کٹ شٹ۔ ان کے لیے بولتے ہوئے منہ میں گٹگا آجاتا ہے تمھارے۔”
“ایسا نہیں ہے۔” میں نے منہ بنا کر گٹکا تھوکا۔ “مگر ڈاکٹر اگلے محاذ پر لڑ رہے ہیں!”
“ابے کون سا محاذ۔ بہن کا چھورا اسپتال میں کلرک ہے۔ بتا رہا تھا، ادھر کے ڈاکٹروں نے تجویز دی ہے کہ مریضوں کے پاس نرسیں جائیں گی، وہی ٹیکے لگائیں گی، وہیں دوائیں دے گی۔ ہم نہ جاویں گے، ایمان سے۔ نہ۔”
” مگر پھر یہ کیا کریں گے؟” میں نے جاوید چوہدری کی طرح حیران ہو کر سوال کیا۔
“گنڈیریاں کھائیں گے۔” مجو نے لفظی جوتا مارا۔ “ابے کہہ رہے ہیں، یہ باہر بیٹھ
کر کیمروں پر دیکھیں گے مریض کو۔ یعنی پبلک کو اسلحہ دے کر محاذ پر بھیج دو، اور پھر تم گلی کے نکڑ پر کیمرا لگا کر بیٹھ جائو، ماں کی آنکھ!”
میں غصے میں کھڑا ہوا، اور مجو پر اپنی پوری چھینک دے ماری۔
وہ مجھے کوستا ہوا اور اٹھا،
اور ڈاکٹر ڈاکٹر کہتے ہوئے اسپتال کی سمت بھاگ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مریض اقبال خورشید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں