جاوید میاں داد کے خلاف تین بغاوتیں

جاوید میانداد عالمی کرکٹ تاریخ کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل رہے۔ ان کے مقابلے پر سچن ٹندولکر تھے جنہیں ان کی ٹیم نے سر آنکھوں پر بٹھایا لیکن پاکستان میں جاوید میانداد کو مستقل پریشانیوں کا سامنا رہا۔ انہیں اپنی جگہ بنانے کےلیئے ایک جونیئر کھلاڑی سے مدد مانگنی پڑی۔۔

جاوید میانداد کے خلاف ایک بغاوت ان کےسینئر پلیئرز اور دوسری ان کے جونیئر پلیئرز نے کی۔ جاوید میانداد جب 1981-82آسٹریلیا کے ٹور کے لیئے آصف اقبال کو ہٹا کر میانداد کو کپتان بنایا گیا۔ آصف اقبال کو بھارت میں سیریز کی شکست کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا۔ میانداد پاکستان میں ہونے والی 1979-1980کی آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں کپتانی کرچکے تھے یہ سیریز پاکستان نے جیتی تھی۔ پاکستان نے کراچی کا میچ جیتا تھا جبکہ باقی دو ٹیسٹ میچ ڈرا ہوگئے تھے۔ آسٹریلیا جانے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے میانداد کپتان بنے تو ان کےخلاف ماجد خان کی سربراہی میں کئی کھلاڑیوں نے بغاوت کی جن میں عمران خان، محسن حسن اوروسیم حسن راجہ بھی شامل تھے۔ میانداد نے بغاوت کا الزام ظہیر عباس اور ماجد خان پر لگایا جو کپتان بننا چاہتے تھے۔ ظہیر عباس کا کہنا ہے کہ ملیبورن میں جب وہ کھیلنے گئے تو ان کی پسلیوں میں درد ہوا اور انہیں میدان چھوڑ کر ہوٹل جانا پڑا۔ جس پر میانداد نے انہیں ہوٹل سے واپس بلایا اور تمام ٹیم ممبرز کے سامنے جھاڑا۔ ظہیر عباس نے الزام لگایا کہ میانداد سینئر کھلاڑیوں کے بجائے جونیئرز کھلاڑیوں کو اپنے گرد رکھتے تھے۔ میانداد کے خلاف بغاوت میں ظہیر عباس، ماجد خان، وسیم راجہ، سرفراز نواز، محسن حسن خان اور عمران کان شامل تھے۔ جاوید میانداد نے اپنی کتاب میں لکھا کہ انہیں عمران خان کی طرف سے بغاوت میں شامل ہونے پر افسوس تھا کیونکہ یہ دونوں دوست تھے۔ لیکن عمران خان وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے بغاوت ختم کی ان کے ساتھ محسن حسن خان اوروسیم راجہ بھی تھے۔ اسی وجہ سے ماجد خان اور عمران خان کے درمیان ناختم ہونے والی ناراضگی ہوگئی۔ عمران خان نے اپنی کتاب میں جاوید میانداد کو بہترین بیٹسمین اور ٹیم پلیئر قرار دیا لیکن ان کو بدانتظامی اور امیچیوریٹی کی وجہ سے خراب کپتان قرار دیا

تاہم میانداد کی کپتانی کے خلاف معاملات 1982میں اسوقت ختم ہوئے جب انگلینڈ کے ٹور کے لیئے میانداد نے بطور کپتان کھیلنے سے معذرت کرلی۔ جس کے بعد عمران خان کو کپتان بنایا گیا۔ عمران خان لکھتے ہیں کہ میانداد چونکہ ظہیر عباس کی سربراہی میں کرکٹ کھیلنے پر تیار نہیں تھے اسلیئے وہ کپتانی کے مضبوط امیدوار بن گئے۔

جاوید میانداد کو دوسری بغاوت کا سامنا کسی اور سے نہیں بلکہ اس کھلاڑی سے کرنا پڑا جسے میانداد خود ٹیم میں لائے اور اسے سپورٹ کیا ۔ اور یہ کھلاڑی تھے وسیم اکرم جنہوں نے وقار یونس کے ساتھ مل کر جاوید میانداد کے خلاف بغاوت 1993میں کی۔ جاوید میانداد کے خلاف سرگرم تھی۔ میانداد نے اس بغاوت کا الزام عمران خان پر لگایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وسیم اکرم کیونکہ وہ جاوید میانداد کے کرکٹ کھیلنے پر جلتے تھے ۔ عمران خان ورلڈ کپ کے بعد ریٹائر ہوگئے تھے۔ کرکٹر باسط علی نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا کہ جاوید میانداد کے کرکٹ کیئریئر کوعمران خان نےختم کرایا

باسط علی جو جاوید میانداد کے جونیئر تھے انہوں نے دعوی کیا ہے کہ ورلڈ کپ کھیلنے کے لیئے میانداد نے ان سے مدد مانگی۔ انہوں نے میانداد کے لیئے قربانی دی اسطرح کے ورلڈ کپ میں میانداد کی جگہ بنی۔

میانداد کے خلاف تیسری بڑی بغاوت سن 2000 میں ہوئی جب وہ ٹیم کے کوچ تھے۔ اس بغاوت کو سات کی بغاوت کہا گیا۔ ایک بار پھر اس بغاوت میں وسیم اکرم اور وقار یونس شامل تھے۔ دیگر کھلاڑیوں میں کپتان معین خان،انضمام الحق،ثقلین مشتاق،اعجاز احمد اور سعیدانور شامل تھے۔ ان کھلاڑیوں نے کہا کہ اگر جاوید میانداد کو نہیں ہٹایاگیا تو وہ نیروبی میں میچ نہیں کھیلیں گے۔ جاوید میانداد پر الزام تھا کہ وہ کھلاڑیوں کو بہت زیادہ کنٹرول کررہے ہیں۔ ایک اخبار نے خبر لگائی کہ میانداد پر الزام لگایا گیا کہ وہ فٹنس ٹرینر کو بھی خود ہی ہدایتیں دیتے رہتے تھے بجائے اس کے اسے کام کرنے دیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں