لاک ڈاون سیاست ابھی ختم نہیں ہوئی! وزیراعلی سندھ نے اختلافی نکات بتادیئے، ٹیسٹنگ کے معیار پر سوال اٹھا دیا

لاک ڈاون کیسا ہو اس بات پر اختلافی نکات کیا تھے وزیراعلی سندھ نے بتادیئے اس کے ساتھ ہی عالمی ادارہ صحت کی سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں ٹیسٹنگ کے معیار پر تشویش بھی بتادی۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ انہیں ڈبلیو ایچ او کے حکام نے کہا ہے کہ سندھ کہ علاوہ دیگر صوبوں میں کرونا ٹیسٹنگ عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق نہیں ہورہی ۔وزیراعلی کے بیان سے لگتا ہے کہ عالمی ادارہ صحت پاکستان میں کرونا وائرس کے اعداد و شمار سے مطمئن نہیں ہے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یقینی طور پر 98فیصد اتفاق رہا لیکن 2فیصد جن معملات میں اختلاف تھا وہ ہیئرسلون، پلمبر ٹیلر الیکٹریشن کی دکانیں کھولنے پر اعتراض تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک دوکان کھولیں گے تو دوسری دکان والے اعتراض کریں گے اس طرح لاک ڈاون مینیج کرنا مشکل ہوجائے گا۔ سب لوگ دکانیں کھول لیں گےاسلیئے ان کو دکانیں نہ کھولنے دیں ہاں ایس او پیز کے تحت وہ گھروں پر جاکر کام کرسکتے ہوں گے

انہوں نے کہا کہ سوال یہ اٹھا کہ ایک طرف لاک ڈاون کررہے ہیں لوگوں سے کہہ رہے ہیں باہر نہ نکلو دوسری طرف دکانیں کھول رہے ہیں۔ تو اگر لوگ نکلیں گے نہیں تو دکان پر کون جائے گا۔ اور اگر نکلیں گے تو پھر لاک ڈاون کیسا ہوا۔

وزیراعلی سندھ کی پریس کانفرنس سے یہ بات عیاں تھی کہ سندھ ابھی بھی لاک ڈاون کی پالیسی سے مطمئن نہیں ہے۔ وزیراعلی کے مشیر مرتضی وہاب کہہ چکے ہیں کہ اکثر صوبے سخت لاک ڈاون کے حامی تھے لیکن وزیراعظم کے اصرار پر لاک ڈاون پالیسی میں کچھ کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی۔ ان بیانات سے واضع ہے کہ اگر خدانخواستہ کرونا وائرس متاثرین کی تعداد بڑھی یا ہلاکتوں کی تعداد بڑھی تو پھر سارا الزام سندھ وفاق پر لگائے گا۔ اور یوں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔ اس تمام صورتحال میں آئندہ چار دن اہم ہیں جن میں کرونا وائرس اور سیاست کا رخ پتہ چلے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں