کروناوائرس کیسے آیا؟ وائرس چین نے نہیں بنایا، امریکی جنرل کا اعتراف

کرونا وائرس چین سے شروع ہوا اس میں عالمی سطح پر اتفاق رائے ہے لیکن کیا یہ وائرس کسی بائیولاجیکل ہتھیار کے طور پر تیار کیا گیا تھا تو فی الحال امریکی فوج کے جنرل نے چین کو اس الزام سے بری کردیا ہے۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کو چین کی تجربہ گاہ میں حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر نہیں بنایا گیا۔

واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی فوج کےچیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے کہا کہ کورونا وائرس قدرتی طور پر ہی ماحول میں موجود تھا

کرونا وائرس کی ابتدائی اطلاعات وہاں کی ایک ایسی مارکیٹ سے آنا شروع ہوئیں جہاں پر مختلیف جانوروں کا گوشت بیچا جاتا تھا جن میں پینگولین، چمگادڑین خرگوش سانپ وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں کے کام کرنے والے اس وائرس سے مرنا شروع ہوئے تو چین نے مارکیٹ کا لاک ڈاون کیا لیکن اس وقت تک وائرس مارکیٹ سے نکل کر شہر میں پھیل چکا تھا جس کی بڑی وجہ مارکیٹ میں آنے والے خریدار تھے۔

کرونا وائرس کے لیئے ابتدائی تحقیقات میں کہا گیا کہہ یہ ایک جانور پینگولین سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔ پینگولین پاکستان میں بھی پائے جاتے ہیں انہیں چیونٹی خور بھی کہتے ہیں ۔سائنسدانوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے اٹھاسی فیصد جنیاتی ساخت پینگولین میں پائے جانے والے وائرس سے ملتی جلتی ہے۔ لیکن اب فرانس میں کئی گئی تحقیقات میں کہا گیا ہےکہ اس وائرس کا چھیانوے فیصد ساخت وہی ہے جو چمگادڑوں میں پائے جانے والے کرونا وائرس کی ساخت ہے۔ یعنی یہ وائرس چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ سخت سردی میں اس وائرس کا پھیلنا بھی اس مفروضے کو مضبوط کرتا ہےکہ موسمیاتی تبدیلیوں نے اس وائرس کی تخلیق میں اہم کرداد ادا کیا۔

امریکی جنرل نے چین کو اس وائرس کی تیاری کے الزام سے تو بری کردیا لیکن امریکہ نے باضابطہ طور پر چین کو اس وائرس کے پھیلاو کا زمہ دار قرار دیا ہے۔ چین کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ایران میں یہ وائرس بھی چین کےک باشندوں کے ذریعہ آیا جبکہ سب سے کم متاثر آسٹریلیا میں بھی یہ وائرس وہ لوگ لائے جو وہان سے آئے تھے۔

چینی نے ابتدائی طور پر وائرس کے پھیلاو کا الزام امریکا پر لگایا تھا ۔ چین نے الزام لگایا تھا کہ امریکی کھلاڑی یہ وائرس لیکر چین آئے تھے۔

کرونا وائرس سے بچاو کے لیئے تمام ممالک لڑ رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ اس وائرس کو لیکر عالمی سیاست کشیدہ بھی ہوتی جارہی ہے۔ جیسے جیسے یہ وبا قابو آئے گی سیاسی لڑائی مزید شدت اختیار کرے گی اور خظرہ ہے کہ چین پر سفری پابندیوں تک نوبت جائے۔ جبکہ وہ ممالک بھی سفری پابندیوں کی زد میں ائیں گے جہاں کرونا وائرس کی تشخیص اور کنٹرول عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق نہیں ہوا ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں