ہمیں اچھوت نہ قرار دیدیں، بھارت میں کرونا وائرس سے نئی پریشانی

بھارت میں کروناوائرس سے لڑنے والےڈاکٹرز، نرسسز اور دیگر طبی عملہ اسوقت حملوں کی زد میں ہیں۔ کرونا وائرس کو چھپانے کے لیئے کئی علاقوں میں طبی عملے پر حملے کیئے گئے ہیں ۔بنگلور میں گھر گھر جاکر چیکنگ کرنے والے طبی عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ قدامت پسندوں کا کرونا وائرس کی چیکنگ سے بچنے کا بہانہ یہ ہے کہ ڈاکٹرز کے چیک اپ سے کرونا وائرس لگ سکتا ہے۔ کرونا وائرس کے اثرات واضع ہونے میں کافی عرصہ لگتا ہے اس لیئے چیکنگ کے دوران جنہیں کرونا وائرس کا مریض پایا گیا وہ اس مرض کو کئی روز سے لیئے پھرر رہے تھے۔

ماہر سماجیات پریشا کول نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہبھارت کے تنگ ذہن حلقوں میں کرونا وائرس کی وبا کا سماجی داغ کے طور پر بھی لیا جارہا ہے۔ ذات پات میں بٹے تنگ نظر افراد کی رائے میں اگر کسی کو ان کے خاندان میں کرونا وائرس کا مریض قرار دیا گیا تو کئی نسلوں تک ان سے اچھوت کا رویہ رکھا جاسکتا ہے۔

صورتحال اتنی خراب ہوچکی ہے کہ بھارتی حکومت کو ایک پبلک سروس میسیج جاری کرنا پڑا جس میں کہا گیا کہ کرونا وائرس کے مریض کو سماجی طور پر برا نہ سمجھا جائے۔ یہ ایک بیماری ہے جو ختم بھی ہوجاتی ہے۔ لیکن تنگ نظر بھارتی سماج میں کررڑوں لوگ اس وقت کرونا وائرس کی چیکنگ سے گھبرارہے ہیں ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کےمطابق طبی عملے پر حملہ کسی ایک خاص طبقہ کی طرف سے نہیں کیئے گئے یہ غریب متوسط اور دولت مندوں کی بستیوں میں بھی کیئے گئے ہیں ان حملوں میں غیر تعلیم یافتہ اور تعلیم یافتہ افراد دونوں شریک رہے ہیں۔

ایک ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ان کے محلے والوں نےا نہیں اپنے ہی گھر سے نکال دیا ہے۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ جس اپارٹمنٹ بلڈنگ میں ان کی رہائش تھی وہاں کے افراد نے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو اپارٹمنٹ چھوڑنے کی وارننگ دیدی۔ محلے والوں کے رویہ کی وجہ سے انہیں اور ان کی فیملی کی زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے

بھارت کا سماج اب بھی ذات پات کے بندھن میں اتنا سخت بندھا ہوا ہے کہ وہاں اچھوت ہونا جتنا آسان ہے اتنا ہی اس سے نکلنا مشکل ہے۔ اسی لیئے پڑھے لکھے افراد بھی اس وبا کی تشخیص سے بچ رہے ہیں کہ کہیں ان کی آنے والی نسلوں کا نام کرونا والا نہ پڑ جائے اور پھر ان کے گھر کو طاعون اور کوڑھ کے مریضوں کی طرح اچھوت قرار دیدیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں