قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس کل ہوا، فیصلے کا اعلان آج۔رمضان تک بازار بند رکھنے کا امکان

اسلام آباد میں ہونے والے نیشنل کوآرڈینیشن اجلاس پیر کے روز ہوا لیکن فیصلے کا اعلان منگل کے روز ہوگا۔ فیصلہ سے قوم کو فوری طور پر آگاہ کیوں نہ کیا گیا یہ شاید راز ہی رہے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق یکم رمضان تک بازار بند رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ وزیراعلی سندھ کی طرف سے لاک ڈاون میں چودہ روز کے مزید اضافے کی تجویز مان لی گئی۔ لیکن کنسٹرکشن انڈسٹری اور کچھ اور صنعتیں کھولنے کا اعلان بھی متوقع ہے۔ کنسٹرکشن سیکٹر کے لیئے ایس آراو بھی جاری ہونے کا اعلان ہے۔

حکومت کے لیئے سب سے بڑا چیلنج لوگوں کو روکنا اور رمضان میں عام آدمی کی معاشی حالت بہتر کرنا ہے۔ سماجی ماہرین کو خدشہ ہےکہ عوام معاشی دباو کے تحت کسی انارکی کی طرف نہ چلے جائیں۔ رمضان پچیس اپریل سے متوقع ہیں اور اگر تب تک حالات قابو میں نہیں آئے تو رمضان میں معاشی سرگرمیاں روکنا مشکل بھی ہوگا اور عوامی ردعمل بھی شدید ہوگا۔ یہ اگلے بنے ہے نہ نگلے بنے ہے جیسی صورتحال نے حکومت کو سوچ بچار پر مجبور کردیا ہے۔

کاروبار کے مسلسل بندش سے چھوٹے تاجر سب سے زیادہ پریشان ہیں انہوں نے فوری طور پر کاروبار کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاجروں کے رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ کاریگروں کو پیسے دینا تو دور کی بات اسوقت چھوٹے تاجروں کے پاس اپنا گھر چلانےکے لیئے پیسے نہیں بچے ہیں۔

سیلری کلاس کو بھی اس وقت شدید دباو کا سامنا ہے ۔ اگر بندش جاری رہی توپرائیوٹ ادارے تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات کا شکار ہوں گے۔ اسٹیٹ بینک نے کمپنیوں کو سستی شرح سود پر تن خواہوں کے لیئے رقم دینے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کا مالی اثر کمپنیوں کے کھاتوں پر پڑے گا۔ تعلیمی شعبہ میں بھی مشکلات سامنے کھڑی ہیں جب طلبہ کو فیس دینے میں مسائل ہوں گے تو نتیجہ میں تعلیمی شعبہ سے منسلک افراد کی تن خواہوں پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں

لاک ڈاون کتنے دن اور کیسے چلے گا یہ سوال اہم ہے وہیں اس سے بڑا اہم سوال یہ ہےکہ تن خواہ دار طبقہ کو بھی کسطرح سڑک پر احتجاج سے روکنا ہوگا۔ جس کے حکومت کو کمپنیوں سے مل کر مربوط حکمت عملی بنانا ہوگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں