فائیو جی کا خوف

پہلے برطانیہ میں اور اب نیدر لینڈ میں، فائیو جی کے خلاف ایک مہم شروع ہوچکی ہے جس میں فائیو جی کے ٹاورز کو توڑا جارہا ہے۔ برطانیہ میں فائیو جی ٹاورز کے خلاف چلنے والی مہم میں یہ الزام لگایا گیا کہ اس کی ویوز مختلیف بیماریوں کا سبب ہے۔بعض نے اس کی ریڈی ایشن کو کرونا وائرس کی وجہ قرار دیا۔ اب فائیو جی ٹاورز کو نیدر لینڈ میں نقصان پہنچایا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ مہم اب یورپ میں اپنے قدم جما رہی ہے

ایک ویب سائٹ سائنس الرٹ کے مطابق فائیو جی کے مخالفین کا خیال ہے کہ اس کی ویو لینتھ وہی ہے جو کہ ایک ہتھیار کی ہوتی ہے۔ فائیو جی منی ٹاورز کے ذریعہ ایک بڑا رقبہ کور کرتا ہے تاکہ کسی علاقے کا کوئی بھی کونا انٹرنیٹ کی تیز ترین رفتار سے محروم نہ ہو اور نئی ایپس اور پروڈکٹس آسانی سے چل سکیں۔

ان مفروضوں کوبرطانیہ کے ٹیکنالوجی کمیونیکشن کے سربراہ ہاورڈ جونز نے مکمل طور پر رد کردیا ہےان کا کہنا ہے کہ اسکے منفی اثرات نہیں ہیں جسطرح مخالفین بیان کررہے ہیں۔

اسوقت آپ لوگ اگر تھری جی ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں تو آپ 1.8سے2.5گیگا ہرٹز کی فریکوئنسی استعمال کررہے ہیں جبکہ فورجی ٹیکنالوجی میں آپ 2گیگا ہرٹز سے 8گیگا ہرٹز تک کی فریکوئنسی استعمال کررہے ہیں یہ فریکوئنسی یا ویوز موبائل ٹاورز سے آپ کےا طراف پھینکی جاتی ہیں جن کے ذریعہ آپ کا فون کام کرتا ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ فائیو جی میں 300گیگا ہرٹز تک فریکوئنسی دی جاسکتی ہے جو انسان کے لیئے شدید نقصان دہ ہوگی۔ لیکن متعدد ممالک نے اس مفروضے کو رد کردیا ہے۔ فریکوئنسی کم رکھ کر زیادہ سے زیادہ منی ٹاورز لگا کر کوریج بڑھائی جائے گی جیسے کے ابھی گھر پر ڈش ٹی وی کے اینٹنا ہوتے ہیں

فائیو جی ٹیکنالوجی کو ایسا انقلاب کہا جارہا ہے جو دنیا کو مکمل طور پر بدل دے گا۔ ساری دنیا ایک بٹن پر ہوگی۔ آپ کئی میل دور بیٹھ کر بھی اپنا گھر کاروبار سنبھال سکتے ہوں گے۔ یا یوں کہہ لیں گھر بیٹھ کر اپنا آفس، اسکول یا گروسری کی خریداری کرسکتے ہوں گے۔ یہ ٹیکنالوجی انٹرنیٹ اسپیڈ کو جہاں تیز ترین کردے گی وہیں نئی نئی پروڈکٹس لائے گی جس کے ذریعہ آپ کو انسان سے براہ راست رابطہ کی ضرورت کم ہوگی۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسے فورتھ انڈسٹریل انقلاب کہا جارہا ہے۔ انسانی کی زندگی اور اس کی معاشی اور ثقافتی اقدار یکسر تبدیل ہوجائیں گی۔

کرونا وائرس کے دوران لاک ڈاون میں دنیا بھر کے عوام انٹرنیٹ کے ذریعہ زندگی بسر کرنا سیکھ ہی رہے ہیں تعلیم ہو کہ خریداری یا کاروباری رابطےسب گھر بیٹھ کر ہورہے ہیں۔ جلد آٹومیشن اس اسٹیج پر ہوگی کہ انسان کی ضرورت نہ ہونے کے برابر ہوگی

اسی لیئے فائیو جی کا ایک خوف بھی ہے۔ اس سے بیروزگاری کا سب سے بڑا خوف ہے اور دوسرا خوف ہے کہ ہر شخص ہر لمحہ مانیٹر کیا جارہا ہوگا۔ شخصی آزادی نہ ہونے کے برابر ہوگی۔

کرونا وائرس کے سبب فائیو جی کے مخالفین بڑھ رہے ہیں تو دوسری طرف ایک تیز ترین ٹیکنالوجی کی ضرورت بھی بڑھتی جارہی ہے۔ ٹیکنالوجی ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں فائیو جی اپنے مخالفین پر قابو پالے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں