آج کی کہانی۔۔۔۔۔فرحان رضا

ڈالر کہاں پہنچ گیا دیکھو ایک سو پینسٹھ کا کچھ تو سوچیں ۔
سوچوں؟ کیا سوچوں؟ ڈالر اوپر جا رہا ہے کیونکہ اسے اوپر جانا چاہیے تھا۔
یار وزیراعظم سوچیں۔۔
وہ کیوں سوچیں ؟ انہیں کون سی اسکولوں کی فیس دینی ہے سبزی ترکاری یا پیٹرول یا دوا لینی ہے؟ جب دنیابھر سے قرضے لیتے ہواور ادرک لہسن سے لے کر گاڑیاں، چین سے لیکر جاپان تک سے خریدتے ہو۔ ہر سال باہر سے خریداری بڑھادیتے ہو اور دوسرے ملکوں کو زیادہ سے زیادہ سامان بیچنے کا بندوبست نہیں کرتے پھر یہ تو ہوگا۔

لیکن یار ایک اور بات ہے عوام ٹیکس بھی تو نہیں دیتے نا!!
ابے کینز اور ایڈم اسمتھ کے اکیسویں صدی کے گھٹیا ماڈل جو یہ بات پھیلا رہے ہیں اس سے زیادہ احمقانہ اور ظالمانہ بات ہو ہی نہیں سکتی۔ ہر بچے بڑے بوڑھے سے تو حکومت ٹیکس لیتی ہیں ؎۔ چھ سال کا بچہ جو اپنی پاکٹ منی سے ٹافی لیتا ہے وہ بھی ٹیکس دیتا ہے۔ اور کس کس سے کتنا ٹیکس لے گی ؟
یہ فراڈ فارمولا وہ بے شرم اور چور دیتے ہیں جن کی آمدنی اور ٹیکس کا دس سال کا حساب نکالو تو انہیں پہلے جیل میں ڈالا جائے گا۔
لیکن پھر بھی یار کچھ تو ہے نہ بات؟
بھائی سکندر مرزا ہو کہ خواجہ ناظم الدین ایوب ہو کہ یحییٰ۔ بھٹو ہو کہ جنرل ضیا بی بی شہید ہوں کہ نواز شریف جنرل مشرف ہو کہ اب عمران خان۔۔ جاکر بیانات دیکھ لو ایک ہی راگ ہے ۔۔ عوام ٹیکس نہیں دیتے۔ اصل مسئلہ ہےبراہ راست ٹیکس نہیں آتا ۔ تو بھائی سرکاری افسران کو پکڑو ان کی گھڑیاں، گاڑیاں اور تن خواہ میچ کرو سب پتہ چل جائے گا کہ ٹیکس وصول کیوں نہیں ہوتا ۔ چٹکی میں معاملہ درست ہوگا اتنا ٹیکس جمع ہوگا کہ آئی ایم ایف کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔ لیکن یہاں تو اُن کے بھی پر جلتے ہیں جن سے سب ڈرتے ہیں ۔
یار ایک تو ٹیکس اتنا بڑھا دیا ہے دوسرے روپے کو سستا کردیا مہنگائی مار رہی ہے۔ ان کو احساس نہیں ہوتا؟
جب ووٹ دیا تھا تب سوچا تھا ؟ کہ جب میں نے کبھی نہ سبزی خریدی نہ گھر کا خرچہ چلایا جو ملا وہ تحفہ تھا تو مجھے تمھارا کیا احساس ہوگا؟
لیکن پیپلزپارٹی اور ن لیگ بھی تو کچھ نہیں کررہے؟
بھائی ان کے قائدین نے کب سو روپے بھی خود کمائے جو ملا
تھا وہ ابا کا تھا۔ذرا پوچھ لو کسی بھی لیڈر سے اپنے جوتے کپڑے گھڑی پرفیوم گاڑی کے علاوہ کبھی سبزی گوشت مرغی آٹا چینی دال چاول کی خریداری کی ہو۔ یہ جتنے حکومت اور اپوزیشن میں ہیں سب سے پوچھو سب کا جواب سن لینا ایک ہی ہوگا ۔ نہیں۔

ان سب کے پاس اللہ کا دیا بندوں سے لیا بہت کچھ ہے ۔اور بہت سارا ہے۔
لیکن وزیراعظم کو کچھ کرنا چاہیے؟
بھائی کرکٹ کھیلنے کے علاوہ انہیں چندہ جمع کرنا آتا ہے تو کررہے ہیں۔ کار ڈرائیو کر کر کے جمع کررہے ہیں ۔ باقی کچھ یہ منسٹر ونسٹر بھی تو کریں۔
تو اچھا تو کررہے ہیں
میں کب کہا برا کررہے ہیں؟
جاو یار تم سے طنز کروالو ۔۔ بس اب اسوقت تک نہیں ملوں گاجبتک ۔۔۔
ارے ارے کہیں یہ نہ کہہ دینا جب تک ایک کروڑ نوکریاں نہ ہوجائیں ، سرمایہ کاری کا ڈھیر نہ لگ جائے لاکھوں گھرنہ بن جائیں اور آئی ایم ایف کے منہہ پرپیسے نہ ماردوں۔۔۔ اس وقت تک نہیں ملوں گا۔۔کیونکہ اس کامطلب ہوگا تم کبھی نہیں ملنے والے
ابے جا تو دیکھنا۔۔۔۔ تری تو۔۔
لو کارکن آگیا اپنی زبان پر ۔۔۔

27-06-2019 Lahore

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں