پنجاب کی سیاست میں تبدیلی کی لہر، مشن خواجہ سعد رفیق شروع

پنجاب کی سیاست میں تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے اور اس کے لیئے خواجہ سعد رفیق سرگرم ہوئے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نیب سے ضمانت پر رہا ہوکر آئے تو پہلے کچھ ہفتے خاموش رہے لیکن اب وہ سیاست میں بھرپور طریقے سے سرگرم ہوگئے ہیں۔اور اس سلسلے میں سب سے بڑا قدم تھا خواجہ سعد رفیق کا چوہدری پرویز الہی سے ملاقات کرنا۔ خود خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وہ اٹھارہ سال بعد چوہدری پرویز الہی سے باضابطہ طور پر ان کے گھر پر ملاقات کررہے ہیں

ملاقاتوں کا سلسلہ نو اپریل سے شروع ہوا جب خواجہ سعد رفیق سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملاقات کی یہ ملاقات خواجہ سعد رفیق کے گھر پر ہوئی۔ اس کے اگلے روز ہی شہباز شریف بھی خواجہ سعد رفیق سے ملنے ان کے گھر جا پہنچے۔ جس کے بعد گیارہ اپریل کو خواجہ سعد رفیق ایک اور اہم رہنما خواجہ آصف سے ملاقات کرنے ان کے گھر چلے گئے۔ خواجہ آصف پر ن لیگ کے بعض حلقے الزام لگا رہے تھے کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرلی ہے اور اگر وفاق میں تبدیلی آتی ہے تو شاید وہ وزیراعظم بنیں۔ ان اطلاعات کے ساتھ ہی یہ خبریں بھی گرم تھیں کہ سابق وزیراعظم اور نیب بھگتنے والے شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں ۔ پارلیمنٹ میں یہ ایک دوسرے سے ملاقات بھی نہیں کرتے۔ تاہم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعد خواجہ آصف سے سعد رفیق کی ملاقات اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ منقسم ن لیگ میں دوبارہ ایک ہونے کی کوششیں جاری ہیں۔

ن لیگ کا متحد ہونا پنجاب میں تبدیلی کی ضمانت نہیں لیکن خواجہ سعد رفیق کی چوہدری پرویز الہی سے ملاقات کرنا تبدیلی کی ہوا چلنے کی خبر دے رہی ہے۔ خواجہ آصف سے ملاقات کے بعد گیارہ ہی اپریل کو خواجہ سعد رفیق چوہدری پرویز الہی سے ملنے ان کے گھر جاپہنچے۔ یہ باضابطہ ملاقات اٹھارہ سال بعد ہورہی تھی۔ چوہدری پرویز الہی اسوقت عمران خان سے زیادہ خوش نظر نہیں آرہے اور اس کی وجہ ہے مونس الہی کا شوگر بحران کیس میں بار بار نام اچھالنا ہے۔ چوہدری برادران کا موقف ہے کہ جسطرح مونس الہی کا نام اچھالا گیا ہے اس کے پیچھے سیاسی سازش کارفرما ہے۔ مونس الہی کو وزیر بنوانے کے لیئے چوہدری برادران اٹھارہ ماہ سے کوششیں کررہے تھے لیکن ق لیگ سے مبینہ طور پر کیا گیا یہ وعدہ خان صاحب نے ابتک پورا نہیں کیا ہے

خواجہ سعد رفیق کا یکایک سرگرم ہونا اور پھر ق لیگ کے ساتھ ملاقات کرنا اس وقت پنجاب حکومت کے لیئے بھی درد سر ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کے لیئے دوسری بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ پنجاب میں حکومت بنوانے میں اہم کردار ادا کرنے والے جہانگیر ترین بھی نالاں ہیں اور اگر وہ بیک ڈور سے ن لیگ کو سپورٹ کرتے ہیں تو پھر پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کا گرنا مشکل نہ ہوگا۔ ایسی صورتحال میں وفاق میں بھی پی ٹی آئی کو حکومت جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔

خواجہ سعد رفیق اس پورے سیاسی منظرنامے میں کس قدر نواز شریف اور مریم نواز کی آشیر باد لیئے ہوئے ہیں اس کا علم تو آںے والے وقت میں ہوگا لیکن شہباز شریف کی موجودگی میں خواجہ سعد رفیق کی سرگرمیاں پارٹی میں ابھرتی ہوئی متوازی قیادت کی طرف بھی اشارہ ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان ان سیاسی تبدیلیوں پر کس طرح کا ردعمل دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے آنے والے چند ہفتے پنجاب اور وفاق کی سیاست میں اہم ہیں۔

سعد رفیق کے نو اپریل سے کیئے گئے کچھ اہم ٹوئٹس

…..

…….

……

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں