امریکا کا سیاہ دن، کروناوائرس سے ہلاکتیں 20ہزار ہوگئیں، صورتحال خطرناک ترین ہوگئی

امریکا کی تاریخ کا یہ سیاہ ترین دن ہے، جب کرونا سے مرنے والے بیس ہزار ہوگئے، کئی اسپتالوں میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ اور اب بھی کئی ہزار مریض وینٹی لیٹر کے بغیر جان کی بازی لڑ رہے ہیں

امریکا میں کورونا سے ہونے والی اموات اور مریضوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہوگئی، گزشتہ روز بھی 1300 سے زائد افراد جان سے گئے، اموات 20 ہزار سے اوپر چلی گئیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صرف نیویارک میں آج 783 افراد موت کا شکار ہوگئے، ریاست نے اب تک 8 ہزار سے زائد زندگیوں کو کھو دیا جبکہ نیوجرسی میں اموات 2 ہزار سے اوپر چلی گئیں اور مشی گن میں 12 سو سے زائد افراد اب تک لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

وائرس نے ملک بھر میں 5 لاکھ 21 ہزار سے زائد افراد کو جکڑلیا، نیویارک میں ہی مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 81 ہزار سے اوپر جاچکی۔

امریکا جو دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے اس وائرس کی وجہ سے آج افریقا کے پسماندہ ملک کے برابر کھڑا ہے۔کہا جارہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد پچاس ہزار یا اس سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔ دوسری طرف معیشت بند ہونے کی وجہ سے ایک اور بحران جنم لے چکا ہے جو بیروزگاری کا بحران ہے۔ امریکی سرمایہ دار منافع نہ کمانے کی وجہ سے پریشان ہیں اور صدر ٹرمپ پر دباو ڈال رہے ہیں کہ معاشی سرگرمیاں بحال کی جائیں۔

آنے والے چند ہفتے امریکا کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اور ساتھ ہی صدر ٹرمپ کے لیئے بھی اہم ہیں کیونکہ اگر یہ ثابت ہوا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے میں ٹرمپ کی پالیسی کی ناکامی شامل ہے تو پھر ان کا دوبارہ صدر منتخب ہونا مشکل ہوجائے گا۔ اس وقت امریکی صدارتی انتخاب فارن پالیسی کے بجائے صحت اور سوشل سیکوریٹی کے گرد گھوم رہا ہے۔ اور ان دونوں شعبوں میں صدر ٹرمپ کا ٹریک ریکارڈ ان کے حق میں نہیں جاتا۔ جبکہ ان کےمخالف جو بائیڈن ان دونوں شعبوں میں کارکردگی دکھانے کے وعدے کررہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں