کرونا وائرس اور آمریت کا خطرہ۔۔ یوول نوحا

انسانی نسل کو اسوقت عالمی بحران کا سامنا ہے۔ہماری نسل کے سامنے آنے والا یہ سب سے بڑا بحران ہے۔ حکومتوں کی طرف سے لیئے گئے فیصلے دنیا کی شکل مکمل طور پر بدل رہے ہیں۔ ۔ یہ نہ صرف صحت کے شعبہ کو بلکہ معیشت اور سیاست اور ثقافت کو بھی بدل دیں گے۔ دنیا میں اس وقت عارضی طور پر لیئے گئے کئی اقدامات آنے والے وقت میں ہماری زندگی کا اہم حصہ بن جائیں گے۔ اب یہ ہمارے ساتھ ہی رہیں گے۔

پوری دنیا ایک سماجی تجربہ سے گزر رہی ہے۔ اس بحران کے وقت مطلق العنانیت یعنی آمریت کے راستے پر چلیں جس میں شہریوں پر مکمل کنٹرول ہو یا پھر شہریوں کو بااختیاربنائیں کہ وہ فیصلوں کو اپنی رضا سے قبول کریں۔ ایک اور اہم کام جو کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ تمام ممالک آئی سولیشن میں جائیں اورعالمی سطح پر مل کر کام کریں
پہلے حکومتوں کو نگرانی کرتے ہوئے یہ فکر ہوتی تھی کہ آپ کیا کررہے ہیں لیکن اب ان کو فکر ہے کہ آپ کے باڈی کا ٹمپریچر کیا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کے ذریعہ آپ کے بارے میں مکمل ڈیٹا تیار کیا جارہا ہے۔ لمحہ بہ لمحہ کا ڈیٹا جمع کیا جارہا ہے۔ اب الگورتھم کے ذریعہ آپ سے پہلے کو بخار ہونے پتہ آپ سے پہلے چل جائے گا۔ ان نگرانی کے ٹولز کا ایک نقصان بھی ہےکہ یہ پتہ چل سکے گا کہ کس ویڈیو کو دیکھ کر آاپ خوش ہورہے ہیں کس پر غصہ میں آجاتے ہیں۔ یعنی آپ کے مزاج نکو مکمل کنٹرول کیا جاسکتا ہوگا۔ آپ کے سامنے وہی میٹریل سمارٹ فونز، ویب سائٹس، کمپیوٹر پر آئے گا جس کے ذریعہ آپ کا مزاج متاثر کرکے آپ سے مرضی کا کام کرایا جاسکے۔
یعنی اس ڈیٹا سے کارپوریشنز کو پہلے سے پتہ ہوگا کہ ہمارا موڈ کیا ہے صرف ہمارا نہیں پوری سوسائٹی کا اور اسے وہ تبدیل کرسکتے ہوں گے۔
تصور کریں کہ شمالی کوریا کا ہرشخص ایک کڑا پہنا ہوگا جس کے ذریعہ سب کا ڈیٹا جمع کیا جارہا ہوگا۔۔یعنی پوری قوم کا مزاج کنٹرول کیا جاسکتا ہوگا۔
ابھی یہ اقدامات یعنی ہر وقت آپ کے باڈی ٹیمپریچر اور موڈ کا ڈیٹا لینا ایک ایمرجنسی قدم کہا جارہا ہے۔ لیکن یاد رکھیں جب ڈیٹا اتنے کام کا ہو تو ایمرجنسی کبھی ختم نہین ہوتی۔ جب کروناوائرس کی ایمرجنسی ختم ہوگی تو ڈیٹا کی بھوکی حکومتیں بائیو میٹرک نگرانی کے ںظام کے لیئے کوئی اور جواز تراش لیں گی، کبھی ایبولا کا خطرہ ہوگا تو تو کبھی کوئی اور
لوگوں سے یہ پوچھنا کہ پرائیوسی چاہیے یا صحت تو یہ غلط سوال ہے۔ یہی آنے والے مسائل کی جڑ ہے۔ ہمیں حق ہے کہ ہم پرائیوسی اور اچھی صحت ایک ساتھ انجوائے کریں۔ لوگوں کو اختیار دینے او رانہیں گائیڈ کرنے سے کرونا وائرس جیسے مسئلہ پر قابو پایا جاسکتا ہے اس کے لیئے مطلعق العنانیت رائج کرنا ضروری نہیں ہےہے۔
لوگوں کو جب یہ اعتماد ہوگا حکومتوں پر کہ وہ صحیح بات بتاتے ہیں تو پھر سائنسی بنیادوں پر بتائے گئے حقائق اکثریت تسلیم کرلیتی ہےہ اور ان پر عمل درآمد کرتی ہے اسے کسی بگ برادر یا مسلسل نگرانی کی ضرورت نہین ہوتی۔ سیلف موٹی ویشن اور معلومات تک رسائی زیادہ طاقتور ذریعہ ہے لوگوں کو سمجھانے کا بجائے اس کے کہ پولیس کے زریعہ عملدرآمد کرایا جائے
اس کے لیئے بہترین مثال ہے روزانہ صابن سے ہاتھ دھونا۔ صابن سے ہاتھ دھونے سے لاکھوں جانیں روزانہ بچ جاتی ہیں۔ انیسویں صدی میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ صابن سے ہاتھ دھونا کتنا اہم ہے۔ اس سے پہلے ڈاکتر اور نرسیں بھی ایک آپریشن کے بعد دوسرے آپریشن کے لیئے چلے جاتے تھے بغیر ہاتھ دھوئے۔ آج سب جانتے ہیں کہ بات خطرناک ہے۔ اربوں لوگو روزاناہ صابن سے ہاتھ دھوتے ہیں اس لیئے نہیں کہ انہیں کسی صابن پولیس کا خطرہ ہے بلکہ اس لیئے کہ انہیں حقائق کا علم ہے اور وہ یہ جانتے ہیں کہ ہاتھ نہ دھونے سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
جب تک عوام میں حکومتوں کا اعتماد بحال نہیں ہوگا اس وقت تک لوگ مکمل طور پر اہم تجاویز اور ہدایات پر خود عمل نہیں کریں گے۔ لوگوں کاحکومتی اداروں پر، سائنس پر اور میڈیا پر اعتماد ہونا ضروری ہے۔ گذشتہ کچھ سال میں غیر ذمہ دار سیاستدانوں نے جان بوجھ کر عوما کا اعتماد سائنس پر ، اداروں اور میڈیا پر کمزور کیا ہے۔ جس کا مقصد یہ سیاستدان اپنی آمریت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
عمومی طور پر جن اداروں پر اعتماد اٹھ جائے اسے بحال کرنے میں طویل وقت لگتا ہے۔ لیکن یہ غیرمعمولی وقت ہے۔ اس میں رائے عامہ بہت جلد تبدیل ہوتی ہے۔ کیوکہ لوگ اپنے آپ کو اپنے پیاروں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔دنیا بھر حکومتیں بجائے اس کے کہ نگرانی کا نظام سخت کریں ان کے لیئے بہتر یہ ہے کہ عوام میں اپنا اعتماد بحال کریں۔سائنس پر میڈیا پر عوام کا اعتماد بحال کریں۔

بشکریہ فنانشل ٹائمز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں