زوم کو ہیکرز کا سامنا، ایف بی آئی نے وارننگ جاری کردی

ایف بی آئی نے زوم سروس کے استعمال میں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ زوم وڈیو کانفرنس سافٹ ویئر کرونا وائرس کے ساتھ ہی ایک دم دنیا بھر میں مقبول ترین سافٹ ویئر بن گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ اس کے سیکوریٹی کی کمزوری کی وجہ سے ہیکنگ کے واقعات کی رپورٹنگ ہورہی ہے جس کے بعد کئی ممالک نے اپنے سرکاری دفاتر میں زوم کے ذریعہ میٹنگ کا انعقاد اور فائل شیئرنگ کو ممنوع قرار دیدیا ہے۔ گوگل نے بھی اپنی کمپنی میں زوم ٹیکنالوجی کے استعمال کو روک دیا ہے؎

ایف بی آئی کے مطابق میساچوسسٹس میں ایک کلاس کے دوران کسی نے آن لائن کلاس میں کال کی اور ٹیچرپر چیختا رہا۔ اسی ریاست میں ایک اور اسکول میں نامعلوم شخص آن لائن کلاس میں داخل ہوا۔

ایک بڑی وجہ چائینیز سرور کے ذریعہ اس کی انکرپشن کیز کی روٹنگ ہے اسی بنیاد پر زوم کے ایک شیئر ہولڈر نے زوم ٹیکنالوجی کے خلاف سان فرانسسکو میں فراڈ کا مقدمہ دائر کرایا ہے۔

برطانوی محکمہ دفاع، امریکی ادارہ ناسا، میں زوم کے استعمال پر پابندی لگادی گئی ہے۔ نیویارک گورنمنٹ ، تائیوان اور جرمنی نے بھی سرکاری دفاتر میں زوم ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔ زوم ٹیکنالوجی کے ذریعہ آپ اپنی کمپیوٹر فائلز آسانی سے بات چیت کے دوران شیئر کرسکتے ہیں اور آن لائن دکھا سکتے ہیں جس کے باعث خطرہ ہے کہ ان میٹنگ کو ہیک کرکے اہم دستاویز تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ تاہم زوم کے سی ای او نے ان خطرات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ سیکوریٹی اقدامات مزید سخت کیئے جارہے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں