ٹرمپ کو کرونا ہے یا نہیں؟نیا سوال اٹھ گیا

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی بحث کے پہلے راونڈ کے بعد کرونا ہوگیا جس کے ساتھ ہی خبریں گردش کرنے لگیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے ان کے حمایتی سفید فام شدت پسند ااسپتال کے باہر جمع ہوگئے۔ اور آخر کار صدر ٹرمپ نے ایک گاڑی میں بیٹھ کر اسپتال کے گرد چکر لگایا تاکہ لوگوں کو بتایا جاسکے کہ ان کی جان کو خطرہ نہیں ہے۔

اب اصل صورتحال کیا ہے یہ تو ڈاکٹر ہی بتا سکتے ہیں یا پھر اس ہفتے کے آخر تک پتہ چل جائے گا۔ فی الحال امریکی صدر کے مخالف یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا صدر ٹرمپ واقعی کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں ؟

صدر ٹرمپ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ پہلے صدارتی بحث میں جو بائیڈن کے ہاتھوں پریشانی اٹھانے کے بعد صدر ٹرمپ نے ہمدردی کا ووٹ لینے کی کوشش کی ہے ۔ پہلی صدارتی بحث میں جو بائیڈن نے ٹرمپ پر پے در پے ایسے ہی حملے کیئے جیسے کہ صدر ٹرمپ اپنے مخالفین پر کرنے کے لیئے مشہور ہیں۔ بائیڈن نے ٹرمپ کو جوکر اور احمق آدمی تک کہہ دیا۔ جس سے ٹرمپ دباو میں آگئے

اب بیماری سچی ہےیا ہمدردی کا ووٹ لینے کی کوشش یہ تو وقت بتائے گا لیکن فی الحال صدرٹرمپ کی صدارتی مہم پر اس کا منفی اثر پڑا ہے۔امریکی عوام نے سوال اٹھایا کہ صدر ہوتے ہوئے کیا ٹرمپ کو احتیاط نہیں کرنی چاہیے تھی؟ ساتھ ہی ان کی صحت پر یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا وہ طویل مدت تک اپنی ڈیوٹی انجام دے سکیں گے۔ ان دوسوالات نے صدر ٹرمپ کی مہم پر منفی اثر ڈالا ہے اور یہ سوالات اب ری پبلکن کے ارکان بھی اٹھارہے ہیں۔

ٹرمپ بھول گئے کہ وہ جنوبی ایشیا یا افریقہ کے کسی ملک میں الیکشن نہیں لڑ رہے جہاں ہمدردی کا ووٹ بہت اثر رکھتا ہے۔ امریکا میں جہاں ہمدردی کی جاتی ہے وہیں بنیادی سوال اٹھا کر اپنا ذہن بھِی آپ کےلیئے تیار کرلیا جاتا ہے۔ اس وقت عمومی خیال یہی ہے کہ کرونا کی وبا ٹرمپ کو ان کی بداحتیاطی کی وجہ سے لگی ہے

صدر ٹرمپ کی جگہ کوں؟

اگر صدر ٹرمپ کو کرونا کی وجہ سےمشکلات بڑھتی ہیں تو پھر ان کی جگہ نائب صدر مائیک پینس صدارتی امیدوار بن جائیں گے۔ لیکن اگر انہیں بھی کرونا ہوجاتا ہے تو پھر سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو صدرارتی امیدوار بنیں گے

کہا جارہا ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے لیئے مائیک پومپیو سب سے پسندیدہ ری پبلکن امیدوار ہیں۔ ان کی شہرت عالمی سطح پر صدر ٹرمپ سے بہتر ہے ۔ ان کے مسلسل بیانات کا جائزہ لیا جائے تو وہ ان کے بیانات امریکی پالیسی پر واضع موقف ظاہر کررہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے مستقبل کی جنگ کے حریف اور حلیف دونوں کی پلاننگ کی ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں