After Rail India Set to Lose Iran Gas Project
ریل منصوبے کے بعد بھارت کو ایک اور بڑا دھچکا ریل منصوبے کے بعد بھارت کو ایک اور بڑا دھچکا

بھارت کو ایک اور بڑا دھچکا

چابہارریل منصوبہ کے بعد ہندوستان ایران گیس منصوبہ سے محروم ہو گیا۔

افغان سرحد کے ساتھ جنوب مشرقی ایران میں بھارت کو ایک اہم ریل منصوبہ سے گرا دیئے جانے کے بعد ایران نے بھارت کو گیس پائپ لائن پروجیکٹ سے بھی الگ کردیا، اس کی تصدیق جمعرات کو ہندوستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران، خلیج فارس کے علاقے میں فرزاد- بی گیس فیلڈ کو اپنے طور پر تیار کرے گا اور ممکن ہے کہ ہندوستان کو بعد میں کسی مرحلے پر مناسب طور پر شامل کرے۔

گذشتہ ہفتے نیشنل ایرانی آئل کمپنی (این آئی او سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر مسعود کرباسیان نے صحافیوں کو بتایا کہ ہندوستان کے (او این جی سی) کی جگہ گیس فیلڈ تیار کرنے کے لئے ایک نیا آپریٹر تیار کیا گیا ہے۔ اس فیلڈ میں 21.7 ٹریلین مکعب فٹ قدرتی گیس کے ذخائر، 12.8 کھرب مکعب فٹ قدرتی گیس اور 212 ملین بیرل گیس گاڑیاں رکھنے کا تخمینہ ہے، جس کو 2008 میں تین ہندوستانی کمپنیوں – او این جی سی ، آئل انڈیا لمیٹڈ اور انڈین آئل کارپوریشن کے کنسورشیم نے دریافت کیا تھا۔

واضح رہے کہ ایران بھارت معاہدے کے مطابق ہندوستانی فیلڈ نے اس میدان کو تیار کرنا تھا لیکن ایران کے خلاف پابندیوں کی شدت میں اضافے کے بعد انہوں نے سن 2012 میں اچانک کام روک دیا تھا۔ ایران اور مغربی ممالک کے مابین جوہری معاہدے پر دستخط کے بعد سن 2015 میں پابندیوں میں نرمی لانے کے بعد بھارت نے اس منصوبے میں واپسی پر آمادگی ظاہر کی تھی تاہم مئی 2018 میں ایران پر امریکی پابندیوں کی بحالی کے مابین معاملات ایک بار پھر شش و پنج کا شکار ہو گئے، جس نے بھارت کو اس منصوبے میں پیش قدمی کرنے سے حوصلہ شکنی کا نشانہ بنایا۔

اس سے قبل ایران نے فنڈز میں تاخیر کرنے پر بھارت کو چاہ بہار ریل پراجیکٹ سے بھی علحیدہ کردیا تھا- حالیہ ایران اور چین معاہدوں کے بعد گیس فیلڈ کا یہ منصوبہ ممکنہ طور پر چین کو مل سکتا ہے۔

مزید پڑھیں : چین اور ایران کی400ارب ڈالر کی ڈیل، بھارت چابہار پروجیکٹ سےہٹا دیا گیا، بھارت خطے میں تنہا ہوگیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں