چین اور ایران کی400ارب ڈالر کی ڈیل، بھارت چابہار پروجیکٹ سےہٹا دیا گیا، بھارت خطے میں تنہا ہوگیا

ایڈیٹوریل ڈیسک: چین کی خطے میں امریکا کو تنہا کرنے کی پالیسی اب آخری فیز میں ہے۔ خطے میں امریکی پولیس مین بھارت کو چین نے تنہا کردیا ہے۔ چین نے بھارت کے کاروباری پارٹنر ایران کے ساتھ چار سو ارب ڈالر کی ملٹری اور بزنس ڈیل کی ہے جس میں تیل کی خریداری ملٹری سپورٹ اور انفرا اسٹرکچر کی تیاری شامل ہے۔

چین اور امریکا کی ڈیل

نیویارک ٹائمز کے مطابق چین اور ایران کے درمیان ایک طویل مدتی معاہدہ حتمی مراحل میں ہے جس کے تحت چین پچیس سال تک ایران میں سرمایہ کاری کرے گا اور ایران سے تیل سستے دام خریدے گا۔ یہ ڈیل چار سو ارب ڈالر مالیت کی ہے جس کے تحت چین بینکنگ ، انفرا اسٹرکچر، ٹیلی کمیونیکیشن، اور انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرے گا۔

نامور ویب سائٹ آئل پرائس ڈاٹ کام کے مطابق اس ڈیل کے تحت چین 280ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری آئل اور گیس فیلڈز میں کرے گا۔ اس رقم کا بڑا حصہ پانچ سال میں خرچ کیا جائے گا۔ اسی طرح 120ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری پانچ سال میں ٹرانسپورٹ اور مینوفیکچرنگ اور انفرا اسٹرکچر میں کی جائے گی۔ دوسری طرف چین تقریبا 32فیصد ڈسکاونٹ پر ایران سے تیل حاصل کرے گا جس سے اس کی پیداواری لاگت انتہائی کم ہوجائے گی۔

چین اور ایران کے حکام اگست میں ملاقات کریں گے اور ریلوے نظام کو جدید بنانے کے منصوبے کو حتمی شکل دیں گے۔ تہران سے تبریز تک تیز رفتار ریل کا نیٹ ورک کے منصوبے کو مکمل کرنے کے لیئے مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہوگئے ہیں۔ تبریز میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں

اس ڈیل کے بعد ایران پر لگائِی جانے والی امریکی پابندیاں بے معنی ہوجائِیں گی ۔امریکی اور یورپی ماہرین کے مطابق ایران کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی امریکی کوششیں ضایع ہوجائِیں گی۔ ایران کے لیئے عالمی بینکنگ کے راستے بند کرنے سے بھی اب فاٰئدہ نہیں ہوگا کیونکہ چین کا بینکنگ سسٹم اسے سپورٹ کرے گا۔ بعض عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس بھی اس ڈیل میں شامل ہوسکتا ہے جس کے بعد امریکی کوششوں کو سخت دھچکا لگے گا

نیو سلک روٹ

نیو سلک روٹ میں ایران، ترکی اور سینٹرل ایشیا کا اہم کردار ہے۔ ایرانی شہر تبریز سے ترکی کو تیل و گیس کا پائپ لائن منصوبہ تیار ہوچکا ہے تبریزدراُنیو سلک روڈ کا مرکزی مقام ہے جہاں پر کئی منصوبے ایکدوسرے سےمنسلک ہوں گے۔یہاں سے چین کے صوبے عرمقی جبکہ سینٹرل ایشیا کہ ممالک ترکمانستان، کرغستان، ازبکستان اور قازقستان کو لنک کیا جائے گا۔

بھارت پر اثر

چین اور ایران کی ڈیل کا پہلا براہ راست متاثر بھارت ہوگا۔ پاکستان کے نئے پورٹ گوادر کے مقابلے پر بھارت نے ایرانی چاہ بہار میں سرمایہ کاری کی تھی۔ لیکن امریکا کے دباو میں بھارت اب اس ڈیل سے بھاگ رہا ہے۔ دوسری طرف چین چاہتا ہے کہ چاہ بہار سے گوادر متاثر نہ ہو۔ اس لیئے چین کی ایران سے ڈیل کے نتیجہ میں چاہ بہار کا پروجیکٹ گوادر کے مقابلے پر نہیں آئےہوگا۔

اسی اثنا میں ایران نے بھارت کے ساتھ ریل پروجیکٹ مکمل طور پر ختم کردیا ہے۔ ایران نے فنڈز میں تاخیر کرنے پر بھارت کو چاہ بہار ریل پراجیکٹ سے الگ کر دیا، ایرانی حکومت نے اپنے طور پر ریل لائن کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت اور ایران کے درمیان 4 سال قبل یہ معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت افغانستان کی سرحد کیساتھ چاہ بہار سے زاہدان تک ریلوے لائن کی تعمیر ہونی ہے۔ بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران نے پراجیکٹ شروع کرنے اور فنڈنگ میں تاخیر کرنے پر بھارت کو اس پراجیکٹ سے الگ کر دیا ہے۔

ایرانی حکام نے بھارتی میڈیا کو بتایا ہے کہ پورا پراجیکٹ مارچ 2022ء تک مکمل ہوگا اور ایران اس ریلوے لائن کو بھارت کے بغیر مکمل کرے گا۔

بھارت اپنے آپ کو اس خطے میں امریکا کا پولیس مین سمجھتا ہے۔اور خطےمیں اثر ورسوخ بڑھانے کے لیئے امریکہ کی نقالی بھی کرتا ہے۔ لیکن ایران سے بگاڑ کر سب سے زیادہ نقصان بھارت کو ہوا ہے۔ بھارت کی ایکسپورٹ سیکٹر کی مضبوطی میں ایک اہم عنصر ایران سے سستے دام تیل کی خریداری بھی ہے۔ جس سے بھارت کی پیداواری لاگت کم تھی اور ایکسپورٹ مارکیٹ میں وہ دیگرممالک سے مقابلہ کررہا تھا۔ اب امریکی دباو میں بھارت نے ایران سے تیل کی خریداری محدود کردی تھی۔ اور عالمی مارکیٹ بالخصوص خلیجی ممالک سے تیل کی خریداری کر رہا ہے

چین کے ساتھ ایران کے تعلقات کے بعد بھارت کو اب خطے میں کسی ملک کی سپورٹ حاصل نہیں رہی ہے۔ ایران افغانستان اور پاکستان پہلے ہی چین سے قریب ہوچکے ہیں ۔ سی پیک کی وجہ سے پاکستان کے مفادات چین کے مفادات بن چکے ہیں۔ دوسری طرف نیپال اور بنگلہ دیش بھی چین پر انحصار کررہے ہیں۔ اس صورتحال میں بھارت کو میلوں دور امریکا سے تعلقات نبھانا کتنا مشکل ہوگا اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔

مڈل ایسٹ پر اثر

چین اور ایران کی یہ ڈیل مڈل ایسٹ کی صورتحال پر بھی اثر انداز ہوگی۔ چین نے آبنائے ہرمز پر موجود جسک نامی ایرانی پورٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جس سے سعودی اور دیگر خلیجی ممالک کی تیل کی تجارت پر اثر پڑے گا۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کا زیادہ سیاسی اور ملٹری انحصار امریکا پر ہے اسی وجہ سے یمن ہو یا شام دونوں مقام پر سعودی عرب اور اتحادیوں کو زیادہ کامیابی نہ ہوسکی کیونکہ روس اور چین براہ راست اور بالواسطہ طور پر حوثی باغیوں اور بشار الااسد کے ساتھ ہیں۔

پاکستان پر اثر

پاکستان کےلیئے انتہائِی مثبت صورتحال ہے۔ اس پوری صورتحال ہے پاکستان بھرپورفائدہ اٹھاسکتا ہے۔ جہاں چین کی سرمایہ کاری ہے وہیں عالمی محاذ پر چین کی براہ راست سپورٹ بھی پاکستان کو حاصل ہے۔ جبکہ امریکا سے بھی مجموعی طور پر تعلقات بحال ہیں۔ روس سےتعلقات کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ چین اور ایران کی ڈیل جیسے ہی فائنل ہوتی ہے ویسے ہی پاکستان کے پاس بھی آپشن ہوگا کہ ایران سے سستے تیل یا گیس کی ڈیل کو مکمل کرے۔ چین کی بھی کوشش ہوگی کہ پاکستان اور ایران کی گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہو جس سے گوادر کے قریب بننے والے صنعتی زونز کو بہت فائدہ ہوگا۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے سے پاکستان میں پیٹرول گیس کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمت بھی کم ہوگی جو پاکستانی ایکسپورٹ سیکٹر کے لیئے فائدہ مند ہوگی۔

لیکن اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ پاکستانی قیادت کس قدر جرائت مندی سے بروقت فیصلےکرتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں