حکومت کی ڈولتی کشتی سنبھل گئی، شیخ رشید کے سیاسی پیغامات کیا تھے؟

تحریر فرحان رضا: وزیر ریلوے شیخ رشید کرونا سے صحتیاب ہوکر آج میڈیا کے سامنے آئے اور کئی سیاسی اشارے دے گئے۔ نقاہت کے باوجود شیخ رشید نے پریس کانفرنس اس وقت تک جاری رکھی جب تک ان کے خیال میں وہ سیاسی پیغام مکمل طور پر ڈیلیور نہیں کرگئے۔

مائنس ون نہیں تھری

شیخ رشید نے مائنس ون پر کہا کہ مائنس ون نہیں ہوگا اگر ہوا تو مائنس مائنس مائنس ہوگا۔ تحریک انصاف میں مائنس ون کی بات چلی تھی تو پھر دو امیداروں کے نام گردش کرنے لگے تھے۔ کیونکہ دو سابقہ حکومتوں میں وزیراعظم تبدیل ہوچکے تھے اس لیئے یہ افواہیں گرم تھیں کہ عمران خان بھی کرسی چھوڑ سکتے ہیں۔ ان افواہوں کو مزید تقویت ملی جب وزیراعظم بجٹ سیشن کے آخری روز اپنا خطاب ختم کرتے ہوئے کہہ گئے کہ کرسی آنی جانی والی شے ہے اور اگر ان کی پارٹی میں سے کوئی اور بھی آیا تو وہ بھی احتساب جاری رکھے گا۔

جو افواہیں گردش کررہی تھیں ان میں اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کے نام ممکنہ وزیراعظم کے طور پر سامنے آرہے تھے دونوں شخصیات نےان افواہوں کی بار بار سختی سے تردید کی۔ جب بات بہت بڑھ گئی تو پھر اسد عمر اور شاہ محمود قریشی نے بجٹ سیشن کے دوران اپنی تقاریرمیں وزیراعظم عمران خان سے وفاداری کا بار بار اعلان کیا۔

بڑا پیغام

شیخ رشید کی مائنس ون پر ابھی بات ختم نہ ہوئی تھی کہ رپورٹر نے سوال کردیا لیکن شیخ رشید نے اس سوال کے دوران بھی اپنی بات مکمل کی اور جلدی سے کہا کہ مائنس ون نہیں ہوگا سسٹم لپیٹا جائے گا۔ یہ وہ پیغام تھا جو شاید وہ ہر حاللل میں پہنچانا چاہتے تھے۔ یہ پیغام اپوزیشن کے لیئے بھی تھا اور اتحادیوں کے لیئے بھی۔ ساتھ ہی شیخ رشید یہ بھی کہہ گئے کہ پی ٹی آئی اور ان کےاتحادی آخری چوائس نہیں ہیں۔ یعنی چوائس بہت ہیں لیکن منتخب کرنے والے ابھی کسی اور کو منتخب کرنا نہیں چاہتے۔ اسی لیئے شیخ رشید نے کہا کہ گیند ابھی کورٹ میں ہے۔

عمران خان کی جارحانہ کرکٹ کی وجہ سے ان کے برسر اقتدار آنے سے لیکر ابتک ایک بات مسلسل سیاسی حلقوں میں گونجتی ہے کہ عمران خان کہیں اسمبلی نہ توڑ دیں۔ اپنے اقتدار میں آنے کے چند عرصے بعد ہی میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا تھا کہ انہےں واضع اکثریت نہیں ملی ہے تو کچھ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرف شیخ رشید نے بھی اشارہ دیا ۔ عمران خان اگر وزیراعظم نہ رہے تو عمران خان اسمبلی توڑ کر پوری بساط ہی لپیٹ سکتے ہیں۔ اور یہی ان کا ترپ کا پتہ لگتا ہے

ماضی میں ایسا دو بار نواز شریف کے ساتھ ہو جب انہیں مائنس کرنے کی بات انیس سو ترانوے اور پھر نناوے میں ہوئی تو لڑائی اتنی بڑھی کہ پورا کھیل ہی ختم ہوگیا۔ لیکن گذشتہ دس سال کی جمہوریت میں سیاستدانوں نے یہ سیکھ لیا کہ اگر مائنس ون ہو بھی جائے تو بھی حکومت کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ لیکن یہ ان جماعتوں نے سیکھا جو پہلے دو دو بار اقتدار میں آچکی تھیں۔ عمران خان کی یہ پہلی باری ہے۔ اور اس میں پوری پیٹی آئی اور ان کے اتحادیوں کے۔ لیئے حکومت کا برقرار رہنا اہم نہیں۔ پوری تحریک انصاف کے نزدیک عمران خان کا وزیراعظم رہنا زیادہ اہم ہے۔

شیخ رشید نے سیاسی ڈانٹ بھی تحریک انصاف والوں کہ یہ کہہ کر لگائی کہ اپنے گندے کپڑے باہر نہ دھوئیں۔ ان کا اشارہ فواد چوہدری، فیصل واوڈا وغیرہ کی طرف تھا۔

شیخ رشید برملا کہتے ہیں کہ اب وہ صرف نامہ بر ہیں۔ اس لیئے انتہائی نقاہت کے عالم میں وہ جو باتیں کرکے گئے جو وہ صرف ان کی ذاتی رائے نہیں لگ رہی تھی ۔

شیخ رشید نے جاتے جاتے وزیراعظم کے مشیر ندیم بابر کی روانگی کے اشارے بھی دیدیئے ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے ایک رات پہلے پچیس روپے پیٹرول بڑھایا گیا۔ یہ حکومت کے خلاف سازش تھی۔ مافیا بیٹھے ہوئے ہیں جنہوں نے پہلے پیٹرول کی قیمت میں بہت زیادہ کمی کرائی جس کی ضرورت نہیں تھی بتدریج کمی ہونی چاہیے تھی پھر بجٹ سے ایک روز پہلے بہت۔ زیادہ اضافہ کرادیا۔ یہ سازش تھی۔ شیخ رشید اسطرح یہ بتا رہے تھے کہ اقتدار کی پیچیدہ راہداریوں میں پیٹرول کے ایشو کو ایک۔ سازش سمجھا جارہا ہے جو حکومت میں بیٹھے لوگوں نے کی ہے۔ شیخ صاحب کی یہ بات واضع اشارہ تھا اس بات کا کہ ندیم بابر مشکلات کا شکار ہیں ۔ اسلام آباد میں تو یہ بات بھی گونج رہی ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سہ ماہی مذاکرات زیر تربیت وزیر خزانہ حماد اظہر کا کریش کورس بھی ختم ہوجائے گا

وزیراعظم کی کل کے اجلاس میں سنجیدہ شکل اور آج ایک تقریب میں پراعتماد انٹری بتا رہی تھی کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔ شاید حکومت گرنے کی امید رکھنے والوں کو ابھی اور انتظار کرنا پڑے گا ۔ ہاں اس دوران کئی وزیر مشیر باہر ہوجائیں گے۔ ابھی تک یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حفیظ شیخ، ندیم بابر اور فواد چوہدری اپنی پوزیشن بچا پائیں گے یا نہیں لیکن فی الحال شاہ محمود قریشی کرونا وائرس کا شکار ہونے کی وجہ سے لائم لائٹ سے ہٹ گئے ہیں۔

پاکستانی سیاست میں ہرروز نیا موڑ آتا ہے۔ شور ہوتا ہے لیکن آخر میں پتہ چلتا ہے کہ گاڑی ابھی بھی ٹریک پر ہے۔ زرداری حکومت ہر روز ختم ہورہی تھی تو ن لیگ کی حکومت لپیٹ کر مارشل لا کی باتیں ہورہی تھیں۔ نہ سیاسی حکومتیں ختم ہوئیں نہ مارشل لا آیا۔ حکمران طبقہ کا نیا عمرانی معاہدہ یہی ہے کہ سیاسی اقتدار ختم نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں