جیت اور ہار کی امید کے ساتھ سیاسی بساط جاری، نواز شریف کا امتحان ابھی ختم نہیں ہوا

مانیٹرنگ ڈیسک : پاکستان میں سیاسی بساط میں ہر کچھ روز میں ایک ایسا موڑ آتا ہے کہ لگتا ہے کچھ ایسا ہی آج لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں انتظامی کمیٹی کے فیصلے کے بعد ہوا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ویڈیو اسکینڈل میں ملوث جج ارشد ملک کو ملازمت سے برطرف کر دیا اسکینڈل سامنے آنے پر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

مسلیم لیگ ن اور ان کے حامیوں میں تو خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔انہیں امید ہوگئی کہ اب نواز شریف کا ٹرائل قانونی طور پر متنازعہ ہوچکا ہے کیونکہ جس ویڈیو کی بنیاد پر جج صاحب کو برطرف کیا گیا ہے اس میں جج صاحب نوازشریف کو فیصلہ سنانے کے لیئے دباو کا ذکر کررہے ہیں۔اس فیصلے سے ن لیگ کے بقول یہ ثابت ہوگیا کہ نواز شریف کو سزا دباو میں سنائی گئی ہے۔

لیکن فلم یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اب نواز شریف کو ملنے والی سزا پر ایک طویل عدالتی بھاگ دوڑ شروع ہوگی۔ یعنی معاملہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔ دیگر مقدمات کے معاملات بھی موجود ہیں۔

ن لیگ کے کارکن کہتے ہیں کہ سیاسی تبدیلی کی ہوائیں چل پڑی ہیں ان کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی ٹوئٹر پر محتاط واپسی اور اب جج ارشد ملک کی برطرفی تبدیلی کی ہواووں کی طرف اشارہ ہے۔ تاہم بعض ن لیگ کے دشمن یہ کہتے ہیں کہ ان ہواووں سے حکومت کو تو کچھ نہ ہوگا البتہ ن لیگ میں اقتدار کی جنگ مزید تیز ہوجائے گی۔

یہ سزا ان کے لیئے زیادہ پریشان کن ہیں جن کے کہا جاتا ہےکہ وہ کسی کے کہنے پر استعمال ہوگئے۔ کیونکہ اب یہ پیغام ہرطرف جائے گا کہ اگر آپ استعمال ہو گئے اور کسی طرح آپ کی کمزوری پکڑی گئی تو آپ کی سپورٹ ختم ہوجائے گی اور حالات سے آپ اکیلے ہی نمٹیں گے۔

کیا یہ فیصلہ واقعی ن لیگ کو ریلیف دلائے گا یہ کہنا قبل ازوقت ہے۔ ابھی اس کہانی میں مزید موڑ آنے ہیں۔ تاہم فی الحال لیگی کارکنان کا مورال بلند ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں