یونی لیور، کوکاکولا کا بائیکاٹ، فیس بک پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور

مانیٹرنگ ڈیسک: یونی لیور، کوکا کولا سمیت متعدد عالمی برانڈز نے فیس بک کا بائیکاٹ شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے فیس بک کو اربوں ڈالر کا نقصان کا سامنا ہے۔

امریکی صدر کے غیر ذماہ دارانہ بیانات کو نہ روکنے سے شروع ہونے والی بحث اب فیس بک کے لیئے درد سر بن گئی ہے۔ دنیا بھر کی کمپنیاں مطالبہ کررہی ہیں کہ نسل پرستانہ اور غیر ذمہ دارانہ اشتہارات پر فیس بیک کنٹرول لگائے۔ جبکہ فیس بک کا موقف ہےکہ یہ اوپن فورم ہے اور سب کو اظہار رائے کی آزادی ہے۔ اس ساری بحث کے پیچھے نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات ہیں جن میں سفید فام نسل پرست نفرت انگیز بیانات کے ذریعہ مبینہ طور پر صدر ٹرمپ کے لیئے ووٹ بینک بنارہے ہیں۔

فیس بک کی اس پالیسی کی وجہ سے امریکی کمپنیوں نے فیس بک کا بائیکاٹ شروع کردیا ہے۔ یونی لیور، نے اس سال فیس بیک اور ٹوئٹر کو اشہتارات نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ ان پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد کی موجودگی ہے۔ کوکا کولا نے تیس روز کے لیئے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اشتہارات نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ کوکاکولا نے اپنے بیان میں کہا کہ نسل پرستی کی دنیا اور سوشل میڈیا میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ کوکاکولا کا بڑا بیان ہے جس کےک بعد دیگر کمپنیاں بھی سپورٹ میں سامنے آرہی ہیں۔

کمپنیوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے فیس بک کے شیئرز میں جمعہ کے روز آٹھ فیصد کمی واقع ہوئے

اب فیس بک نے اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے کہ وہ نفرت انگیز بیانات یا اشتہارات کو لیبل کرے گا۔ تاکہ پڑھنے والوں کو پتہ کہ یہ کس قسم کا مواد ہے۔

فیس بک نے کہا کہ ایسی فیس بک پوسٹس جو فیس بک کی پالیسی پر پورا نہیں اترے گی اس کے لیئے فیس بک ایک لیبل لگائے گا جس پر لکھا ہوگا کہ یہ فیس بک پالیسی پر پورا نہیں اترتی لیکن اس میں پڑھنے کے لیئے خبرموجود ہے۔اسطرح فیس بک امریکی صدر کے بیانات پر کنٹرول لگا سکے گا۔ یہ لڑائی ٹوئٹر پر امریکی صدر کے بیانات پر چیک لگانے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ ٹوئٹر کی امریکی صدر ٹرمپ نے شدید مخالفت کی تھی جبکہ فیس بک نے اپنی پالیسی تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم امریکی کمپنیوں کے دباو کے بعد فیس بک اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور ہوگیا ہے

فیس بک کے خلاف مہم چلانے والے گروپ کا نام اسٹاپ ہیٹ فار پرافٹ یعنی منافع کے لیئے نفرت پھیلانا بند کرو ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں