امریکی اخبارکا دعوی: طالبان کو روسی خفیہ ایجنسی مدد کرہی ہے، پینٹاگان مکمل انخلا کے مخالف ہوگیا

مانیٹرنگ ڈیسک: ایک امریکی اخبار نے انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکی فوجیوں پر حملے کے لیئے طالبان کو روسیی خفیہ ایجنسی کی مالی مدد حاصل ہے۔ اخبار کے مطابق پینٹاگان افغانستان میں پانچ ہزار تک فوجی رکھنے کے لیئے ٹرمپ پر دباو ڈال رہا ہے

امریکی انٹیلی جنس کی کلاسفائیڈ روپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس کی خفیہ ایجنسی کا جی آر یو نامی ایک خصوصی یونٹ افغانستان میں طالبان کو مدد فراہم کررہا ہے۔ یہ مدد افغانستان میں موجود امریکی افواج پر حملے کے لیئے فراہم کی جارہی ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق یہ انٹیلی جنس کی کلاسیفائیڈ رپورٹ کو وائٹ ہاوس بھیج دیا گیا ہے تاہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ابھی تک یہ رپورٹ نہیں پڑھی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ نے دعوی کیا ہے کہ صدر ٹرمپ تمام امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلانا چاہتے ہیں لیکن پینٹاگان اس تجویز کی سختی سے مخالفت کررہا ہے۔ پینٹاگان کا مطالبہ ہے کہ پانچ ہزار تک امریکی فوجی افغان حکومت کی سپورٹ کے لیئے رکھے جائیں۔ پینٹاگان کی مخالفت کے بعد وائٹ ہاوس اور پینٹاگان کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف روسی خفیہ ایجنسی کی مداخلت کے دعوے کو روسی وزارت خارجہ نے مسترد کردیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے اس رپورٹ کو پروپیگنڈا قرار دیا ہے جبکہ طالبان کے نمائندوں نے امریکی اخبار کو بتایا کہ طالبان کسی ملک سے مدد نہیں لے رہے ہیں انہوں نے اس رپورٹ میں کیئے گئے دعووں کی تردید کی ہے۔

یہ رپورٹ افغان جنگ کا مطالعہ کرنے والوں کے لیئے یقینی طورپر دلچسپ ہے کیوں کہ تیس سال بعد امریکا وہاں کھڑا ہے جہاں اسوقت کا سویت یونین اور آج کا روس کھڑا ہے۔ اس رپورٹ میں جو الزام روس پر لگایا گیا ہے وہی الزام اسوقت کا سویت یونین اور آج کا روس امریکہ پر لگاتا تھا۔ امریکی سی آئی اے کی براہ راست افغان مجاہدین کی مدد پر کئی رپورٹیں، فلمیں اور ڈاکو مینٹریز منظر عام پر آچکی ہیں۔ امریکیوں کا دعوی رہا ہےکہ افغانستان میں روسیوں کو شکست دیکر ہی سویت یونین کا خاتمہ کیا گیا تھا۔

اگر یہ رپورٹ درست مان لی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ روسی صدر پیوٹن جو سویت یونین کی خفیہ ایجنسی کے جے بی اہم رکن رہے انہوں نے امریکی حکمت عملی امریکا پر ہی آزما دی ہے۔ اگر یہ رپورٹ مان لی جائے تو اٹھارہ سال کی مسلسل جنگ کے بعد افغانستان سے امریکا اسی طرح نکلنا چاہتا ہےجسطرح سویت یونین انیس سو اسی کے آخر میں افغانستان سے نکلا تھا۔ لیکن کیا امریکا کے افغانستان سے نکلنے کے وہی اثرات ہوں گے جو سویت یونین پر پڑے تھے یہ کہنا قبل ازوقت ہے۔ لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ جیسے افغانستان سے نکلتے وقت سویت یونین کی معیشت تباہی کے دہانے پر تھی اور ان کی فیڈریشن کمزور ہوچکی تھی اسی طرح اسوقت امریکی معیشت کو بحران کا سامنا ہے جبکہ نسل پرستانہ فسادات کے بعد وہاں پر فیڈریشن کو کئی مشکلات درپیش ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں