پیٹرول کی قیمت 100روپے10 پیسے، پیٹرول کا گیم کیا ہے؟

بزنس رپورٹر اسلام آباد سے: حکومت نے فوری طور پر پیٹرول کی قیمت بڑھا کر 100روپے دس پیسے مقرر کردی ہے۔ دیگر پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھائی گئی ہیں۔ قیمتوں میں فوری اضافے کے بعد پیٹرولیئم کمپنیوں کی شکایت دور ہوگئی ہے

پیٹرول کی قیمت میں 25روپے 58پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت 21 روپے 31پیسے بڑھا دی گئی ہے۔ڈیزل کی نئی قیمت 101روپے46پیسے مقرر کی گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں 23روپے50پیسے فی لیٹر اضافہ۔

پاکستان میں اس ماہ پیٹرول کی قیمت میں زبردست کمی کے بعد یکایک پیٹرول کا بحران پیدا ہوگیا تھا ۔ حکومت نے تحقیقات کرائیں تو ابتدائی رپورٹ سے پتہ چلا کہ پیٹرول کا بحران مصنوعی طور پر کھڑا کیا گیا ہے۔

دوسری طرف وزیراعظم کے مشیر برائے پیٹرولیئم ندیم بابر نے عین اسوقت جب تیل کی قیمتیں عالمی سطح پر کریش ہوچکی تھیں پاکستان میں پیٹرول کی امپورٹ پر پابندی لگا دی۔ اسطرح پاکستان سستا ترین پیٹرول خریدنے سے محروم ہوگیا۔ جیسے ہی قیمتیں عالمی سطح پر اوپر جانا شروع ہوئیں ندیم بابر نے پیٹرول کی امپورٹ پر پابندی ختم کردی

اسی دوران ڈالر کی سطح کو رفتہ رفتہ اوپر لے جایا گیا۔ ڈالر صرف تیس روز میں سات روپے مہنگا ہوگیا۔ یہ 160روپے سے 167روپے 66پیسے تک پہنچ گیا۔

ان دو وجوہات کی وجہ سے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت سستی رکھنا ممکن نہ رہا اور اب پیٹرول کی قیمت یکایک پچیس روپے بڑھانا پڑی۔ یہ بھی انوکھا واقعہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ مہینہ ختم ہونے سے چار روز پہلے کیا گیا ہے۔ اسطرح چار روز کے دوران ہونے والی خرید کا منافع کمپنیوں کے جون کی بیلنس شیٹ میں جائے گا۔

پیٹرول کی قیمت مہنگی ہونے کے بعد ملک میں مہنگائی بڑھے گی اسطرح شرح سود میں کمی کا رحجان اب جاری رکھنا حکومت کے لیئےممکن نہ ہوگا۔ وہ معاشی بحالی پیکیج جو وزیراعظم نے تیار کرایا تھا اپنا اثر دکھانے سے پہلے ہی متاثر ہوتا نظر آتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں