اسامہ بن لادن شہید؟امریکا پر تنقید، وزیراعظم کی اسمبلی میں تقریر کا اصل ٹارگٹ کون تھا؟

تجزیہ فرحان رضا: ایک ایسے وقت میں جب وزرا کے درمیان اختلافات کی خبریں گردش میں ہیں، حکومت کے اتحادی ساتھ چھوڑ رہے ہیں، وزیراعظم نے جمعرات پچیس جون کو اسمبلی کے فلور پر اپنے خطاب میں پہلی بار اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا اور امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔؎

وزیراعظم نے ایسی کوئی بات نہیں کہی جو اس سے پہلے ان کے موقف کا حصہ نہ رہی ہو۔ انہوں نے اسامہ بن لادن کو کبھی دہشتگرد نہیں کہا۔ اور نہ ہی وہ طالبان کو کبھی دہشتگرد سمجھتے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ زبردستی کی مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے لوگ اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ۔ ٹی وی اینکر وسیم ۔ بادامی نے وزیراعظم کے بیان کا کلپ بھی ٹوئٹ کیا جو انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے دیا تھا۔ جب وسیم بادامی نے پوچھا کہ کیا آپ اسامہ بن لادن کو دہشتگرد مانتے ہیں تو عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی کے لیئے جو دہشتگرد ہوتا ہے وہ کسی اور کے لیئے فریڈم فائٹر ہوتا ہے

https://twitter.com/WaseemBadami/status/1276132567998173184

یہی موقف تھا جو آج وزیراعظم نے اپنی تقریر میں اپنایا۔ ان کے الفاظ تھے ’ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا اور ہمیں ذلت اٹھانی پڑی۔۔۔دو ایسے واقعات ہیں جس سے ہم سب شرمندہ ہوئے۔ ایک واقعہ ہے اسامہ بن لادن کو ایبٹ آاباد میں امریکا نے آکر مار دیا ، شہید کردیا۔” یہ شاید پہلی بار ہے کہ وزیراعظم نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا اور وہ بھی قومی اسمبلی کے فلور پر اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا۔

اس تقریر میں انہوں نے واضع کردیا کہ اسامہ بن لادن وزیراعظم عمران خان کے لیئے دہشتگرد نہیں ہے۔ اس طرح انہوں نے اپنا ووٹ بینک دوبارہ متحد کرلیا ۔ اس کا وزیراعظم کو فائدہ سیاسی میدان میں اسوقت بھی ہوگا جب خدانخواستہ ان کی حکومت پر برا وقت آتا ہے کیونکہ اس وقت وہ کہہ سکتے ہوں گے کہ انہیں امریکا کی مخالفت پر ہٹایا گیا۔

انہوں نے ڈرون حملوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ عمران خان اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران ڈرون حملوں کے خلاف لانگ مارچ بھی کرچکے ہیں ۔ اس لیئے یہ موقف بھی ان کا نیا نہ تھا۔ انہوں نے آج تقریر میں ایڈمرل مولن کی امریکی سینٹ میں دیئے گئے بیان کا حوالہ دیا۔ انکا کہنا تھا کہ ایڈمرل مولن نے امریکی سینیٹ کو بتایا کہ پاکستان میں ڈرون حملے پاکستانی حکومت کی مرضی سے ہوتے ہیں۔ پاکستانی قیادت کو اپنے عوام کو اس بات سے آگاہ کرنا چاہیے۔

جب یہ بات بھی نئی نہیں تھی تو آج اپنی خارجہ پالیسی پر تقریر کا آغاز بھارت ، مقبوضہ کشمیر سے کرنے کے بجائے امریکی پالیسی پر کیوں کیا گیا۔ جہاں ایک وجہ اپنا سیاسی ووٹ بینک مضبوط کرنا تھا وہیں یہ پیپلز پارٹی پر سب سے کاری وار تھا۔ اسامہ بن لادن کے لیئے ایبٹ آباد آپریشن اوردہشتگردوں کے خلاف ڈرون حملے بھی پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہورہے تھے جب آصف زرداری صدر پاکستان تھے۔

وزیراعظم نے اسامہ بن لادن اور ڈرون حملوں پر جنرل مولن کے بیان کا حوالہ دیکر پیپلز پارٹی کو نئی بحث میں پھنسا دیا ہے۔ لیکن دانستگی میں یا نادانستگی میں وہ اس وقت کی فوجی قیادت کو بھی بحث میں گھسیٹ کر لے آئے ہیں۔ ایبٹ آباد آپریشن اور ڈرون حملوں کے دور میں جنرل کیانی فوج کی قیادت کررہے تھے

وزیراعظم کی یہ تقریر پاکستان مخالف بھارتی میڈیا کو یقینی طور پر خاصہ موادفراہم کرتی ہے۔ بھارتی میڈیا پاکستان پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کو بار بار دہرائے گا اور امریکا اور یورپ میں انہیں مارکیٹ کرے گا۔ وزیراعظم کا یہ بیان شاہ محمود قریشی کے لیئے بڑی مشکلات کھڑی کرے گا۔ اب امریکا اور اس کے اتحادی پاکستان سے مطالبہ کرسکتے ہیں کہ اسامہ بن لادن پر باضابطہ طور پر سرکاری موقف دیا جائے۔ اگر پاکستان سرکاری طور پر اسامہ بن لادن کو شہید مانتا ہے تو پھر عالمی سطح پر پاکستان کو القاعدہ سے جوڑنے کی تھیوریز مضبوط ہوں گی۔ اور اس کے اثرات پاکستان کی سفارتی، تجارتی اور معاشی پالیسیوں پر پڑیں گے۔ اور اگر سرکاری طور پر پاکسستان اس موقف کی حمایت نہین کرتا تو ریاست اپنے ہی وزیراعظم کے خلاف کھڑی ہوئی نظر آئے گی۔

کیا عمران خان نے یہ پوائنٹ اٹھایا ہی اسی لیئے ہے کہ اگر اقتدار سے علیحدگی کی وجہ بنے تو ایسا نکتہ بنے جو ان کے دائیں بازو کا ووٹ بینک مضبوط کرسکے؟

ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کے چاہنے والے بھی ان کی حکومت گرنے کی وجہ بھٹو کی امریکا مخالف پالیسیوں کو قرار دیتے تھے۔ ان کی رائے ہوتی تھی کہ بھٹو نے روس سے تعلقات بڑھا کر اور ساتھ ہی او آئی سی بنا کر امریکا کو ناراض کیا تھا ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ روس سے تعلقات ایک سطح سے آگے نہ بڑھ سکے تھے اور او آئی سی کبھی بھی امریکا مخالف اتحاد نہیں بنا بلکہ امریکہ اور سویت یونین کی افغانستان میں ہونے والی پراکسی جنگ میں امریکا کا صف اول کا اتحادی تھا۔

پیپلز پارٹی کا البتہ عمران خان کے بیان کے بعد مغربی ممالک میں کیس مضبوط ہوگیا ہے۔ انہیں یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہتر ساتھی وہی ہوسکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی پہلے بھی امریکا اور یورپ میں ن لیگ اور تحریک انصاف کو رجعت پرست جماعتیں قرار دیکر اپنے مخالف کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔

وزیراعظم تو خارجہ پالیسی پر بیان دے گئے۔ اس کا جواب اب وزارت خارجہ کو بڑے عرصے تک دنیا کو دینا ہوگا۔ اس کے پاکستان پر دور رس اثرات ہوں گے۔ صاف لگ رہا ہے کہ عالمی سطح پر اس بیان کی گونج کافی عرصے تک سنی جاتی رہے گی اور پاکستان پر یہ بیان کافی عرصے تک اثرات مرتب کرتا رہے گا

نوٹ: فرحان رضا کیفے پیالہ ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں ، گذشتہ چوبیس سال سے صحافت سے وابستہ ہیں اور کئی قومی سطح کے اخبارات اور نیوز چینلز سے وابستہ رہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں