امریکا نے ٹیرر فنانسنگ کرنے والے 4بھارتیوں کو اقوام متحدہ میں سپورٹ فراہم کردی

انس ملک اسلام آباد سے: کیا امریکا بھی ٹیرر فنانسگ کرنے والوں کو سپورٹ کرسکتا ہے؟ تو جواب ہے ہاں۔ امریکا نے انیس جون کو ٹیرر فنانسنگ کرنے والے ایک بھارتی شخص کا نام بلیک لسٹ کرنے کی اقوام متحدہ میں مخالفت کردی۔

وزارت خارجہ کے مطابق وینو مادیو ڈونگرا، اجے مستری، گوبندا پٹنائیک اور انگارا پاجی کے نام اقوام متحدہ کو ثبوتوں کے ساتھ دیئے۔ ٹیرر فنانسنگ کرنے والے چار بھارتیوں کے نام پاکستان نے گذشتہ سال ثبوت کے ساتھ اقوام متحدہ کو بھجوائے تھے۔ یہ بھارتی اے پی ایس جیسے ہولناک واقعات سمیت دہشتگردی کے کئی واقعات میں ملوث تحریک طالبان اور جماعت الحرار سمیت دیگر دہشتگرد تنظیموں کو پاکستان میں دہشتگردی کے لیئے فنانسنگ کررہے تھے ساتھ ہی دیگر ٹیکنیکل سپورٹ بھی فراہم کرتے ہیں۔ زرائع کے مطابق یہ چاروں افغانستان سے آپریٹ کررہے تھے افغانستان سے پکڑے گئے لوگوں نے ان کی تفصیلات دی تھیں۔ کئی پکڑے گئے دہشتگردوں نے ان چاروں کے نام بتائے تھے کہ یہ دہشت گردی کے لیے رقم سے لیکر اسحلہ اور گولہ بارود بھی فراہم کرتے تھے۔ چاروں موقع پاکر بھارت واپس چلے گئے اور وہاں سے اب نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ ۔پاکستان نے اقوام متحدہ کی دہشتگردوں کی فہرست میں ان چاروں کے نام شامل کرنے کے لیئے گذشتہ سال رپورٹ بھیجی تھی۔ تاہم امریکا نے وینو مادیو کے نام کو دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرنے پر اعتراض کیا اور اس نام کو بلیک لسٹ ہونے سے روک دیا۔

وزارت خارجہ نے امریکی اقدام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے اس عمل سے شدید مایوسی ہوئی ہے۔

امریکا نے یہ سپورٹ ایسے موقع پر کی ہے جب بھارت کو سیکوریٹی کونسل کا عارضی ممبر بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف چین اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی ہے جس میں امریکا اسوقت بھارت کو سپورٹ کررہا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ افغانستان سے امریکی انخلا کے لیئے امریکا کو پاکستان کی ضرورت ہے اسی لیئے پاکستان کے تعاون سے امریکا طالبان مذاکرات ممکن ہوئے ہیں۔ اس پس منظر میں امریکا کس قدر دیر تک باقی تین ناموں کو دہشتگردی کی فہرست میں جانے سے روک سکتا ہے اس کا اندازہ کچھ روز میں ہوجائے گا۔

عالمی سطح پر چلنے والی مختلیف تھیوریز میں عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں جاری دہشتگردی میں بھارتی پراکسی شامل ہیں جن میں تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر گروپ ہیں ۔انہیں افغانستان کے ذریعہ ہینڈل کیا جاتا ہے جس کے لیئے بھارت نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ متعدد قونصل خانے کھول کر نیٹ ورک بچھایا ہے۔ ماضی میں پاکستانی حکام ان قونصل خانوں پر اعتراض کرتے رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ تھیوری بھی تیزی سے بعض سیاسی حلقوں میں گردش کرتی ہے کہ امریکا بھی بھارتی پراکسی حکمت عملی کو سپورٹ کررہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ امریکا کے اس اقدام کے بعد اس تھیوری کو تقویت ملے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں