عقیل کریم ڈھیڈی سوشل میڈیا کی زد میں

بعض افراد کو زبردستی ہر تنازعے میں گھسیٹا جاتا ہے ان میں ایک نام عقیل کریم ڈھیڈی کا ہے یہ مارکیٹ میں عقیل بھائی یا سیٹھ کے نام سے جانے جاتے ہیں مارکیٹ گر رہی توعقیل بھائی نے گرائی ہے اگر اوپر جارہی ہے تو بھی عقیل بھائی پیچھے ہیں ۔ لگتا ہے پوری مارکیٹ ہی عقیل بھائی کے گرد ہے باقی نام جہانگیر صدیقی عارف حیبیب سے لیکر لاہور اسلام آباد تک کے اسٹاک بروکرز یاپھر بڑے بڑے فنڈ مینجرز تو کچھ نہیں کرتے صرف تماشا دیکھتے ہیں۔ عقیل بھائی سے ملنے والے کہتے ہیں ملاقات میں عقیل بھائی کا یہ سوال لازمی ہوتا ہے “آپ کو مارکیٹ کیسی لگ رہی ہے”۔

اسوقت عقیل کریم ڈھیڈی سوشل میڈیا کی زد پر ہیں جس کی وجہ ہے ان کی وزیراعظم سے ملاقات اور اسپورٹس بورڈ کی ممبرشپ کا ملاقات میں ذکر ہونا۔ ان کی تصویر لگی تو سب نے پہلے اس ملاقات کو نشانہ بنایا پھر کہا کہ اس ملاقات کے نتیجہ میں انہیں اسپورٹس بورڈ کا رکن بنادیا ہے۔یہ سب لوگ دو باتوں سے قطعی ناواقف تھے

پہلی بات یہ کہ عقیل کریم ڈھیڈی دو سال سے اسپورٹس بورڈ کے ممبر ہیں اور گپ شپ میں یہی بات وزیراعظم کو بتائی کہ میں دوسال سے ممبر ہوں ۔ سن کر لکھنے والے اور وزیراعظم کے خلاف مہم میں سرگرم افراد نے اسے ایسا پیش کیا جیسے یہ نیا واقعہ ہے۔ اس پر ایسے ایسے افراد کمنٹ کررہے تھے جن کے بارے سمجھا جاتا تھا کہ یہ پڑھے لکھے ہیں لیکن سچی بات ہے سمجھنا اور کسی کا ایسا ہونا دو مختلیف باتیں ہیں۔ دنیا بھر میں مالدار لوگوں کو کھیلوں کی سرگرمیوں میں فنانسرز کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اسپورٹس رپورٹر اس بات سے واقف ہیں

دوسری بات اڑی کے ایک بزنس میں کے ساتھ کھانا کھایا۔ عمران خان وزیراعظم بننے سے پہلے بھی جب کراچی آتے تو ایک لنچ یاڈنر اے کے ڈی کے گھر پر لازمی ہوتا۔ان کا یہ تعلق شوکت خانم اسپتال کی لانچنگ کے وقت سے ہے۔ کراچی کے بزنس کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی اس سے باخبر ہیں۔ بزنس کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی اس بات کی تصدیق فیس بک کی پوسٹوں اور کمنٹس میں کررہے اور ان سب پر ہنس رہے جو اس ملاقات کو انوکھی کہہ رہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں