کرونا وائرس کمزور پڑ رہا ہے، اٹلی کے وائرس اسپیشلسٹ کا دعوی

کراچی (نیوز ڈیسک) اٹلی کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس دنیا بھر میں کمزور پڑ رہا ہے اب اسی نوے سال کے مریض بھی اسٹریچر پر نہیں آرام سے کرسی پر آتے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ ویکسین آنے سے پہلے ہی یہ وائرس اپنی موت آپ مر جائے گا۔ 

ڈاکٹر میٹیو بسیٹی سان مارٹینو اسپتال میں کام کرتے ہیں انہوں نے ٹبوت کے طور پر اسپتالوں میں آانے والے مریضوں کی صورتحال پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مارچ اپریل میں ایمرجنسی وارڈ میں انہوں نے کہا کہ مارچ اور اپریل مجو لوگ آرہے تھےا ن کی جان بچانا مشکل ہورہا تھا کیونکہ انہیں آکسیجن کی سخت ضرورت ہوتی تھی۔ لیکن مئی سے صورتحال میں تبیلی آنا شروع ہوئی۔80؍ اور 90؍ سال تک کے بوڑھے افراد بھی اب بیڈ پر لیٹنے کی بجائے کرسی پر بیٹھ کر بغیر کسی مدد کے سانس لے رہے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ سماجی فاصلے کی حکمت عملی کی وجہ سے لگتا ہے وائرس جینیاتی طور پر تبدیل کمزور پڑ گیا ہے اور اس میں اب زیادہ جان باقی نہیں

قوت مدافعت کا اہم کردار

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے کمزور پڑنے کی بڑی وجہ لوگوں کی توجہ قوت مدافعت بڑھانے پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کو سمجھ میں آگیا ہے کہ کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا ہے۔ وٹامن سی سمیت دیگر وٹامن کیوں ضروری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے فیز میں پھیلاو سے روکنے کی تشہیر کی گئی لیکن سب بڑا کام دوسرے فیز میں ہوا جب لوگوں کو علم ہوا کہ صحتیاب ہونے والے لوگوں کو کیا دوا دی گئی اور کس قسم کا علاج تجویز کیا گیا۔ اس وقت دنیا بھر میں لوگ پیناڈول سمیت دیگر برانڈز کی پیرا سیٹامال، وٹامن سی کثرت سے استعمال کررہے ہیں۔ جب کے صورتحال بگڑنے پر اسٹیروائڈ بھی دیئے جارہے ہیں۔ نمونیا سے بچنے کے تمام اقدام کیئے جارہے ہیں۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سماجی فاصلہ اور قوت مدافعت بڑھانے سے اس وائرس کو فوری شکست دی جاسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں