نیب، ایف آئی اے کو جہانگیر ترین، مونس الہی سمیت تمام شوگر مل مالکان کی انویسٹی گیشن کا اختیار مل گیا

اسلام آباد: نیب اور ایف آئی اے اب جہانگیر ترین، مونس الہی، خسرو بختیار کے بھائی سمیت دیگر شوگر مل مالکان کی انویسٹی گیشن کرسکیں گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوگر مل مالکان کو دیا گیا امتناع ختم کردیا ہے۔

شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف شوگر مل مالکان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرکے حکم امتناع حاصل کیا تھا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شوگر مل مالکان کی درخواست سنی۔ جس کے بعد آج مختصر فیصلہ دیتے ہوئے تحقیقاتی اداروں کو رپورٹ مل مالکان کے خلاف کارروائی کی اجازت دیدی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے مل مالکان کو دیا گیا حکم امتناع ختم کردیا

شوگر انکوائری کمیشن میں جن کمپنیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ان کمپنیوں میں جہانگیر ترین کی جے ڈبلیو اور آر وائی کے گروپ شامل ہیں۔ آر وائی کے گروپ کےمالکان میں مونس الہی اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی بھی شریک ہیں

نیب اور ایف آئی اب ان مالکان کو تحقیقات کے لیئے بلا سکتے ہیں اور گرفتار بھی کر سکتے ہیں۔ جہانگیر ترین اسوقت لندن میں مقیم ہیں۔

اسلام آباد کی عدالت کے فیصلے کے بعد حکومت کے لیئے ایک سیاسی امتحان بھی شروع ہوگیا ہے کیونکہ جہانگیر ترین کے حامی ارکان اسمبلی کی خاصی بڑی تعداد حکومتی جماعت میں موجود ہے۔ دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں سب سے بڑی اتحادی ق لیگ ہے جس کے سربراہ پرویز الہی ہیں۔ مونس الہی چوہدری پرویز الہی کے صاحبزادے ہیں۔ دوسری طرف سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے منسوب کیئے جانیوالے اومنی گروپ کے پاس بڑی تعداد میں شوگر ملیں ہیں۔

آئندہ ہفتے جہاں چینی کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوں گے وہیں سیاسی اثرات بھی نظر آئیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں