چین کی بھارتی سپاہیوں کی پٹائی، بھارتی میڈیا کی ’معاف کردو‘ کوریج

تجزیہ سید مدثر رضوی: ہر وقت چیختے چنگھاڑتے بھارتی میڈیا کا گلہ دو دن سے بیٹھا ہوا ہے۔ آنکھوں میں آنسو ہیں اور بار بر کہہ رہے ہیں ’ہم کا معافی دیدو ہم سے بھول ہوگئی‘۔۔ بھارتی میڈیا کی ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے کی ٹی وی کوریج اس وقت سے جاری ہے جب چین کے سپاہیوں نے بھارتی فوج کو لاتوں گھونسوں سے مار مار کر قتل کردیا۔ ایک کمانڈنگ افسر سمیت بیس سپاہی مارے گئے۔

بھارتی میڈیا کی الٹرا نیشنل ازم اور مہان بھارت ماتا اسٹائل کی کوریج سے کون واقف نہیں ہے۔ ایک واقعہ ہوا نہیں الزام فوری طورپر پاکستان پر عائد کردیا جاتا ہے اور اینکرز سے رپورٹرز تک چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ بھارت کو سخت ردعمل دینا چاہیے۔ سرجیکل اسٹرائیک جیسی اصطلاحات کو استعمال کرتے ہیں۔ گو کہ بعد میں جب پتہ چلتا ہے کہ دہشتگردی خود انہی کی سیکرٹ ایجنسی نے کروائی تھی تو پھر خاموشی اختیار کی جاتی ہے جیسے کہ سمجھوتہ ایکسپریس پر کی گئی۔

لیکن اس بار بھارتی میڈیا کا گلہ بیٹھا ہوا ہے۔ مشہور اینکر رجت شرما ٹی وی ٹوڈے پر آنسووں سے لبریز آنکھوں اور رندھے ہوئے گلے سے پوچھتے ہیں آخر چین نے ایسا کیوں کیا؟ تو ہر وقت سپر ہیرو بننے کے شوقین ارنب گوسوامی اپنے پروگرام کی ہیڈ لائن لگاتےہیں چین ہمارے یہاں سےنکل جاو

ارنب گوسوامی کا چینل بی جے پی کی فنڈنگ پر چلتا ہے اس لیئے اسے اندر کی بات معلوم ہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب حملے کی خبر آئی تو ارنب نے اپنی ایڈیٹوریل لائن چین پر حملے کی نہیں رکھی بلکہ چائنا گیٹ آوٹ کی ٹیگ لائن رکھی ۔ جس کا مطلب تھا خود چلے جاو ہم کچھ نہین کرسکتے۔

ٹائمز ناو کے پروگرام سے سینئر ڈپلومیٹ اٹھ کر چلے جاتے ہیں کیونکہ اینکر بار بار سوال کررہے ہیں کہ بھارتی فوج نے مار کیوں کھائی۔

سینہ پھلائے اینکرز نے اپنی فوج سے مار کھانے کی وجوہات تو پوچھنی شروع کردی ہیں لیکن ساتھ میں یہ بھی کہتے جارہے ہیں کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ جی ہاں ہروقت پاکستان سے جنگ کے نعرے لگانے والے جنگ نہ کرنے کی باتیں کررہے ہیں وجہ سادہ سی ہے۔ چین کی طاقت کو بھارتی جانتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں پاکستان کے ہاتھوں اپنا طیارہ تباہ کرواکر اور ابھی نندن کو ہاتھ جوڑ کو واپس لینے والی بھارتی حکومت کو پتہ کہ اگر جنگ ہوئی تو چین لداخ ہی نہیں بہت سے اور علاقے بھی لے لے گا۔ بھارتی معیشت کا پٹھہ بیٹھ جائے گا اور بھارت کے کئی صوبوں میں سول وار شروع ہوجائے گی۔ آسام کو جوڑے رکھنا بھارت کے لیئے ناممکن ہوجائے گا۔

مودی سرکار نے جس بھارتی الٹرا نیشنل ازم کی بنیاد پر اقتدار سنبھالا اور مضبوط بھارتی فوج کا بت تراشا وہ بت پہلے پاکستان نے فروری میں توڑا اور اب چین نے ہاتھوں گھونسوں سے مار مار کر اسے اکھاڑ پھینکا ہے۔

بھارت اپنی سبکی مٹانے کے لیئے پاکستان کی طرف شرانگیزی کرسکتا ہے لیکن اس بار کہانی مختلیف ہے۔ شاید یہاں بھی اسے لاتوں گھونسوں کا سامنا کرنا پڑے۔

بھارتی سرکار یہ سمجھنے سے قاصر نظر آتی ہے کہ الٹرا نیشنلزم اس کی ریاست کے کئی ٹکڑے کردے گا۔ دنیا کی جنگیں الٹرا نیشنلزم کو اجاگر کرکے نہیں لڑی جائیں گی بلکہ اس کے لیئے اسمارٹ حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔ اسکےلیئے اتحادوں کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ اسوقت بھارت کا انحصار امریکا پر ہے لیکن امریکا کوسوں دور ہے۔ وہ اس خطے سے نکلنا چاہتا ہے تو وہ کس لیئے بھارت کی جنگ میں اپنے فوجی گنوائے گا؟ پاکستان نے امریکا کی دوستی کی سزا اکہتر میں پالی تھی۔ اس بار کہانی مختلیف ہے اس بار پاکستان کا جس ملک کے ساتھ اتحاد ہے اس کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے اس کا معاشی مفاد بھی پاکستان سے ملتا ہے۔

اگر بھارت نے پاکستان کی طرف یا چین کی طرف ایڈوینچر کیا تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ امریکی بیڑا کبھی بھی وقت پر مدد کے لیئے نہیں پہنچتا۔ لہذا جو ہوگا اس کا اندازہ لگانا بھارتی سینا کے لیئے مشکل نہیں ہے۔

سید مدثر رضوی فلسفہ اور سیاسیات میں ماسٹرز ڈگری رکھتے ہیں۔ ملکی اور خطے کی صورتحال پر ان کی گہری نظر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں