کرونا وائرس کے علاج کی سستی ترین دوا پاکستان کی مارکیٹوں سے غائب

کراچی: جیسے ہی برطانوی حکومت نے ڈیکسا مایتھوسین کو کرونا وائرس سے بچاو کی کامیاب دوا قرار دیا، پاکستان کی مارکیٹوں سے یہ دوا غائب کردی گئی

ڈیکسامایتھوسین نامی دوا کا انجکشن اور گولیاں100روپے سے 200روپے کے درمیان دستیاب تھیں ۔ یہ دوا دمہ کے مریضوں کی دی جاتی ہے۔ لیکن اب یہ دوا کراچی اور لاہور کی مارکیتوں سے غائب ہوچکی ہے۔ پاکستان میں تیار ہونے والی یہ دوا کس نے راتوں رات مارکیٹوں سے غائب کی یہ جاننا مشکل نہیں ہے۔ اس وقت پاکستان میں ترانوے ہزار سے زائد کرونا کے مریض زیرعلاج ہیں۔

برطانیہ کی ڈسکوری

برطانیہ میں سائنسدانوں نے عالمی وباء کورونا کےعلاج کی سستی دوا دریافت کرلی، برطانوی میڈیا کے مطاابق ڈیکسا مایتھوسین دوا سے وینٹی لیٹر پر کئی مریض صحت یاب ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیکزامیتھوسین دوا سے وینٹی لیٹر پر ایک تہائی مریض صحت یاب ہوگئے، اس دوا کے استعمال سے کورونا مریضوں کی اموات کی شرح میں کمی آئی ہے۔

ڈیکسامایتھوسین کیا کرتی ہے؟

یہ دوا ایک قسم کا اسٹرائیڈ ہے جو دمے کے مریضوں کو دیا جاتا ہے جس سے ان کے پھیپھڑوں کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔ یہ دوا امیون نظام کو سپورٹ کرتی ہے۔ لیکن طویل استعمال سے خاصے منفی اثرا بھی ہوتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وائرس سے نمٹنے کے لیئے انسان کا امیون سسٹم ہی بہترین طریقہ علاج ہے۔ یہ دوا وہ طاقت فراہم کرتی ہے جس سے امیون سسٹم وقتی طور پر مضبوط ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس بار بار سامنے آئے گا اور اس سے نمٹنے کے لیے لوگوں کو اپنی غذا کو بہتر بنانا ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ پھلوں کا استعمال امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت کو مضبوط کرے گا۔ اس وائرس کا ابھی تک چودہ دن کا سائیکل ہے۔ جیسے کہ فلو کا تین سے سات دن کا سائیکل ہوتا ہے۔ لیکن اس دوران کمزور قوت مدافعت والے افراد کے پھییپھڑے متاثر ہوجاتے ہیں جو جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیٰں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں