ڈان ڈاٹ کام: فیک نیوز بنانے والوں کا پسندیدہ اخبار

کراچی: پاکستان میں فیک نیوز بنانے والوں نے اگر کسی اخبار کو ہدف بنایا ہے تو وہے ڈان اخبار جس کی ویب سائٹ ڈان ڈاٹ کام کے اسٹائل کو متعدد بار فیک نیوز کے لیئے استعمال کیا گیا۔

حال ہی میں ایک فیک نیوز بعض جگہ شیئر ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ایک ایف سولہ طیارہ غائب ہوگیا ہے۔ اور یہ خبر لگانے والے نے ڈان ویب سائٹ کی تصویر لگائی۔ ڈان کی انتظامیہ نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے اسے فیک نیوز قرار دیا اور اس کے جعلی ہونے کی وجوہات بھی بیان کیں۔

ڈان نیوز پیپر کا کہنا تھااس میں جو فونٹس استعمال کیئے اس نے خبر کا جعلی ہونا ثابت کیا۔ ڈان نیوزکا کہنا ہے کہ فیک نیوز بنانے والے نے سین سرف فونٹ استعمال کیا جبکہ ڈان صرف سرف فونٹ استعمال کرتا ہے۔اسی طرح ہیڈ لائن اور رپورٹر کے درمیان جو لائن ہے وہ ڈان کالے رنگ کی لگاتا ہے جبکہ فیک نیوز میں یہ گرے کلر کی لگائی گئ۔اسی طرح لوگو کے نیچے کا فونٹ بولڈ ہے جبکہ ڈان نیوز کی ویب سائٹ پر یہ لوگو بولڈ نہیں ہوتا

ویسے تو ڈان نے صرف وضاحت کے لیئے بتایا کہ کس وجہ سے یہ اسکرین شاٹ فیک خبر کا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ فیک نیوز بنانے والوں کو یہ بھی بتا دیا کہ آئندہ کن باتوں کا خیال رکھیں۔

ڈان ڈاٹ کام کے مطابق اپریل میں فیک نیوز فیکٹریوں نے ڈان کے جعلی اسکرین شاٹس بنا کر یہ خبر سوشل میڈیا پر پھیلائی کہ آرمی چیف کو کرونا ہوگیا ہے۔

اکتوبر 2018میں فیک نیوز بنانے والوں نے ڈان ڈاٹ کام کی جعلی اسکرین شاٹ بنا کر خبر پھیلانے کی کوشش کی کہ مریم نواز کے یہاں بچے کی ولادت متوقع ہے اور ڈان نیوزپیپر نے میڈیکل رپورٹس بھی حاصل کرلی ہیں۔

ڈان اخبار قیام پاکستان سے ہی معتبر اور سب سے زیادہ پڑھا جانے والا انگریزی کا نیوز پیپر ہے ۔ ویب سائٹ پر آنے کے بعد سے اس تک رسائی دنیا بھر میں پاکستان سے دلچسپی رکھنے والوں میں ہے۔ اسی لیئے اس کی ویب سائٹ کی فیک اسکرین کے شاٹس بنا کر پھیلانے کا مقصد افواہ کو حقیقت کا رنگ دینا ہوتا ہے۔ انگریزی زبان میں ہونے کے سبب اس کی خبر پاکستان مخالف ممالک بھی پڑھ سکتے ہیں اور اسے مزید پھیلا سکتے ہیں۔ ٹی وی چینلز میں ایسی فیک نیوز کا شکار جیو نیوز اور اے آروائی نیوز اکثر ہوتے رہتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں