مشتاق احمد ایسا کیا اب سکھائیں گے جو تین سال پہلے نہ سکھا سکے؟

ممو بھائی کا تبصرہ:مشتاق احمد کو پاکستان میں ایک بار پھر باولنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں کہ وہ پاکستان کے باولنگ کوچ مقرر ہوئے ہیں تو سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کیا سکھائیں گے جو پہلے ٹیم کے لڑکوں کو نہیں سکھا سکے؟

مشتاق احمد دوہزار سولہ میں باولنگ کنسلٹنٹ مقرر بنائے گئے جب کہ وقار یونس ٹیم کے کوچ تھے۔ وہ دو سال تک یعنی مئی دوہزار سولہ تک بولنگ کنسلٹنٹ رہے۔ اسی دوران ان کا معاہدہ پاکستان نیشنل کرکٹ اکیڈمی سے ہوگیا اور وہ اپریل دوہزار سولہ سے نومبر دوہزار اٹھارہ تک نینشل کرکٹ اکیڈمی کے ہیڈ کوچ رہے۔ اس کے بعد وہ ویسٹ انڈیز کے اسپن باولنگ کنسلٹنٹ مقرر ہوگئے

جہاں انگلینڈ میں اسپن باولنگ کوچ کا کام کرتے ہوئے مشتاق احمد نے گرام سوان جیسا خطرناک بولر متعارف کرایا وہاں وہ پاکستان میں ابتک کوئی خطرناک اسپن باولر دینے میں کامیاب نہ ہوسکے ہیں۔ وہ انگلیںڈ کے دوہزار آٹھ کے اواخر سے دوہزار چودہ تک اسپن باولنگ کوچ رہے۔ اس دوران انگلینڈ نے اپنی اسپن باولنگ میں قدم مضبوط کیئے۔

مصباح الحق پر تین عہدے رکھنے پر خاصی تنقید ہوئی تو انہوں نے تیزی سے نئے کوچز رکھنا شروع کیئے ہیں۔ کراچی سے کھیلنے والے محمد یونس کو بیٹنگ کوچ لائے تاکہ کراچی کی طرف سے تنقید بند ہو۔ جبکہ اسپنرز کی کمی کو دور کرنے کے لیئے مشتاق احمد کو لائے۔

اب انگلینڈ اور پاکستان میں جب مقابلہ ہوگا تو ایک طرف وہ اسپنرز ہوں گے جو مشتاق سے سیکھ کر آئے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ کھلاڑی ہوں گے جن کو آج کل مشتاق اسپن باولنگ کی تربیت دے رہے ہیں۔ نتیجہ اسپن باولنگ میں کس کے حق میں بہتر ہوگا یہ جاننا مشکل نہیں۔ لیکن ہم یہ فیصلہ وقت پر چھوڑ دیتے ہیں

)نوٹ: ہم آج سے ممو بھائی جو ایک جیتی جاگتی شخصیت ہیں ۔یہ کرکٹ کے ماہر سے کم نہیں۔ پاکستان کے کسی میچ کو سننا دیکھنا انہوں نے مس نہیں کیا۔ یہ اب ہر ایونٹ پر کیفے پیالہ پر تبصرہ کریں گے۔ آپ کو اگر ان سے اختلاف ہو تو ہمارے فیس بک پیچ پر رائے لکھ کر بھیجیں ہم شایع کریں گے(

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں