نیوزی لینڈ نے وبا پر کیسے قابو پایا؟ پاکستان اور نیوزی لینڈ کی حکمت عملی میں کیا فرق ہے؟

لاہور( ایڈیٹوریل ڈیسک) : نیوزی لینڈ نے تین بنیادی اقدامات کرکے کرونا سےتین ماہ میں نجات حاصل کرلی اگرچہ وہان گرمی نہیں بلکہ سخت سردی کا موسم ہے۔ جبکہ پاکستان نے ان تین اقدامات کو نظر انداز کیا اور اب کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے

اسٹیپ 1: چین میں جیسے ہی کرونا وائرس پھیلنے کی اطلاعات آئیں نیوزی لینڈ نے دو فروری کو چین سے آنے جانے پر پابندی عائد کردی۔ دوسری طرف پاکستان نے چین کے ساتھ راستے کھلے رکھے اور بڑی تعداد میں لوگ چین سے آتے رہے۔ ایران میں کرونا وائرس پھیلا تو سرحد بند کرنے میں تاخیر کی پھر کچھ دن سرحد بند کرکے پھر کھول دی۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے کرونا سے متاثر ملک سے فوری رابطہ سفری تعلق ختم کرنا مفید ثابت ہوا۔

اسٹیپ 2: نیوزی لینڈ میں کرونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آنے کے بیس روز بعد ہی اسمارٹ لاک ڈاون متعارف کرادیا ۔ پہلا مریض 28فروری کو سامنے آیا اور 15 مارچ تک 100متاثرین ریکارڈ کیئے جاچکے تھے۔

نیوزی لینڈ نے مارچ کی انیس تاریخ کو اسمارٹ لاک ڈاون متعارف کراتے ہوئے تمام سرحدیں بند کردیں، نیوزی لینڈ کے شہریوں کے علاوہ کسی کو ملک آنے کی اجازت نہیں تھی۔ جبکہ بیرون ملک سے آنے والے نیوزی لینڈ کے شہریں کو چودہ دن قرنطینہ میں رکھنے کا بندوبست کیا گیا۔

دوسری طرف پاکستان میں متفقہ پالیسی تاخیر سے بند کی گئیں۔ سعودی عرب ایران اور دیگر ممالک سے پاکستانیوں کو آنے دیا گیا جبکہ قرنطینہ کا مناسب انتظام نہیں تھا۔ سندھ حکومت نے لاک ڈاون متعارف کرایا لیکن وفاقی ھکومت اور دیگر صوبے اس پالیسی سے دور رہنا چاہتے تھے۔ پاکستان میں متفقہ پالیسی فوج کی مداخلت کے بعد تیار ہوئی اس سے پہلے پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے حکمت عملی پر اختلافات جاری تھے

اسٹیپ 3: اسمارٹ لاک ڈاون کے دس روز کے بعد نیوزی لینڈ نے مکمل لاک ڈاون نافذ کردیا صرف گروسری، میڈیکل اسٹور اور پیٹرول پمپ کھلے رکھے۔ یہ لاک ڈاون ایک مہینہ سے زیادہ وقت کے لیئے رکھا۔ لاک ڈاون میں نرمی اسوقت شروع کی جب متاثرین کی تعداد کم ہونا شروع ہوئی۔

پاکستان نے پہلے کیس سامنے آنے کے کافی عرصے بعد مکمل لاک ڈاون کیا۔ لاک ڈاون چوبیس مارچ کو کیا گیا اور سات مئی سے اس میں کمی کرنا شروع کی گئی گئی باوجود یہ کہ نمبرز میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔ نیوزی لینڈ اور پاکستان میں بنیادی فرق بروقت درست فیصلے کا تھا۔ وہاں سیاسی مفادات نہیں دیکھے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں