اقتصادی سروے کے مندرجات منظر عام پر آگئے، صنعتی شعبہ کی شرح منفی ہوگئی، جاری خسارہ 73فیصد کم

اسلام آباد سے بزنس رپورٹر: پاکستان کے مالی سال 2019اور2020کے اقتصادی سروے میں صنعتی شعبے میں گروتھ کی شرح منفی 2.6فیصد رہی۔ اقتصادی سروے کی رپورٹ کے مندرجات کے مطابق کرونا وائرس کے باعث ایگریکلچر، مینوفیکچرر و متعدد شعبوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

رواں مالی سال ایف بی آر محصولات جی ڈی پی کا 10.7 فیصد رہے، ٹیکس ریونیو 8.2 اور نان ٹیکس ریونیو 2.5 فیصد تھا ، رواں مالی سال حکومتی اخراجات جی ڈی پی کا 14.5 ریکارڈ ہوئے، رواں مالی سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ میں 73 فیصد کمی ہوئی، دستاویز پہلی 3 سہہ ماہی کے دوران زرمبادلہ ذخائر میں 3.6 ارب ڈالر اضافہ ہوا،

رواں مالی سال صنعتی شعبے کی پیداواری گروتھ منفی 2.6 فیصد رہی، زرعی شعبے میں جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 3.5 مقرر کیا گیا تھا لیکن اس شعبے کی گروتھ صرف 2.7 فیصد رہی، دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال تمام بڑی فصلوں کی پیداوار میں کمی ہوئی۔ سال کپاس کی پیداوار میں 4.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، لائیو سٹاک شعبے میں گروتھ صرف 2.6 فیصد رہی جبکہ ہدف 3.7 فیصد تھا،

صنعتی شعبے کا پیداواری ہدف 2.3 فیصد مقرر کیا گیا تھا، اقتصادی سروے کے مطابق صنعتی شعبے کی گروتھ منفی 2.6 فیصد رہی، ممینو فیکچررنگ کا شعبہ رواں مالی سال سب سے زیادہ متاثر ہوا، مینو فیکچرنگ سیکٹر کا پیداواری ہدف 2.5 فیصد تھا،تاہم اس سیکٹر کی پیداواری شرح منفی 5.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، دستاویز میں کہا گیا کہ لارج سکیل مینوفیکچرر شعبے کا ہدف منفی 7.8 فیصد رہا، جبکہ پورے سال کا ہدف 1.3 فیصد تھا،

الیکٹرسٹی اور گیس ڈسٹریبیوشن میں اضافے کی شرح مقررہ ہدف سے زیادہ رہی، تعمیرات کے شعبے میں رواں مالی سال اضافہ ریکارڈ کیا گیا، رواں مالی سال تعمیرات کے شعبے میں گروتھ کا ہدف 1.5 فیصد تھا، تعمیرات کے شعبے میں گروتھ 1.5 کے مقابلے میں 8.1 فیصد رہی، خدمات کا شعبہ رواں مالی ہدف کی بجائے منفی گروتھ میں رہا، اس شعبے کا ہدف 4.8 فیصد مقرر کیا گیا تھالیکن اس میں منفی 0.6 فیصد گروتھ ریکارڈ ہوئی،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں