ماحولیاتی آلودگی میں پاکستان کا کردار کم لیکن متاثر زیادہ، پاکستان میں سائنٹفک ریسرچ کی فوری ضرورت

تحقیق محمد عقیل: ماحولیاتی تبدیلی حقیقت ہے یا کہانی اس پر اکیسویں صدی میں بھی بحث جاری ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی پر تحقیق کا آغاز انیسویں صدی میں شروع ہوا۔ اوشنو گرافی اور میٹرولوجی کے ذریعہ ماحولیاتی سائنس کو بیان کیا گیا۔ اسطرح خطے کے ماحولیاتی رحجانات کو سائنسی رحجانات کے طور پر جانا جانے لگا اور سورج کی شعاوں کی تابکاری، فضا میں شامل عناصر اور آتش فشاں کا مشاہدہ کرکے اسے سائنس کی صورت دی گئی۔ انیسویں صدی میں سائنسدانوں کو کاربن ڈائی آئیکسائیڈ یعنی سی او ٹو اور گرین ہاوس گیس کے اثرات کا علم حاصل ہوا۔ انہیں پتہ چلا کہ ان گیسسز کے زمین کے ٹمپریچرپر کیا اثرات ہوتے ہیں ۔

موسمیاتی تبدیلی پر 1990میں بحث شروع ہوئی جس کا مرکزی نقطہ تھا کہ انسانوں کی وجہ سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور یہ موسمیاتی تبدلیوں کا سب سے بڑا سبب ہے ۔ اس اہم مفروضے کو ایک گروہ نے سرے سے جھٹلادیا۔ اس کے پیچھے ان کے مفادات شامل تھے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں پر بات کرنے والے خام تیل، پیٹرول اور گیس کے جلنے سے کاربن کی مقدار میں اضافے کی بات کررہے تھے ۔ اس لیئے یہ گروہ موسمیاتی تبدیلی میں انسانوں کے کردار سے انکار کرتا رہا ۔ ان افراد کو بڑے صنعتی ممالک کی بھرپور مالی سپورٹ حاصل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک قدرتی عمل ہے اور موسمیاتی تبدیلی کا قدرتی سائیکل ہوتا ہے۔ سورج کی وجہ سے موسم کا تعین ہوتا ہے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ اپنے اس مفروضے کی سپورٹ کے لیئے وہ یہ توجیہ لائے کہ زمین کی فضا گرم تر اس لیئے ہورہی ہے کیونکہ اس پر ال نینو کا اثر ہے اور آتش فشاں کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافے کا باعث ہیں۔ مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ اس پورے عمل کے صنعتی ممالک ذمہ دارنہیں ہیں ۔ ان کا ماننا تھا کہ زمین کو خطرہ ہے یہ مفروضہ ایک کہانی سے زیادہ نہیں ہے اور زمین میں ماحولیاتی آلودگی کو دور کرنے کے لیئے کسی انسان کو کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

دوسری طرف ماحولیات کے سائنسدان جو ماحولیاتی تبدیلی کے بین الحکومتی پینل سے وابستہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے ذمہ دار انسان ہیں۔ سائنسی شواہد موجود ہیں کہ اس تباہی میں انسان کا کردار ہے۔ سورج کا سیٹلائٹ سے مشاہدہ بتاتا ہے کہ گذشتہ تیس سال میں سورج کی سرگرمیوں میں تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ دوسری طرف سورج سے دور موجود سطح میں اور سورج کے قریب کی سطح کے درجہ حرارت میں فرق نہیں پڑا ہے اس لیئے ماحولیات کی تبدیلی کا ذمہ دار سورج میں ہونے والی تبدیلیوں کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سب سے اہم بات یہ کہ آتش فشاں کی وجہ سے کاربن ڈائی آئکسائیڈ کی مقدار اتنی نہیں بڑھتی جتنی انسانی سرگرمیوں یعنی تیل پیٹرول اور گیس کے جلنے یا لکڑی کو جلانے سے بڑھی ہے۔

انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے گرین ہاوس گیس کے اثرات عالمی ماحولیاتی نظام کو متاثر کررہے ہیں۔ ایک اور بڑا عنصر برساتی جنگلوں کو کھیتوں میں تبدیلی کرنے سے بھی قدرتی ماحول کو سخت نقصان پہنچا ہے۔

ایک منظم طریقے سے ماحولیاتی تبدیلیوں کی حقیقت سے انکار کی وجہ سےانسانی بقا کے اہم ترین مسئلے پر متفقہ عالی رائے عامہ نہیں بن سکی ہے۔ اور یہ پیرس معاہدہ یا کیوٹو پروٹوکول پر متفقہ طور پر عملدرآمد کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

اس عالمی مسئلے کے مختلیف اثرات دنیا میں نظر آرہے ہیں جیسے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو عالمی سطح پر سب سے کم ماحولیاتی آلودگی کا باعث ہے لیکن اس آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان سرفہرست ہے۔ صنعتی ممالک کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کی وجہ سے پاکستان جیسے ممالک پر ماحولیاتی آلودگی کے تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ان میں گلیشیئرز کا پگھلنا اور ہیٹ ویو کا بار بار آنا شامل ہے۔ بدقسمتی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے باوجود پاکستان جیسے ممالک عالمی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا نہیں کرپاتے۔ اسی لیئے آج پاکستان میں اس موضوع پر قومی سطح پر بحث کو شروع کرنے کی ضرورت ہے اس کے سااتھ پاکستان کو عالمی سطح پر متحرک ہونا ہوگا۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک مقامی سطح پرماحولیاتی تبدیلیوں پر سائنٹیفک ریسرچ کریں اور عالمی پالیسی سازی میں کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ کے فورم کو استعمال کرتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلی کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے والی عالمی سیاست کو روکنے میں کردار ادا کریں ۔ اس وقت ضروری ہےکہ پاکستان جیسے ممالک اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم پر یا عالمی عدالت میں ماحولیاتی آلودگی کے ذمہ داروں کے خلاف آواز اٹھائیں۔

محمد عقیل ماحولیاتی تبدیلی ، اوشنو گرامی ، میٹرولوجی اور بلیو اکنامی پر لکھتے ہیں انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ایم ایس سی کیا ہے۔پاکستان نیوی میں افسر ہیں۔

( نوٹ: یہ مضمون کیفے پیالہ نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرکے شایع کیا ہے۔ )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں