پاکستان اسٹیل مل کے وزیر حماد اظہر کا اسٹیل کا کاروبار

کراچی سے بزنس رپورٹر: پاکستان میں مفادات کا ٹکراو وزارتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا اسی لیے وزارت صنعت حماد اظہر کو دی گئی جو خود اسٹیل کا کاروبار کرتے ہیں اور انہوں نے وزارت سنبھالتے ہیں پاکستان اسٹیل مل کے تمام ملازمین کو نکالنے کا منصوبہ کابینہ سے منظور کرالیا

حماد اظہر ایف کو اسٹیل انڈسٹری کے مینجنگ پارٹنر ہیں۔ یہ ان کی فیملی کا پرانا کاروبار ہے۔ اپنی پڑھائی ختم کرنے کے بعد انہوں اسٹیل کا کاروبار سنبھالا تھا۔ حماد اظہر نہ صرف ایف کو کے مینجنگ پارٹنر ہیں بلکہ پاکستان اسٹیل ملز ایسوسی ایشن کےدوہزار نو میں وائس چیئرمین بھی منتخب ہوئے تھے ۔(حماد اظہر کی بائیوگرافی ان کے اپنے فیس بک پیج پر پڑھیے)۔

ایف کو اسٹیل انڈسٹری پاکستان کی سب سے پرانی اسٹیل انڈسٹری ہے۔ ایف کو اسٹیل 1935 میں جالندھر میں قائم کی گئی تھی ۔قیام پاکستان کے بعد ایف کو اسٹیل لاہور منتقل ہوگئی۔

حماد اظہر کی کمپنی ایف کو اسٹیل انڈسٹری اس وقت اپنے کاروبار کو توسیع دے رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق ماڈرانائزایشن اور توسیع کا عمل تیزی سےجاری ہے جس کے بعد اس کی مصنوعات میں مزید بہتری آئے گی۔

جہاں حماد اظہر اپنی کمپنی کو توسیع دے رہے ہیں وہیں انہوں نے بطور وزیر پاکستان اسٹیل مل کی بہتری کا منصوبہ بنایا ہے جس میں سب سے پہلا قدم اس کے نوہزار سے زائد ملازمین کو فوری گولڈن ہینڈ شیک دیکر فارغ کرنا ہے۔ یہ منصوبہ ای سی سی سے منظور کرالیا گیا ہے ۔ ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دیا جائے گا جس میں کم ازکم تئیس لاکھ روپے ملیں گے۔ اگرچہ وزیرموصوف کی منطق ہے کہ ملازمین کے پاس پیسے ہوں گے لیکن وہ یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ جن ملازمین کو مہینوں مہینوں سیلری نہ ملتی ہو تو ان پر قرضہ کتنا ہوگا ۔

پاکستان اسٹیل کی سستی اور ہائی کوالٹی پروڈکٹس اس کی بدقسمتی کا سبب بنی رہی۔ اسٹیل مل نے صنعتی شعبہ میں کارٹیل بننے کے عمل کی راہ میں رکاوٹ رہی اسی لیئے پیپلز پارٹی کے علاوہ کسی حکومت نے اس کو چلانے میں دلچسپی نہیں لی۔ نواز شریف حکومت کے پہلے دور میں اسٹیل مل کو مالی مشکلات میں ڈالا گیا ۔مل کے ملازمین کی تن خواہیں روکی گئیں ، خام مال نہیں منگایا گیا جس کی وجہ سے مل کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی۔ پھر یہ فارمولا بار بار ہر حکومت نے دہرایا۔ اسطرح ایک منافع بخش سرکاری ادارے کو خسارے کا ادارہ بنادیا گیا۔ اس میں کتنا کردار وزارت صنعت کی بیوروکریسی کا تھا اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔

حماد اظہر پاکستان اسٹیل مل کو نجی تحویل میں دینا چاہتے ہیں۔ اسٹیل مل کی نجکاری میں کون کون سی کمپنی شریک ہوگی اس پر سب کی نظر ہےاہم ترین سوال یہی بار بار اٹھے گا کہ کیا حماد اظہر کی کمپنی بھی اسٹیل مل کی نجکاری میں حصہ لے گی یا نہیں؟

مشرف دور میں ڈاکٹر حفیظ شیخ وزیر نجکاری کی نظریں اسٹیل مل پر پڑ گئیں اور اس کو فروخت کرنے کی تیاری کرلی گئی۔ لیکن اسوقت کی سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مداخلت کی۔ کہا جاتا ہے کہ اسٹیل مل کو دنیا کے اسٹیل ٹائیکون متل کو بیچنے کی کوشش کی جارہی تھی جب چییف جسٹس افتخار چوہدری نے نجکاری کے خلاف فیصلہ دیدیا۔ یہیں سے اسوقت کے وزیراعظم شوکت عزیز اور چیف جسٹس کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔ شوکت عزیز نے صدر پاکستان جنرل مشرف کو شکایت کی اور چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بنا کر بھیجا ۔

تاہم اس دوران ڈاکٹر حفیظ شیخ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کا دعوی تھا کہ بجلی سستی ہوگی لوڈ شیڈنگ ختم ہوگی اور حکومت کو سسبڈی نہیں دینی ہوگی لیکن معاملہ کچھ اور ہی نکلا۔ حکومت آج تک سستی گیس فراہم کرنے پر مجبور ہے، جبکہ کراچی کی واحد بجلی کی کمپنی ایک ہی پارٹی کو فروخت کرنے سے اس کاروباری گروپ کی اجارہ داری قائم ہوگئی اوار اس کا کراچی پر اقتدار قائم ہوگیا۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ جو کئی بھارتی کاروباری افراد سے بھی منسلک رہے ہیں اس کے بعد بیرون ملک چلے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں