سنتھیا رچی کا مبینہ ریپ: کیا امریکی سفارتخانہ گواہی دے گا؟ سنتھیا پرالزامات، سول سوسائٹی کی منافقت

ایڈیٹوریل ڈیسک: بلاگر سنتھیا رچی نے ایک ویڈیو میں جمعہ کے روز انکشاف کیا کہ دوہزار گیارہ میں وزیر داخلہ کی سرکاری رہائشگاہ پر رحمان ملک نے ان کا ریپ کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ٹوئٹ کیا اور کہا کہ امریکی سفارتخانے نے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔ جس کے بعد امریکی سفارتخانے کا ردعمل اس کیس میں اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

امریکی بلاگر انفلونسر سنتھیا رچی نے امریکی سفارتخانے پر الزام لگایا کہ جس وقت ان کا ریپ کیا گیا اس دوران اسامہ بن لادن کے لیئے ایبٹ آباد کا آپریشن ہوا تھا اور امریکہ پاکستان تعلقات کشیدہ تھے۔ انہوں نے امریکی سفارتخانے کے افسر کو اس معاملے سے آگاہ کیا لیکن سفارتخانے کی طرف سے زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ رحمان ملک پر ریپ کے الزام کے بعد امریکی سفارتخانے پر ریپ کیس چھپانے کا الزام ایک سنگین الزام ہے۔ اب امریکی سفارتخانہ اس کا اقرار کرتا ہے یا انکار اس پر سنتھیا کے بیان کی مضبوطی پر براہ راست اثر پڑے گا

سنتھیا رچی اور پیپلز پارٹی کے درمیان ٹوئٹر جنگ اسوقت تیز ہوئی جب سنتھیا رچی نے بے نظیر بھٹو پررکیک الزامات لگائے۔ جس کے بعد پیپلز پارٹی نے ٹوئٹر پر سنتھیا پر نہ صرف الزامات لگائے بلکہ سنتھیا کی فیملی کی خبریں بھی لے آئے ۔ جس کا ذکر انہوں نے اپنی ویڈیو میں کیا ہے۔ ان کی ویڈیو سے لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے جوابی حملے پر سنتھیا رچی نے یہ حتمی قدم اٹھایا۔

سنتھیا کے بیان پر ردعمل

سنتھیا رچی کے بیان کو جہاں پیپلز پارٹی کے حلقوں نے رد کیا وہیں پاکستان کی سول سوسائٹی اور اپوزیشن کے سیاسی حلقوں نے کئی شکوک کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا کا جائزہ لیں تو ایک سوال بار بار پوچھا جارہا ہے کہ سنتھیا رچی نے گیارہ سال بعد یہ بات کیوں کہی۔ یہ بات وہ پیپلز پارٹی مخالف نواز شریف حکومت میں بھی کہہ جا سکتی تھی ۔ چوہدری نثار تو رحمان ملک سے نمٹنے کے لیئے ہمیشہ بے چین رہے۔ سنتھیا پر دوسرا الزام اپوزیشن کے حلقے او راپوزیشن نواز سول سوسائٹی کے حلقے یہ لگا رہے ہیں کہ انہوں نے ریپ کا الزام پیپلز پارٹی کو دباو میں لینے کے لیئے کسی کے کہنے پر لگایا ہے۔ ان کا اشارہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہے۔ ان کی سوشل میڈیا پوسٹس میں بار بار کہا گیا کہ سنتھیا رچی پیپلز پارٹی کے خلاف مہم چلا رہی ہیں اور اب یہ الزام بھی اسی مہم کا حصہ ہے۔ پیپلزپارٹی کو اٹھارویں ترمیم ختم کرنےکےلیئے دباو میں لیا جارہا ہے اور سنتھیا رچی اس کے لیئے استعمال ہورہی ہیں۔

سنتھیارچی کے پیپلز پارٹی پرالزامات

امریکی بلاگر نے اپنی ویڈیو میں بتایا کہ انہیں پاکستان دوہزار نو میں پیپلز پارتی نے بلایا تھا لیکن بعد میں وہ تحریک انصاف کے قریب ہوگئیں جس پر پیپلز پارٹی پریشان تھی۔۔سنتھیا رچی نے حال ہی میں اپنی ٹوئٹ میں بے نظیر بھٹو شہید پر رکیک حملےکیئے۔ اگرچہ ان کا ریپ جب ہوا تو بے نظیر بھٹو حیات نہیں تھیں اسلیئے ان کا اس سے کوئی براہ راست تعلق نہیں اور ساتھ ہی بلاول بھتو بھی صرف نام کے چیئرمین تھے کیونکہ ان کی پڑھائی جاری تھی۔ لیکن سنتھیا رچی نے بے نظیر اور بلاول پر یکے بعد دیگرے حملے کیئے۔ بے نظیر بھٹوشہید پر الزام لگایا کہ وہ لڑکیوں کا ریپ کرادیتی تھیں جبکہ بلاول بھٹو پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایک انگریز نوجوان کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ یہ وہ الزامات تھے جس پر ہر طرف سے شدید ردعمل آیا۔ بے نظیر پر ریپ کرانے کے الزام سے سیاسی حلقوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی

سنتھیا رچی پاکستان کی بااثر ترین صحافی؟

سنتھیا رچی پیپلز پارٹی کے بارے میں جس قسم کے انکشافات کررہی ہیں اس سے لگتا ہے کہ وہ اسوقت پاکستان میں سب سے بہترین تحقیقاتی جرنلسٹ ہیں۔ پیپلز پارٹی ارکان کے واٹس اپ میسیجز کو ٹوئٹر پر شایع کرنے کی دھمکی دینا یا بلاول ہاوس کے اندر کی خبریں ٹوئٹر پر شیئر کرنااور اسطرح کی باقاعدہ مہم چلانے سے لگ رہا ہے کہ جتنی انفارمیشن ان کے پاس آرہی ہے وہ اسوقت پاکستان کی سب بڑی جرنلسٹ ہیں۔ ۔پیپلز پارٹی کے حلقے الزام لگارہے ہیں کہ سنتھیا کو انفارمیشن دینے والے اسٹیبلشمنٹ کے حلقے ہیں اور اپنے بیان کے حق میں وہ سنتھیا رچی کی پاکستان میں گھومنے پھرنے کی تصاویر شیئر کرتے ہیں۔ ۔ اسی لیئے پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ مخالف سول سوسائٹی نے سنتھیا کے الزامات کو پیپلز پارٹی مخالف مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔

عورت کا انتقام؟

پیپلز پارٹی مخالف حلقے سنتھیا رچی کے پیپلز پارٹی پر حملوں کو مظلوم عورت کا انتقام قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نےسنتھیا پر ظلم کیا گیا جس کا وہ بدلہ لے رہی ہے۔ ٹوئتر پر جہاں رحمان ملک کے ْخلاف ٹرینڈ چل رہا ہے وہیں سنتھیا کے حق میں چلنے والا ٹرینڈ ٹاپ ٹرینڈ ہے۔

ریپ کے الزام ، سول سوسائٹی کی منافقت

سنتھیا رچی کی ویڈیو نے ریپ کے خلاف سرگرم رہنے والی سول سوسائٹی کے ڈبل اسٹینڈرڈ کا پردہ چاک کردیا ہے۔ ماروی سرمد ہوں یاہیومن رائٹس کے متحرک رکن اسد بٹ سب نے بالواسطہ طور پر سنتھیا کو جھوٹا کہا۔ یہ رویہ اس لیئے عجیب تھا کہ ریپ کے الزام پر سول سوسائتی کی ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ مردوں کا معاشرہ ریپ کا ذمہ دار خاتون کو ٹہراتا ہے اور مظلوم عورت کو ہمیشہ جھوٹا قرار دیتا ہے۔ ریپ کے معاملے میں عمومی پالیسی یہی اپنائی جاتی ہے کہ معاملہ کی تحقیقات مکمل ہونے تک اس پر تبصرہ نہ کیا جائے کیونکہ اس میں جو بھی مظلوم ہوگا اس کا حق مارا جائے گا۔ تحقیقات کے بعد اگر ریپ ثابت ہو تو مجرم کو سخت ترین سزا دی جائے اور اگر الزام جھوٹا ثابت ہو تو الزام لگانے والے کو سخت سزا ملے

سول سوسائٹی جو اس طریقے پر یقین رکھتی ہے وہی اس وقت دہرے معیار کا شکار نظر آتی ہے۔ جس مرد نواز معاشرے پر سول سوسائٹی تنقید کرتی رہی ہے آج اسی کے طور طریقے اپنائے ہوئے ہے۔

کہانی کا انجام کیا ہوگا؟

پاکستان میں ریپ کےاکثر الزامات کا انجام کچھ نہیں نکلا ہے۔ ہائی پروفائل کیسسز میں بھی خواتین کو کافی عرصے جدوجہد کرنی پڑی ہے۔ مختاراں مائی کا کیس اس میں نمایاں ہے۔ خواتین کو عمومی طور پر جھوٹا کہا گیا ہے سابق صدر مشرف نے مختاراں مائی پر ریپ کے کیس میں الزام لگایا تھا کہ وہ غیرملکی شہریت لینے کےلیئے اجتماعی زیادتی کا الزام لگارہی ہے ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔ جنرل مشرف جو اسوقت صدر پاکستان تھےکے اس بیان پر انہیں سپورٹ کرنے والی سول سوسائٹی بھی ان کے خلاف کھڑی ہوگئی تھی۔

اس کیس میں بھی معاملہ عدالت میں جائے گا۔ کیا سنتھیا رچی عدالتوں میں پیش ہوں گی یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا لیکن فی الحال یہی لگتا ہے کہ یہ طوفان چند ہفتوں میں تھم جائے گا۔ پاکستان میں ایک ایشو کی حساسیت صرف تین دن برقرار رہتی ہے پھر کسی نئے ایشو کے پیچھے سب لگ جاتے ہیں یہ طوفان بھی کسی نئے طوفان کے پیچھے چھپ جائے گا

سننتھیا رچی کے کچھ ٹوئٹس اور ان کی ویڈیو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں