پیار دیوانہ ہوتا ہے:محبوبہ سے ملنے بغیر پاسپورٹ کے ڈھاکا سے کراچی جانے والے نیان میاں اٹاری پر پکڑے گئے

مانیٹرنگ ڈیسک: پیار دیوانہ ہوتا ہے کشور کمار کا مشہور گانا سب نے سنا ہوگا لیکن اس کی منہ بولتی تصویر بنے ڈھاکا کے قریب ایک قصبہ شریعت پورکے رہائشی چھبیس سالہ نیان میاں عرف عبداللہ جو دوہزار کلومیٹر پیدل چل کر پاک بھارت سرحد پر پہنچے تاکہ کراچی جاکر اپنی محبوبہ سے مل سکیں۔ لیکن ان کی راہ میں سماج کی دیوار بن گئی اٹاری واہگہ سرحد پر بھارتی بارڈر فورس جس نے انہیں دھر لیا

نیان میان نے بتایا کہ وہ شریعت پور سے کلکتہ پہنچے۔ شریعت پور بنگلہ دیش کے دارالخلافہ ڈھاکا کے قریب کا قصبہ ہے۔ وہ بھارت بغیر ویزے کے پہنچے اس کے لیئے انہوں نے رات کے اندھیرے میں بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان موجود ایک نہر عبور کی۔ وہاں سے وہ کلکتہ پہنچے۔ یہاں سے آگرہ گئے پھر دہلی اور پھر لدھیانہ پہنچے۔ آگرہ سے لدھیانہ تک سفر انہوں نے پیدل کیا یا پھر لفٹ لے کر کیا۔ وہ دوہزار کلومیٹر تک پیدل چلے۔

نیان میاں نے بتایا کہ جس لڑکی سے ملنے وہ کراچی جانا چاہتے تھے وہ ان کی کزن ہے ۔ ان کی کزن کا خاندان 1971میں ڈھاکا سے کراچی شفٹ ہوگیا تھا۔ لڑکی سے ملاقات سوشل میڈیا پر ہوئی ویڈیو پر بات ہوتی تھی اور لڑکی نے ان سے شادی کی حامی بھری تھی۔ پھر وہ پندرہ دن سے رابطہ میں نہیں تھی جس کے بعد انیان نے دل میں ٹھانی کے وہ کراچی جاکر ملیں گے۔ نیان کے پاس پاپسورٹ نہیں تھا لیکن وہ عشق کے جذبہ سے سرشار غیرقانونی طور پر بھارت پہنچے اور اب پاکستان جانا چاہتے تھے۔ سرحد پر کوئی ایسی جگہ دیکھ رہے تھے جہاں سے باڑ کٹی ہو اور وہ کراس کریں کہ اس دوران انہیں حاجت محسوس ہوئی۔ اور وہ ایک طرف بیٹھ گئے۔ یہی ان کی بدقسمتی تھی۔ اسی وقت بارڈر سیکوریٹی فورس کی گشتی پارٹی پہنچی جس نے انہیں پکڑ لیا۔

بھارتی ٹی وی انڈیا ٹی وی نے پوری داستان اپنے یوٹیوب چینل پر شیئر کی ہے

اب نیان میاں لدھیانہ پولیس کی کسٹڈی میں ہیں۔ انہیں غیر ملکیوں کے قوانین کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔ لگتا ہے کہ نیان کی کہانی یہاں ختم ہوجاتی ہے۔ انہیں بھارت میں جیل کاٹ کر واپس بنگلہ دیش جانا ہوگا۔

سقوط بنگلہ دیش اور پاک بھارت کشیدگی نے کتنے خاندانوں کو ایک دوسرے سے جدا کررکھا ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ لیکن سوشل میڈیا جو سرحدوں کا پابند ہوتا ہے اس پر ہونے والی ملاقاتیں اور رفاقتین اسوقت سرحدوں کی باڑ کی زد پر ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں