پیٹرول بحران: اوگرابری طرح ناکام، کیا بحران کے ذمہ دار ندیم بابر ہیں؟پیٹرول کی قلت قومی سلامتی کا بڑا ایشو بن گیا

کراچی سے سید رضوان عامر: حکومت نے تیل کی قیمت کم کی تویکایک پیٹرول غائب ہونا شروع ہوگیا۔ اوگرا بڑے زور شور سے کمپنیوں سے نمٹنے کے لیئے نکلی لیکن ناکام رہی آخر کار صوبائی حکومتوں سے مدد کی اپیلیں کرنے لگی۔ پیٹرول کا بحران کیوں ہوا؟ اس کا ذمہ دار بعض حلقے ندیم بابر کو قرار دیتے ہیں

آئل کی کمپنیاں کتنی طاقتور ہیں اور اوگرا کتنی بے بس یہ بات گذشتہ چار روز میں پورا پاکستان جان گیا۔ اوگرا نے تیس مئی سے دو جون تک کمپنیوں کے پیٹرول پمپس، ڈپوز ور ریفائنریز کے اسٹوریج کی خصوصی انسپکشن کی ۔ اس کے لیئے لیٹر بھی لکھ کر کمپنیوں کو کہا کہ تعاون کریں۔ اس انسپکشن کا مقصد تھا کہ سپلائی کی صورتحال دیکھی جائے اور پیٹرول کی قلت نہ ہونی پائے۔ وزارت پیٹرولیئم نے اپنے سر سے الزام ہٹانے کے لیئے اوگرا کو ایکشن لینے کی ہدایت بھی کردی

لیکن اوگرا اس مقصد کے حصول میں بری طرح ناکام ہوئی۔ ملک میں پیٹرول کی قلت کراچی سے سوات تک ہوئی۔ پیٹرول بلیک میں فروخت ہوا اور یوں وزیراعظم کی طرف سے عوام کو دیا گیا ریلیف ہوا میں اڑ گیا۔ وزارات پیٹرولیئم کا کہنا ہے کہ ملک میں پیٹرول وافر مقدار میں موجود ہے۔ آخر کار بے بسی کے عالم میں اوگرا نے چھ کمپنیوں کو شوکاز جاری کیا ساتھ ہی ساتھ ایک خط لکھ کر صوبائی حکومتوں کو کہا کہ پیٹرول کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ دوسرے الفاظ میں اوگرا کا بطور ریگولیٹر جو کام ہے وہ بھی صوبے ادا کریں۔

پیٹرول کا بحران کیوں ہوا؟ پیٹرول کے بحران کی ذمہ داری وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیئم ندیم بابر پر عائد کی جارہی ہے۔ جب دنیا میں پیٹرول کی قیمت کریش ہورہی تھی عرب ممالک بھی ڈسکاوئنٹ پر تیل بیچ رہے تھے تو ندیم بابر نے ہدایت جاری کی کہ کوئی کمپنی تیل امپورٹ نہ کرے۔ مارچ کے آخری ہفتےمیں جاری کی گئی جب مئی کے سودوں کی قیمت بیس ڈالر کے قریب تھی۔ اسہدایت کی وجہ سے ملک میں تیل کی فراہمی مکمل طور پر رک گئی۔ کمپنیوں نے یہ سوچ کر کہ پتہ نہیں کب اجازت ملے تمام کنٹریکٹ ملتوی کردیئے۔ تین ہفتے بعد ندیم بابر نے لاک ڈاون میں نرمی اور وزیراعظم کے صنعتوں کو پیکیج دینے کے بعد پیٹرول امپورٹ پر لگائی گئی پابندی اٹھا لی۔ لیکن اس دوران جو نقصان ہونا تھا ہوچکا تھا

اب وزارت پیٹرولیئم نے پی ایس او کو تیل کی امپورٹ بڑھانے کی ہدایت کی ہے اس وقت اوپیک آئل کے سودے 38ڈالر فی بیرل میں ہورہے ہیں۔ اس طرح حکومت کو اگلے ماہ پیٹرول کی قیمت بڑھانی پڑے گی۔

آئل سیکٹر کے افراد کا کہنا ہےکہ تیل جب عالمی مارکیٹ سے خریدا جاتا ہے تو اس کی پاکستان آمد اور ریفائنریز میں مصنوعات کی تیاری کے بعد ڈپو تک آنے میں کئی روز کا وقت لگتا ہے۔ جب تیل روکا گیا تو تین ہفتوں تک تو تمام کام رک گیا ذخائر سے پیٹرول فراہم کیا گیا۔ اس دوران تیل کی عالمی قیمت بڑھ گئی۔ اور پاکستان تیل کی امپورٹ سے جو فائدہ اٹھا سکتا تھا وہ کھو بیٹھا۔ آئل سیکٹر کا کہنا تھا کہ اس وقت سستا ترین تیل خریدتے تو ملک کو بڑا فائدہ ہوتا۔ لیکن امپورٹ بند کرنے سے جہاں تیل کی قیمت کا فائدہ نہ ملا وہیں سپلائی چین متاثر ہونے سے بحران پیدا ہوا۔

تیل کا کم ذخیرہ اور قومی سلامتی:پاکستان میں کمپنیوں کو تیل کی سپلائی کا چودہ دن سے اکیس دن تک ذخیرہ رکھنے کی اجازت ہے۔ یہ فارمولا کمپنیوں کو خوش کرنے کے لیئے بنایا گیا ہے کیونکہ زیادہ ذخیرہ رکھنے سے قیمتیں کم ہونے پر کمپنیوں کو نقصان ہوتا ہے۔ قیمتیں بڑھنے پر کمپنیوں کا منافع ہوتا ہے جس کا وہ کبھی ذکر نہیں کرتے۔ لیکن اس سے قومی سلامتی کا ایک بڑا خطرہ یہ پیدا ہوگیا کہ اگر جنگ کی صورتحال ہو تو پاکستان میں تیل کا بحران پیدا ہوسکتا ہے جو انتہائی خطرناک ہوگا۔ پاکستان میں تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کم ازکم دو ماہ کے ہونے چاہیں لیکن کمپنیوں کے منافع کا تحفظ دینے والی وزارت پیٹرولیئم اس بات سے نظر چراتی ہے جس کی وجہ ن سے پاکستان کی قومی سلامتی کے لیئے مسلسل ایک خطرہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں