آپ کریں تو رام لیلا،آفریدی کرے تو کریکٹر ڈھیلا؟

ایڈیٹوریل ڈیسک: شاہد آفریدی کرکٹ کے میدان میں جب اترے لوگوں نے بوم بوم کے نعرے لگائے سب کو امید بندھ جاتی تھی کہ اب ہر گیند باونڈری کے پار ہوگی۔ لیکن اس چکر میں متعدد بار آفریدی جلدی آوٹ ہوکر پویلین بھی لوٹ جاتے تھے۔ پھر اگلا میچ اور پھر پاکستانی عوام کی وہی امید کہ اب تو ہر گیند باونڈری کے پار ہوگی۔ آفریدی شاذ و نادر ہی مایوس نظر آئے عمومی طور پر ان کا رویہ ہوتا تھا کہ کوشش پوری کی ہے اور پھر دم ماروں گا

کرونا وائرس نے پاکستان کو گھیرا تو ملک کا ہر صاحب حیثیت شخص اور ہر سییاستدان اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کی امداد میں لگ گیا۔ سوشل میڈیا دیکھیں تو کہیں رکن قومی اسمبلی راشن کے تھیلے بانٹ رہے ہیں تو کہیں مشہور صنعتکار کی تصویر لگ رہی ہے۔کہیں وزیراعظم، وزیراعلی سے لیکر وزیروں مشیروں سب کی تصاویر اور ویڈیوز راشن کے تھیلے بانٹتے ہوئے نظر آرہی ہے۔

ایسے میں شاہد آفریدی کی پسماندہ علاقوں میں امداد تقسیم کرنے کی تصاویر نظر آئیں کہیں کندھے پر راشن کا تھیلا رکھے بلوچستان کے ایک ایسے علاقے میں جارہے ہیں جہاں دور دور تک غربت نظر آرہی ہے۔

ان تصاویر نے تو لگتا تھا سیاسی ورکرز، سیاسی رہنماوں کی صفوں میں ہلچل مچا دی۔ کسی نے کہا راشن دیتے ہوئے تصویر کیوں کھنچوائی تو کسی نے کہا نئے وزیراعظم کی اسٹیبلشمنٹ تیاری کررہی ہے۔ شاہد آفریدی خاموش رہے۔ پھر نئی تصاویر سامنے آگئیں ایک اور انتہائی پسماندہ علاقے میں راشن بانٹ رہے ہیں جہاں شاید اس علاقے کا اپنا ایم این اے یا ایم پی اے کبھی زندگی میں ایک بار ہی گیا ہوگا۔ جہاں پر نہ امدادی اسکیمیں پہنچ رہی ہیں نہ ہی شوشا کرنے والے سیاستدان اور سماجی ورکرز پہنچ رہے ہیں۔ پھر وہی شور وغوغا اٹھ گیا

سب کو لے دیکر ایک اعتراض ملا کہ شاہد آفریدی راشن دیتے ہوئے تصویر کیوں کھنچوا رہے ہیں؟کسی نے بھی یہ بات نہیں کی کہ جہاں شاہد آفریدی راشن دے رہے ہیں وہاں تک حکومت یا سیاسی و سماجی تنظیمیں کیوں نہیں پہنچیں؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ راشن دیتے ہوئے تصویر پر اعتراض وہ لوگ کررہے ہیں جو ایک روٹی کسی کو دیں تو پانچ تصویریں کھنچوائیں۔ کون سا سیاستدان یا سیاسی کارکن یا سماجی رہنما ہے جس نے امداددیتے ہوئے تصویر نہیں کھنچوائی اور پھر تشہیر نہیں کرائی؟ ذرا گوگل کریں ایسی ایسی تصویریں نظر آئیں گی کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔ وزیر ہو کہ مشیر، اپوزیشن کے ارکان ہوں کہ سماجی کارکن سب کیمرے کے سامنے مسکراتے ہوئے ایک غریب کو کچھ نہ کچھ دے رہے ہیں۔

لیکن ان سب کی تصویروں میں یہ لوگ ان علاقوں میں نظر آئیں گے جہاں گاڑی بھی پہنچ سکتی ہے اور موٹر سائیکل بھی۔ شاہد آفریدی کی تصویر میں وہ علاقے بھی نظر آئیں گے جہاں امداد دینے کے لیئے گاڑی بھی مشکل سے پہنچتی ہے اور پیدل تو کافی چلنا پڑتا ہے۔

شاہد آفریدی وزیراعظم: شاہد آفریدی سے پوچھا کیا آپ وزیراعظم بن کر لوگوں کی مدد کریں گے تو اس جواب تھا اگر میں وزیراعظم بنا تو عوام کی مشکلات دور کرنے پر توجہ دوں گا۔ اوراس جملہ پر ہرطرف شور مچ گیا۔

حالانکہ اگر کسی محلےکے ایک کونسلر سے بھی پوچھیں کہ پاکستان کے مسائل کا حل کیسے ہوگا تو وہ بھی یہیں سے شروع کرتا ہے کہ اگر میں وزیراعظم ہوتا تو یہ کرتا وہ کرتا۔ وزیراعظم ہوتا کا مطلب یہ نہیں کہ وزیراعظم بننے کی جدوجہد شروع ہوگئی یہ ایک استعارہ ہے

لیکن اس جملے نے سب سے زیادہ پریشان جنہیں کیا وہ تھے سیاسی کارکن۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں ہلچل مچ گئی۔ انہوں نے الزام لگانا شروع کردیا کہ نئے وزیراعظم کی تیاری ہورہی ہے۔ شاہد آفریدی کو زبردستی وزیراعظم بنائیں گے۔ ان کا ڈر و خوف سمجھ سے بالا تر ہے۔ جن علاقوں یا جن لوگوں میں شاہد آفریدی راش تقسیم کررہے ہیں ان کے ووٹ پر وزیراعظم تو دور کی بات کونسلر بھی شاہد آفریدی نہیں بن سکتے کیونکہ یہ سب سے نچلے درجہ کے اس ملک کے شہری ہیں جنہیں ہماری ریاست اور سیاستدان انسان بھی نہیں سمجھتے۔

پھر اتنی پریشانی کیوں ہے؟ یہ جاننے کے لیئے ماضی قریب کی تاریخ دیکھنا ضروری ہے ۔ چلیں پیپلز پارٹی کو ہی لے لیں،، بینظیر بھٹو 2007میں پاکستان آئیں تو انہوں نے ق لیگ کو اپنا دشمن قرار دیا، لیکن مشرف دور میں وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب رہنے والے چوہدری برادران جن کو بے نظیر نے بڑا دشمن قرار دیا وہ بے نظیر کی شہادت کے فوری بعد بننے والی پیپلز پارٹی حکومت میں شامل تھے۔ چوہدری پرویز الہی کو تو نائب وزیراعظم کا عہدہ دیا گیا۔ مشرف کی کابینہ کے کئی ارکان پیپلز پارٹی حکومت میں شامل تھے۔ انہیں کون اس حکومت میں لایا کس کو خوش کرنے کے لیئے یہ اقدام کیئے گئے اس کا جواب تو پیپلز پارٹی والے دیں۔

جمہوریت پسند ن لیگ کو دیکھ لیں۔ مشرف کے جانی دشمن لیکن حکومت بنی تو ان کے ترجمان جنرل پرویز مشرف کے لاڈلے دانیال عزیز تھے۔ ن لیگ نے بھی مشرف سے دشمنی کااعلان کرتے رہے اور ان کی کابینہ کے ارکان کو وزارتیں دیتے رہے۔

خود تحریک انصاف کی حکومت میں اس وقت ان کے ارکان کم اور پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے دور حکومت میں رہنے والے وزیروں مشیروں کی تعداد زیادہ ہے۔

ہمارا خیال ہے آفریدی پر تنقید کرنے کے بجائے سیاسی کارکن اور جماعتیں ان کا ہاتھ بٹائیں۔ اتنی جلدی شک و شبہ کرنا یا خوف کا شکار ہونا سیاستدانوں اور سیاسی ورکرز کو زیب نہیں دیتا۔ اس برے وقت میں سماجی کام ہی وہ عمل ہے جس سے کروڑوں لوگوں کی زندگی چل رہی ہے۔ اس عمل کو سیاسی رنگ دیکر ناپسندیدہ عمل بنانا ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے جنہیں اس امداد کی ضرورت ہے

آخر میں شاہد آفریدی کے راشن بانٹنے پر سیاسی و سماجی رد عمل دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ آپ تصویریں لگائیں تو درست آفریدی کی تصویریں لگیں تو غلط، آپ وزیراعظم بننے کی خواہش ظاہر کریں تو درست آفریدی کرے تو غلط یعنی آپ کریں تو رام لیلا اور آفریدی کرے تو کریکٹر ڈھیلا؟

شاہد آفریدی کی ٹوئٹر ٹائم لائن سے لی گئی ان کی سرگرمیوں کی چند ٹوئٹس۔ ان کا ٹوئٹر اکاوئنٹ سب کو ضرور دیکھنا چاہیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں