کراچی دشمنی کا الزام: مصباح الحق حقائق کس طرح چھپائیں گے؟ جاوید اقبال کی تلخ باتیں

تحریراسپورٹس تجزیہ کار جاوید اقبال: پاکستان کرکٹ میں کراچی اور لاہور کی لابی کا مسئلہ بڑا پرانا ہے۔ اولین قومی ٹیم میں شامل حنیف محمد سے لے کر جاوید میانداد اور سرفراز احمد سب کو کوئی نہ کوئی ناراضگی کرکٹ بورڈ حکام سے ضرور رہی۔ گذشتہ کئی ماہ سے یہ مسئلہ دوبارہ سر اٹھار رہا ہے۔ پہلے فواد عالم پر تمام کراچی سراپا احتجاج تھا تو اب سرفراز احمد کے ساتھ مصباح کے نارروا سلوک پرکرکٹ کا ہر فین ناراض ہے۔

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جاوید اقبال

کرکٹ میں اقتدار کی کرسی کی دوڑ بھاگ شروع ہوئی تو قرعہ مصباح الحق کے نام نکلا۔ مصباح الحق کی سربراہی میں پاکستان چیمپئنز ٹرافی ہار چکا تھا۔ لیکن انہیں ٹیم کا چیف سیلکٹر بنادیا گیا۔ مصباح الحق کی مجموعی پرفارمنس جو بھی ہو لیکن کریز پر ان کی ٹک ٹک بیٹنگ نے شائقین کو عمومی طور پر دلبرداشتہ کیا۔ ٹک ٹک کا لفظ انہیں اب انتہائی ناپسند ہے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں اس لفظ پر ناراض بھی ہوچکے ہیں۔ پھر پی سی بی کے چیف سیلکٹرز تک بات نہ رکی، مصباح الحق کو بیٹنگ کوچ بھی بنادیا گیا ۔محتاط بیٹنگ کرنے والے مصباح کھلاڑیوں کو کس قسم کی بیٹنگ کی تربیت دینا چاہیں گے یہ جاننا مشکل نہیں ہے۔ پی سی بی نے ہیڈ کوچ کا اشتہار دیا اور شرط رکھی کہ ہیڈ کوچ بننے کے خواہشمند کا کوچنگ کا تین سال کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔ اور یہ قرعہ بھی مصباح کے نام ہی نکلا شاید پی سی بی کے مہربانوں نے سمجھا کہ بطور کپتان جو میچ وہ ہرواتے رہے وہی ان کی بیٹنگ کوچ کے ایکسپرینس کے مساوی ہے اس لحاظ سے مصباح تین سے زیادہ سال کے تجربہ کار ہیں۔

بھارت کو شکست فاش دینا سرفراز کا جرم بن گیا

مصباح الحق نے پی سی بی کی تاریخ رقم کرتے ہوئے سارے اہم عہدے سنبھالے توسرفراز احمد ان کا پہلا نشانہ بنے۔سرفراز احمد کی سربراہی میں نہ صرف چیمپئنز ٹرافی پاکستان نے جیتی بلکہ پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست دیکر ماضی کے کپتانوں کی بھارت سے مسلسل ہار کا بدلہ لے لیا۔ شاید چیمپئنز ٹرافی جیتنا اتنا بڑا جرم نہ تھا جتنا بھارت کو شکست دینا بن گیا

۔مصباح نے ذمہ داریاں سنبھال کر پاکستان کی ٹیم کے کامیاب ترین کپتان سرفراز احمد کو بیک جنبش قلم پہلے کپتانی پھر قومی ٹیم سے ہی نکال باہر کیا۔۔ ان پر الزام لگایا کہ ان کی فٹنس کا مسئلہ ہے۔ بھارت کو بری شکست دینے کا پاکستان کرکٹ بورڈ ایسا صلہ دے گا یہ تو شاید سرفراز نے سوچا بھی نہ تھا۔ صرف سرفراز ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں کرکٹ شائقین حیران و پریشان تھے۔ ہیرو کو راتوں رات زیرو بنادیا گیا اور بنانے والا بھی وہ شخص تھا جس کے سر پر بھارت سے میچ پر میچ ہارنے کا سہرا سجا ہوا تھا۔ مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان ٹیم ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکی تھی۔جبکہ جس سرفراز احمد کو بے عزت کرکے نکالا گیا اس کی قیادت میں پاکستان ٹیم مسلسل ستائیس ماہ تک ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ میں نمبر ون رہی

ان تمام انقلابی تبدیلیوں کا نتیجہ بھی جلد ملنا شروع ہوگیا۔ مصباح کے آنے کے بعد ٹی ٹوئنٹی کی نئی رینکنگ میں پاکستان پہلے نمبر سے سرکتا سرکتا چوتھے نمبر پر چلا گیا ہے۔

یہ وہ صورتحال تھی جس پر شور اٹھا کہ سرفراز احمد کے ساتھ زیادتی کراچی سے تعلق کی وجہ سے کی گئی ۔ اس سے پہلے فواد عالم کے ساتھ سلوک پر انضمام الحق بھی نشانے پر رہے تھے۔ انضمام الحق پر الزام لگا کہ اپنے بھتیجے امام الحق کو ٹیم میں رکھنے کے لیئے فواد کو سائڈ لائن کیا گیا۔ انضمام الحق نے اس کی شدت سے تردید کی اور کئی فورم پر کی لیکن شائقین کرکٹ اور ماہرین بار بار سوال اٹھاتے رہے کہ جس کرکٹر کی ڈومیسٹک میں ٹاپ پرفارمنس ہو اسے نظر انداز کرکے ایوریج پرفارمنس والے امام الحق کو کیوں کھلایا گیا۔ تاہم شور شرابا اپنی جگہ لیکن ہوا وہی جو انضمام الحق نے چاہا۔ مصباح الحق نے عوامی دباو پر فواد کو اسکواڈ میں شامل کیا لیکن پلیئنگ الیون میں شامل نہیں کیا اور اسے میدان سے باہر بٹھا کر رسوا کیا جاتا رہا۔ پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں کئی کھلاڑیوں کے ساتھ ایسا ظلم کیا جاتا رہا۔ یہ ایک فکر کا مقام ہے کہ زیادہ تر شکایت کراچی سے ہی ابھری

مصباح الحق سوئی نادرن سے کرکٹ کھیلتےتھے اس لیئے جب وہ کپتان تھے تو ان پر مخالفین الزام لگاتے تھے کہ وہ سوئی نادرن کے کھلاڑیوں کو فوقیت دیتے ہیں۔

مصباح الحق سیلکٹر، ہیڈ کوچ اور بیٹنگ کوچ ہونے کے بعد کراچی کے کھلاڑیوں کے زیادتی کے الزام سے بری نہیں ہوسکیں گے۔ انہیں یہ تاثر زائل کرنا ہوگا کہ وہ کراچی کو نظر انداز کرتے ہیں۔ کیونکہ اب ٹیم میں جو بھی شامل ہوگا اس کی پوری ذمہ داری مصباح پر ہوگی اور جو نہیں ہوسکے گا اس کا الزام بھی مصباح پر ہوگا۔ انہیں اپنے فیصلوں میں غیر جانبداری اور انصاف کرنا ہوگا تانکہ ان کے خلاف ہونے والی باتیں دم توڑ سکیں ورنہ الزاما ت میں حقیقت کے رنگ بھرتے رہیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں