دو ٹکے کی عورت سے کچرا عورت تک۔ میڈیا کی زبان عورت دشمن ہے؟

شوبز کی شادیاں ہمیشہ سے عوامی موضوع رہی ہیں لیکن اس بار ہونے والی ایک شادی نےمیڈیا میں موجود کچرا سوچ کو نمایاں کردیا۔ جی ہاں یہ ذکر ہے شہروز کی صدف کنول سے شادی کا۔بہروز سبزوارای کے بیٹے شہروز کی حال ہی میں مشہور ماڈل ادکارہ سائرہ سے طلاق ہوئی ہے۔ دونوں کی ایک چھوٹی بچی بھی ہے۔ اس طلاق پر دونوں طرف سے خاموشی اختیار کی گئی تھی۔ لیکن آگ لگانا تو بعض لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ تو انہوں نے آگ لگا دی۔ سائرہ اور صدف کنول کی ایک تصویر جس نے کئی کہانیاں بنانےمیں مدد دی وہ تھی ایک پارٹی کی جس میں سائرہ اور صدف کنول ایک ساتھ خوش نظر آرہی ہیں۔ یہ اسوقت کی تصویر ہے جب سائرہ بیگم شہروز تھیں اور صدف کنول صرف دونوں کی دوست تھیں۔

ایک عمومی رائے بنی کہ صدف کنول سے شہروز نے تعلق قائم کیا جس کی وجہ سے سائرہ کا گھر ٹوٹ گیا۔ ظالم عورت مظلوم عورت کی فلم لوگوں کو دن میں نظر آئی ۔ اس پر غضب یہ ہوا کہ شہروز نے صدف کنول سے شادی کرلی۔ شادی کی تصاویر میں دونوں کو خوش و خرم دیکھ کر تو جیسے ان لوگوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی جو نہ سائرہ کو ذاتی طور پر جانتے تھے نہ صدف کو اور نہ ہی شہروز کو۔ بس پھاپا کٹنی کی طرح سب نے سنبھالا کی بورڈ اور لگ گئے لکھنے۔

سوشل میڈیا پر طوفان مچا تو وائرل ہونے والے ایک کمنٹ کو ایک اخبار نے عوام کی رائے کہہ کر شایع کیا وہ کمنٹ تھا ’ شہروز نے خزانے کی جگہ کچرے کو چن لیا‘ ۔ ایک اور کمنٹ جو وائرل ہوا وہ تھا ’شہروز نے سوک کی جگہ مہران لے لی‘۔ ٰ

یہ وہ کمنٹس تھے جو اکثر مردوں نے ٹوئٹ اور ری ٹوئٹ یا فیس بک پر پوسٹ اور ری پوسٹ کیئے۔المیہ یہ تھا کہ ان کمنٹس کو لائیک کرنے یا ریٹوئٹ کرنے والے کئی صحافی بھی تھے۔ سوال یہ ہےکہ کیا صحافیوں کو ایسے کمنٹس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے؟ سب سے بڑھ کر ایک اخبار کی ویب سائٹ پر اسے شایع کرنا کیا نئے ٹرینڈ کا سبب بن سکتا ہے؟

میڈیا میں میڈ ان چائنا صحافی آگئے ہیں، عامر میر

نامور صحافی عامر میر کا کہناہے کہ سوشل میڈیا پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے دنیا میں میڈ ان چائنا اشیا ملتی ہیں ایسے ہی اب میڈ ان چائنا صحافی ہیں ۔ میڈیا انڈسٹری میں الیکترونک میڈیا کا آغاز ہوا تو اس میں نئی پود آئی جو بنیادی طور پر جرنلسٹ نہیں تھی۔ جیسے ماضی میں لوگ پروسیس سے آتے تھے وہ عمل الیکٹرونک جرنلزم میں نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا میں تو صورتحال اس سے بھی خراب ہے۔ پاکستان میں سوسائٹی تنزلی کا شکار ہے۔جب لیڈر ہی یوٹرن لیتا ہو اور معاشرہ بھی ایسا ہی تعمیر ہوگا۔

صحافی کے ذہن میں کچرا بھرا ہوا ہے، نذیر لغاری

نامور صحافی نذیر لغاری نے کہا کہ کچرے اور خزانے کے بیان کےحامی صحافی کے ذہن میں کچرا بھرا ہوا ہے۔ اس کی نظر میں کچرے اور خزانے کا تصورہی اصل معیار ہے کیونکہ ایک خاتون کو وہ کچرا کہتا ہے تو دوسری کو خزانہ۔ان کا کہنا تھا کہ آج صحافیوں کا معیار گرچکا ہے۔ ان کی سوچ آپ دیکھیں تو خود سوچتے ہیں کہ کیا یہ لوگ سوسائٹی کی تعمیر کریں گے؟؟ خود ان کا معیار کیا ہے؟ آج معیار کچرا اور خزانہ پر ہے۔ کیونکہ یہ نظام مکمل طور پر کرپٹ ہے۔ نذیر لغاری کا کہنا تھا کہ معاشی ناہمواری کی وجہ سے مساوات کا تصور نہیں ہے۔عورت کے نام سے ہی ساری گالیاں بنی ہوئی ہیں۔ ۔انہوں نے رکن سندھ اسمبلی احمد علی سومرو کا واقعہ بیان کیا کہ جب سندھ اسمبلی کے سیکوریٹی افسر نے انہیں ٹیکسی پر آنے سے یہ کہہ کر روکا کہ اسمبلی کا ایک وقار ہے آپ کو گاڑی پر آنا چاہیے تو وہ واپس گئے اور گدھا گاڑی پراسمبلی آئے ۔ ماضی میں جنرل ضیا کی صحافی مذمت کرتے تھے اور جو غلط کی مذمت نہیں کرتے تھے تو وہ کم ازکم چپ رہتے تھے۔

سینئر صحافی مصنف انورسن رائے نے کہا کہ زبان کا ارتقا ہوتا ہے اور صحافت میں سوچ مڈل کلاس کی ہی موجود ہوتی ہے۔ اس کی زبان بازار کی زبان سے ذرا اوپر ہوتی ہے۔ آج جس جملے پر آپ اعتراض کررہے ہیں وہ لکھنے والے اور اس کے پڑھنے والوں کو عجیب نہیں لگ رہا۔خاتون کو کچرا کہنا یا خزانہ کہنا لکھاری کی ذہنی حالت بتاتا ہے۔ اس کے تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خبر اور سرخی کبھی ذو معنی نہیں ہوتی۔ یہ واضع اور صاف ہونی چاہیے۔ عباس اطہر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی ایک سرخی کا ذکر ہوتا ہے۔ وہ سرخی ان سے بڑی ہوگئی ۔ نئے میڈیا میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو صحافی نہیں ہیں۔ ان کی زبان کمزور ہے۔ صحافی کو پتہ ہونا چاہیے کہ کیا لکھ رہا ہے ۔ خبر اور سرخی کی زبان ایسی ہونی چاہیے جو کسی کو ناگوار نہ گزرے

خواتین کو کموڈٹی سمجھا جاتا ہے، عظمی نورانی

ہیومن رائٹس کمیشن کی کو چیئرپرسن عظمی نورانی نے کہا ایسے کمنٹس خواتین کے خلاف توہین آمیز رویہ بڑھانے میں کردار ادا کریں گے۔عظمی نورانی کا کہنا تھا کہ ان کمنٹس سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کو ایک کموڈٹی سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی آزادی کی بات کی جاتی نہے اور ہم سپورٹ کرتے ہیں لیکن ساتھ میں میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ دیکھے کہ وہ کیسی سوسائٹی تعمیر کررہا ہے۔

انسانیت کی تذلیل کی گئی، عطیہ داود

مشہور ڈرامہ نویس، شاعرہ اور ویمن ایکشن فورم کی نمایاں لیڈر عطیہ داود نے کہا کہ خواتین کو کچرا کہنا یا کسی گاڑی کے ماڈل سے تشبیہ دینا انسانیت کی تذلیل ہے۔عطیہ داود کا کہنا تھا عورت کا یہ کریکٹر مردوں نے بنایا ہے یہ خواتین کی توہین ہے۔

صدف نے کھٹارا موتر سائیکل لی ہے، نادرہ ہما

شعبہ تعلیم سے وابستہ ویمن ایکٹوسٹ نادرہ ہما کا کہنا تھا کہ سارے کمنٹس عورت پر آرہے ہیں کوئی شہروز پر کمنٹ کیوں نہیں کرتا۔یہ کیوں نہیں کہتا کہ صدف کنول نے پرانی کھٹارا موٹر سائیکل خرید لی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہدف تنقید صرف عورت کو بنایا جاتا ہے مرد کو معافی دیدی جاتی ہے۔

جیسا کہ سینیئر صحافی ایڈیٹر نذیر لغاری نے کہا کہ صحافیوں کے اپنے فکری سطح کے مسائل ہیں۔ ایسا ہی حال کچھ مجموعی طور پر میڈیا کا ہے۔ کچھ عرصے قبل دو ٹکے کی عورت کے جملے پر بڑی لے دے ہوئی۔ لیکن وہ جملہ سوشل میڈیا پر کروڑوں لوگوں نے شیئر کیا۔ کیا میڈیا عورتوں کی تذلیل کی سوچ پروان چڑھا رہا ہے یا وہ صرف معاشرے کی سوچ کی عکاسی کررہا ہے۔ یہ ایک نا ختم ہونے والی بحث ہے۔ اکثر لوگ ان کمنٹس کو تفریح کہہ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ۔لیکن انہی سوشل میڈیا کے’کول‘ کمنٹ کرنے والوں سے کہیں کہ کیا یہ کمنٹس آپ کے گھر کے بارے میں کہہے جاسکتے ہیں تو یہ مغلظات بکنےلگیں گے۔

عوام کی بازاری رائے کوئی نئی بات نہیں۔ نئی بات یہ تھی کہ اس پر صحافت کی مہر ثبت ہوگئی۔ کئی صحافیوں نے ان کمنٹس اور ان جیسے کمنٹس کو انجوائے کیا ۔ ایک اخبار نے ویب سائت پر شایع کیا او ربعد میں ڈیلیٹ کردیا ۔

میڈیا کے نقاد علی عمران جونیئر کہتے ہیں ایسی ہیڈلائن کا مقصد لوگوں کی توجہ حاصل کرنا ہوتاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ خبر کی ہیڈ لائن ایسی لگانی جائے کہ ہٹ ہوجائے۔ وائرل کی سوچ نئی اقدار تشکیل دے رہا ہے۔ الیکٹرونک میڈیا میں اب صحافت کی ڈگری ہونا لازمی ہے یا سینئر پوزیشن پر صحافی ہوتے ہیں یہ صورتحال ہمیں ڈیجیٹل میڈیا پر نظر نہیں آتی۔

الفاظ کا چناو آپ کی فکر ، تربیت اور آپ کے پاس کتنا علم ہے اس کا پتہ دیتا ہے۔ فی الحال لگتا ہے کہ غیر تربیت یافتہ افراد کی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بھرمار صحافت کی زبان اور معیار پر ایسے ہی حملہ آور ہے جیسے ٹڈی دل کا لشکر فصلوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر سچی اور جھوٹی خبر کے درمیان فرق کے لیئے بہت ادارے اور گروپ کام کررہے ہیں لیکن زبان اور الفاظ کی حساسیت پر بالکل کام نہیں ہورہا۔ جب تک ایڈیٹرز مل کر سوشل میڈیا پر خبروں کی زبان کے کنٹرول کے لیئے فورم تشکیل نہیں دیں گے اسوقت تک یہ شتر بے مہار کی طرح چلتا رہے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں