یہ امریکا ہے یا کراچی کا لالو کھیت

نیویارک: ایک سیاہ فام امریکی کو سفید فام پولیس افسر نے گردن سے دبوچ کر زمین پر لٹا دیا اور اس کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھ دیا۔ وہ کہتا رہا کہ اس کی سانس رک رہی ہے لیکن پولیس افسر نے پاوں نہیں اٹھایا اور وہ مر گیا۔ یہ سب منظر موبائل فون پر ریکارڈ ہورہا تھا جو وائرل ہوا۔۔نتیجہ یہ تھا کہ سیاہ فام امریکہ میں نکل آئے۔ غم و غصے سے بھرے مظاہرین نے پولیس پر حملے کئے اور امریکا میں ایک آگ بھڑک اٹھی۔ اب یہ مظاہرے امریکا میں نہیں بلکہ برطانیہ میں بھی ہورہے ہیں اور یورپ کے دیگر ممالک میں بھی لوگ احتجاج کے لیئے نکل رہے ہیں۔

امریکا کے تقریبا ہر شہر میں پرتشدد مظاہرے ہورہے ہیں، گاڑیاں جلائی جارہی ہیں۔دکانیں لوٹی جارہی ہیں۔ لوگ پتھر برسا رہے ہیں، بوتلیں پھینک رہے ہیں۔ پولیس شیلنگ، ربڑ گولیاں برسا رہی ہے۔ اور امریکی حکمران مظاہرین کے خلاف بیانات پر بیانات داغ رہے ہیں

یہ مناظر دیکھ کر سن انیس سو اسی کی دہائی کا لالو کھیت یاد آگیا۔ کراچی کا لالو کھیت جہاں کب سڑک پر گزرنے والی گاڑیوں پر پتھراو شروع ہوجائے کسی کو نہیں پتہ چلتا تھا۔ کسی گاڑی کی ٹکر دوسری گاڑی سے ہوئی بس پتھراو شروع اور لالو کھیت بند، بجلی نہیں آرہی پتھراو شروع اور لالو کھیت بند۔ ڈاکخانے کا تھانہ تو مظاہرین اسپیشلسٹ بن چکا تھا۔

آج کے امریکا اور ماضی کے لالو کھیت میں ایک بات مشترک ہے۔ دونوں جگہ معاشی طور پر پسے ہوئے لوگ جنہیں دوسرے درجہ کا شہری سمجھا جاتا تھا وہ سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ اردو بولنے والوں کی اکثریت اس علاقے میں رہتی ہے۔ ان کا شکوہ رہا کہ انہیں نوکریاں نہیں ملتیں، اعلی تعلیم کے لیئے اتنا سخت مقابلہ کا سامنا ہے کہ اکثر بہت زیادہ محنت کرکے بھی میڈیکل یا انجنیئرنگ کالجز میں داخل نہیں ہو پاتے تھے۔ جہاں جاتے تھے ان کے ساتھ اردو اسپیکنگ کہہ کر امتیازی سلوک برتا جاتا تھا۔ اردو بولنے والوں کا شکوہ رہا کہ پہلے جنرل ایوب نے ان کے لیئے نوکریوں کے دروازے بند کیئے پھر بھٹو صاحب نے کوٹہ سسٹم لاکر نوکریوں کے ساتھ تعلیم کے دروازے بھی بند کرنا شروع کیئے اور رہی سہی کسر جنرل ضیا نے نکالی جس نے بھٹو صاحب کے حامیوں کو سرکاری نوکری سے نکالنے کے لیئے پنجاب سے لوگ لاکر نوکری پر لگائے۔ ان کے پاس نہ اب نوکریاں تھیں نہ اعلی تعلیم کے زیادہ مواقع۔۔نتیجہ یہ کہ جب موقع ملے پتھر مار کر غصہ نکالو کی نفسیات کارفرما تھی

امریکا میں موجود سیاہ فام افراد کو بھی ایسی ہی شکایتیں ہیں۔ ریاست انہیں دوسرے درجہ کا شہری سمجھتی ہے، رہی سہی ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابات نے نکال دی جس نے سفید فام انتہا پسندوں کے ووٹ بینک کو اپنی حمایت میں اکسایا۔ ٹرمپ نے پالیسی رکھی کہ سفید فام لوگ بیروزگار ہیں اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں اس کے لیئے اس نے مختلیف لسانی گروہوں کو ذمہ ار قرار دیا جس میں سرفہرست میکسیکو نژاد افراد تھے، اس نے امیگریشن پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا نتیجہ یہ ہوا کہ چار سال میں لسانی کشیدگی اسقدر بڑھ چکی ہے کہ امریکا سفید فام اور دیگر کے درمیان تقسیم ہوچکا ہے

امریکی معاشی بحران نے اس میں مزید آگ لگائی ہے۔ کرونا وائرس کے باعث کاروبار بند ہیں اور لوگوں کی معاشی حالت ناقابل برداشت ہوتی جارہی ہے۔جس میں سب سے زیادہ متاثر سیاہ فام اور غیر ملکی تارکین وطن شامل ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اندر کا دبا غصہ ایک واقعہ پر ابل پڑا۔ اب یہ آگ آسانی سے نہیں تھمے گی

امریکی صدر نے بائیں بازو کے گروپ انتافاکو اس آگ لگانے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انتافا مخفف ہے اینٹی فاشسٹ تحریک کا۔امریکی صدر نے کہا کہ انتافا کو وہ دہشتگرد تنظیم قرار دیدیں گے۔ (پاکستان میں بھی سیاسی مخالفین کی تنظیموں کو ملک دشمن قرار دیتے رہے ہیں جیسے ایک وقت میں پیپلز پارٹی پھر ایم کیو ایم کو ملک دشمن قرار دیا گیا)۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ لیفٹ کے گروپوں نے ملک میں فسادات برپا کیئے ہیں۔

لیکن کیا یہ صورتحال صرف امریکا تک محدود رہے گی؟ ایسا اب نہیں لگتا۔ ٹیکنالوجی نے دنیا کو اتنا جوڑ دیا ہے کہ اب ایک واقعہ کا اثر پوری دنیا پر بیک وقت ہوتا ہے۔ سیاہ فام افراد کو نسلی تعصب کا سامنا صرف امریکا میں ہی نہیں بلکہ برطانیہ اور یورپ میں بھی ہے۔ اسی طرح دیگر نسلی گروہوں کو بھی سفید فام افراد سے شکایت ہے۔ اور یہ لوگ سیاہ فام افراد کی تحریک کے ساتھ جڑرہے ہیں۔ اس کے پیچھے ایک اور محرک شدید معاشی بحران ہے جو کرونا وائرس میں لاک ڈاون کی وجہ سے بدترین صورتحال پیدا کرچکا ہے۔

اسی لیئے امریکا کے بعد سب سے بڑا مظاہرہ برطانیہ میں ہوا جس میں سیاہ فام افراد کے علاوہ دیگر قومیتوں کے لوگ بھی شامل تھے۔ ایسے ہی مظاہرے دیگر ممالک میں بھی متوقع ہیں۔

امریکا برطانیہ اور یورپ میں یہ ریڈیکل دور ہے۔ ابھی ان ممالک کی معاشی حالت بہتر ہونے میں دو سے تین سال لگیں گے۔ اسوقت تک یہ ان کے یہاں نسلی کشیدگی بڑھتی نظر آرہی ہے۔ اس لیئے اگر یہ کہا جائے کہ امریکا برطانیہ اور یورپ میں ایک بائیں بازو کی قوت اقتدار میں آسکتی ہے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ برنی سینڈر اور نوم چومسکی نے بائیں بازو کی سیاست کو بڑھانے کے لیئے ایک نیا عالمی فورم تیار کیا ہے۔ جو اصل میں سوشل ویلفیئر کی واپسی کی تحریک ہے۔ اس سوشل ویلفیئر نظام کی واپسی جو سویت یونین کے خاتمے کے بعد رفتہ رفتہ سرمایہ داروں نے ختم کردیا تھا۔

جہاں سیاہ فام اسقدر غم وہ غصہ میں سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں وہیں سفید فام انتہا پسند بھی اب کھلے عام اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔ یہ لوگ سیاہ فام افراد اور دیگر تارکین وطن سے خود نمٹنا چاہتے ہیں۔

کیا کل امریکا میں خانہ جنگی کی صورتحال ہوگی؟ اسکو فی الحال مکمل رد کرنا ممکن نہیں۔ تاہم لگتا ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ بھی وہی حربے استعمال کرے گی جو پاکستانی حکومت نے لالو کھیت میں استعمال کیے تھے

۔۔۔۔

فرحان رضا

تحریر فرحان رضا….

رابطہ : [email protected]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں