امریکا کا چین کے خلاف ڈی ٹین بلاک بنانے کا اعلان، نئی سرد جنگ کا انجام کیا ہوگا؟

تجزیہ فرحان رضا : دنیا میں ایک اور کولڈ وار شروع ہوچکی ہے۔ اس کو حتمی شکل دینے کے لیئے امریکا اور برطانیہ نے مل کر نیا بلاک بنانے کی تیاریاں شروع کی ہیں ۔ اس بلاک کو ڈی ٹین کا نام دیا گیا ہے۔لیکن کیا یہ نئی سرد جنگ پرانی سرد جنگ جیسی ہوگی؟ اس کے لیئے سرد جنگ کے خدوخال سمجھنا ضروری ہیں

دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوئی ایک کی سربراہی امریکا کر رہا تھا ان ممالک میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان اور اٹلی شامل تھے۔ یہ وہ ممالک تھے جو اس کولڈ وار کے مرکزی کردار تھےا ور امریکی اتحادی تھے۔ انہیں سرمایہ داروں کا اتحاد کہا جاتا تھا اور ان کا نام تھا جی سیون۔ پھر ان ممالک کا جہاں جہاں اثر و رسوخ تھا وہ کولڈ وار میں بلواسطہ شریک تھے۔ دوسرا بلاک تھا سویت یونین کا جس میں مشرقی جرمنی، چیک و سلواکیہ سمیت کئی کمیونسٹ ریاستیں شامل تھیں۔ اس کے ساتھ ہی کچھ ایسے ممالک بھی تھے جو غیر جانبدار تحریک کا حصہ تھے لیکن ان کا جھکاو روس کی طرف تھا جیسے کہ بھارت۔ سویت یونین کے خاتمے کے ساتھ ہی کولڈ وار بھی ختم ہوئی۔ لیکن سرد جنگ کی یادگار جی سیون باقی رہی۔ جی سیونسرمایہ دارانہ مفادات کے لیئے پالیسی بنانےکا کردار ادا کرتی رہی۔

اب جی سیون کا کرتا دھرتا امریکا موجودہ گروپ سے مطمئن نہیں ہے۔ اسے لگتا ہے کہ نئی جنگ چین کے ساتھ جاری ہے جس کا اثر و رسوخ کئی ممالک پر براہ راست ہے چاہے وہ ممالک برطانیہ اور جرمنی ہوں یا افریقہ اور ایشییا کے ممالک ہوں۔ اسی لیئے امریکا کا خیال ہے کہ اب جی سیون کی شکل بدلنی چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جی سیون متروک ہوچکا ہے اس میں روس، بھارت، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ ان نئے چار ممالک میں بھارت اور جنوبی کوریا دو ایسے ممالک ہیں جن کا چین کے ساتھ براہ راست جیو پولیٹیکل تنازعہ ہے۔ بھارت کی چین کے ساتھ سرحدی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں جبکہ شمالی کوریا کا چین براہ راست سپورٹر ہے جس کی وجہ سے کوریا کی چین سے کشیدگی رہتی ہے۔

ماضی کی سرد جنگ اور نئی سرد جنگ میں چند باتیں مشترک نظر آتی ہیں ۔ دونوں ممالک ایکدوسرے کے شہریوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور ان پر جاسوس ہونے کا الزام لگایا جارہا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے کے اثر و رسوخ کو دنیا میں کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایکدوسرے کے معاشی مفادت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں ۔ کرونا وائرس کے بعد براہ راست ایک دوسرے پر بایولاجیکل جنگ کا الزام لگایا جارہا ہے۔ اگلا قدم بھی واضع نظر آرہا ہے کہ وہ ممالک جو چین کے قریبی دوست ہوں گے ان کے شہریوں کو ؎امریکا اور برطانیہ سمیت یورپ میں شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا جبکہ جو ممالک امریکا برطانیہ کے قریب ہوں گے ان کے شہری چین اور اس کے دوست ممالک میں مشکوک سمجھیں جائیں گے۔ جاسوسوں کے درمیان دنیا بھر میں ایک نئی جنگ چھڑ جائے گی۔

ہالی ووڈ کا نیا مصالحہ مل گیا : ہالی ووڈ کو تو کئی برسوں تک ایکشن فلمیں بنانے کا نیا مصالحۃ مل گیا ہے۔ اب فلمیں کچھ اس طرح بنا کریں گی کہ مشن امپاسبل دیوار چین تک پہنچنے کے لیئے شروع کیا گیا ہے جہاں پر موجود لگی کروڑوں اینٹوں میں سے ایک اینٹ میں اہم ترین راز ہے۔ اور ہیرو سب کو مار پیٹ کر وہاں پہنچے گامشن مکمل کرے گا۔ جیمز بانڈ بھی چین کے اطراف ہی گھومتا رہے گا۔ لیکن اس بار ایک بڑا فرق یہ کہ چین کی رسائی بھی انگریزی تک اچھی طرح ہے اور وہ ہالی ووڈ کے ٹکر کی انگریزی زبان میں فلمیں بناسکتے ہیں۔ لہذا پروپیگنڈا کا کام وہ بھی ٹکر پر کریں گے۔ دنیا میں ذہن بنانے کا نیا ہتھیار موبائل فون گیمز ہیں۔ تو دونوں بلاک ایسے ہی گیم بھی جاری کریں گے۔ الغرض سویت یونین کی انگریزی کی کمزوری چین کے ساتھ جنگ میں نظر نہیں آئے گی اس لیئے پروپیگنڈا جنگ کانٹے کی جنگ ہوگی

نئی اور پرانی سرد جنگ کا بنیادی فرق: لیکن نئی سرد جنگ اور پرانی سرد جنگ میں ایک بنیادی فرق ہے ۔ اور وہ فرق ہے نظریات کا۔ سویت یونین سے عالمی سرمایہ داری کو خطرہ تھا۔ سویت یونین تمام فیکٹریاں بینک اور کھیت کھلیان کو قومیائے جانے کی پالیسی رکھتا تھا اسی لیئے بڑی بڑی سرمایہ دار کمپنیوں نے امریکی برطانوی حکومتوں کو کھل کر سپورٹ کی کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ ان کے ہاتھ سے پیسہ اور کاروبار نکل جائے گا۔ کمیونسٹوں کی طرف سے کارخانوں کھیتوں کھلیانوں پر قبضہ کا مطلب تھا دنیا کا طاقتور ترین سرمایہ دار جاگیردار طبقہ ختم ہوجائے گا۔ تو ایک طرف پہلی جنگ میں لوگوں کو ڈرایا گیا کہ کمیونسٹ اشتراکی ہیں یہ تمھارے گھروں پر قبضہ کرلیں گے۔ تمھاری بیویوں کو کہیں گے کہ وہ ایک کی نہیں سب کی بیوی ہے۔ اس طرح اشتراکیت کا عجب نقشہ پیش کیا گیا۔ دوسری طرف کہا گیا کہ وہ اللہ کو نہیں مانتے اور تمام گرجا مندر مسجد گرادیں گے۔ سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن نے جب افغان مجاہدین سے ملاقات کی تو کہا تھا کہ آپ میں اور ہم میں یہ بات مشترک ہے کہ ہم دونوں اللہ کو مانتے ہیں۔ لادین نہیں ہیں۔ کمیونسٹ اپنے زعم میں ان الزامات کو سطحی باتیں کہہ کر نظر انداز کرتے رہے یا پھر خدا کے وجود کے فلسفیانہ بحثوں میں الجھتے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سوسائٹی میں وہ مقام نہ بنا سکے جس کی بنیاد پر تبدیلی لاسکتے تھے۔

لیکن چین سے امریکا برطانیہ کی جنگ کسی طور بھی نظریاتی جنگ نہین ہے۔ بلکہ یہ جنگ دو سرمایہ دارانہ طاقتوں کے درمیان جنگ ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر سرمایہ داری کو فروغ دینے میں جہاں امریکی کارپوریٹ سیکٹر اور ہاٹ منی کا اہم کردار ہے تو دوسرا مرکزی کردار چین کی فیکٹریوں کا ہے جنہوں نے سستی سے سستی مصنوعات بنا کر مارکیٹوں کو وسعت دی ہے۔ اگر چین سے موبائل فون نہ بنتے تو شاید موبائل فون کی مارکیٹ اتنی وسیع نہ ہوتی ۔ سرمایہ دار اپنی مصنوعات کی فروخت کے لیئے انہین سستا بھی کرتا ہے، اسمگلنگ بھی کراتا ہے اور بلیک مارکیٹ بھی تیار کرتا ہے۔ جیسے کہ کمپیوٹر سافٹ ویئرز کی مارکیٹ تیار کی گئی۔ مائیکروسافٹ کی ونڈوز آج بھی اتنی مہنگتی ہیں کہ عام پاکستانی ان کو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا لیکن پائریسی نے اسے سب تک پہنچا دیا۔

امریکی نیشنل سروےکے مطابق سال دوہزار سترہ میں امریکا کی کمپنیوں نے چین میں 505ارب ڈالر کا سامان فروخت کیا تھا جبکہ چین کی کمپنیوں نے امریکا میں 530ارب ڈالر کا سامان فروخت کیا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں میں جنگ نظریات کی نہیں سرمایہ پر قبضہ کی ہے۔

نئی کولڈ وار سے ورکنگ کلاس کو فائدہ نہین ہوگا۔ اس جنگ میں یہ طے ہونا ہے کہ کون سا ملک سرمایہ داری کی سربراہی کرے گا۔ جہاں امریکا نے برطانیہ سمیت بڑے بڑے ممالک کو اپنے ساتھ ملانے کا فیصلہ کیا ہے وہیں چین نے افریقا اور ایشیا کی چھوٹی بڑی مارکیٹوں پر قبضہ مضبوط کرنے کا عمل تیز کیا ہے جس کے لیئے وہ ون بیلٹ ون روڈ کے فارمولے پر کام کررہے ہیں۔ چین نے مارکسی جدلیاتی فلسفلے کو سرمایہ داری کے لیئے استعمال کیا ہے یعنی مقدار کی تبدیلی سے کوالٹی تبدیل ہوتی ہے۔

Quantitative change leads to Qualitative change

چین کی پالیسی واضع ہے کہ ترقی پذیر مارکیٹوں کو اپنے سامان کے ذریعہ وسعت دی جائے۔ جب اشیا سستی دستیاب ہوں گی تو ان کی مارکیٹ بنے گی جو ایک پورا معاشی سائیکل شروع کردے گی۔ اسطرح چین کی کمپنیوں کا منافع بڑھے گا۔ دوسری طرف چین ان ترقی پذیر ممالک میں اپنے ویئر ہاوسسز قائم کرکے پروڈکٹس کو دوبارہ یورپ امریکا بھیج سکتا ہے بس فرق اتنا ہوگا کہ یہ پروڈکٹس میڈ ان چائنا نہیں کہلائی جائیں گی

اس کولڈ وار کا نتیجہ کچھ انوکھا نہ ہوگا۔ سرمایہ دارممالک ایک حد تک لڑتے ہیں پھر آپس میں معاملہ طے کرکے منافع کی جدوجہد میں لگ جاتے ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ چین اور امریکا کی سرد جنگ شاید دس سال بھی نہ چل سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں