پولیس سے حکومتوں کا مذاق۔۔کیس کی تحقیقات کا خرچہ 350روپے

کراچی سے ریحان مہدی: ہر کیس کی تفتیش کرنا، مجروموں کے پیچھے جانا، جائے وقوعہ کا جائزہ لینا ، گواہوں کو ڈھونڈناسے لیکر مجرم تک پہنچنا ان سب کے لیئے جو خرچہ حکومت پولیس کو دیتی ہے وہ صرف تین سو پچاس روپے ہیں۔

ان ساڑھے تین سوروپے میں تفتیشی افسر تھانے سے جائے وقوعہ تک جاتا ہے چاہے وہ کتنی ہی دور کیوں نہ ہو۔ اور اسے تفتیش کے دوران کئی بار وہاں جانا ہوتا ہے۔پھر بیانات قلمبند کرتا ہےا ور گواہوں کو تیار کرتا ہے۔ پھر اسے مجرم کے پیچھے جانا ہوتا ہے۔ اب مجرم جہاں بھی ہو تفتیشی افسر کو اسے پکڑنا ہے۔ حکومت سندھ کی ہو یا پنجاب سب کو خرچہ فی کیس صرف ساڑھے تین ہزارسوروپے ملتا ہے۔

پی ایس پی آفیسر آصف رزاق نے اپنے ٹوئٹر اکاوئنٹ پر پولیس پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال یہ ہے کہ ایک کیس کی تفتیش کے لیئے خرچہ ساڑھے تین سو روپے ملتا ہے۔ پولیس کو فورس کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ عوامی خدمت کے ادارے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا

یہ ایک پہلو ہے ۔ پولیس کی تنخواہیں ، ان کے سرکاری مکانات کی کنڈیشن، ان کے بچوں کے لیئے موجود سرکاری اسکولوں کی حالت زار اور پولیس اسپتالوں کی صورتحال دیکھ لیں تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ حکومتوں کو پولیس سے کتنی دلچسپی ہے۔ پولیس ان کے لیئے صرف ٹریفک رکوا کر سائرن بجاتی ہوئی جانے والی فورس ہے جس کا مقصد وزیروں مشیروں اور بااثر افراد کی نوکری کرنا ہے۔ یہ پولیس کا کردار چالیس پچاس سال میں بنادیا گیا ہے۔

اس ملک میں پولیس کی تن خواہ سے مراعات تک کے لیئے تمام قوائد اب بھی انگریز دور کے ہی نظر آتے ہیں۔ پولیس قوانین میں تبدیلی ہوتی رہی، ہر نئی حکومت میں نئی فورس بنا دی گئی لیکن مجموعی طور پر پولیس کی حالت ابتر کی ابتر ہی رہی۔ تھانوں کی موبائلوں کا حال دیکھ لیں۔یا پولیس اہلکاروں کے سرکاری فلیٹوں کی بدتر حالت دیکھ لیں۔ آپ کو پولیس کے تمام رویوں کا جواب مل جائے گا

جب تک پولیس اس ملک میں سب سے زیادہ تن خواہ دینے والا محکمہ نہیں بنے گا، جب تک اس کے افسران و اہلکاروں کے مکانات کا معیار بلند نہیں ہوگا، ان کو بہترین سہولیات نہیں دی جائیں گی۔ اس وقت تک ان پر تنقید کرنا جائز نہیں ہے۔ اور حکمرانوں کی طرف سے پولیس پر تنقید تو بالکل ہی ناجائز ہے کیونکہ یہ حکمران ہی تو پولیس کو اس حال پر رکھے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں