ماڈل عظمی خان اور بیگم عثمان کی جنگ۔ میڈیا کا کردار

لاہور سے مدثر رضوی: دو روز سے ماڈل عظمی خان پر ایک خاتون کی طرف سے حملہ کی ویڈیو وائرل ہوئی یہ خاتون بعد میں بیگم عثمان ملک نکلیں جن کا مبینہ طور پر رشتہ ملک ریاض سے بھی جوڑ دیا گیا۔ یہ ایک گھر گھر کی کہانی والی صورتحال تھی جس پر میڈیا نے وہی کیا جو چچی عقیلہ کرتیں۔

چچی عقیلہ ہمارے محلے کی وہ خاتون تھیں کہ جس گھر میں فساد کی کوئی خبر ہو اسے ہر ایک کو بتاتیں اور کچھ اس طرح کہ لگتا کہ وہ اس گھر کی مظلوم شخصیت کے ساتھ ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا چند گھنٹوں میں جو کہانی گھر کے اندر ہوتی وہ گلیوں میں گونج رہی ہوتی۔

کچھ ایسا ہی عظمی خان کے کیس میں ہوا۔ مشہور ماڈل اور فلمسٹار پر گارڈز کے ساتھ چند خواتیں نے حملہ کیا۔ گھر میں توڑ پھوڑ کی اور لیکویڈ بھی ان پر پھینکا ۔ یہ ویڈیو وائر ہوئی ۔سوشل میڈیا نے چچی عقیلہ کا کردار ادا کرتے ہوئے اسے شیئر کرتے گئے۔ کہانی بھی اپنی اپنی سناتے گئے۔ کسی نے کہا کہ پیٹرول پھینک کر آگ لگانے کی کوشش کی ۔ کسی نے کہا گھر پر قبضہ کی کوشش ہے۔ اور متفقہ فیصلہ تھا کہ ملک ریاض کے گھر والوں نے طاقت کا استعمال کرکے ان مظلوم نہتی خواتین پر تشدد کیا ہے۔

ہمدردی کا طوفان تھا جو چار سو نظر آتا تھا۔ نوجوان لڑکوں کا تو یہ حال تھا کہ ان کا بس چلتا تو بحریہ ٹاون کے سامنے بھوک ہڑتال کرتے لیکن عظمی خان سے رابطہ نہیں ان کا ہو پارہا تھا تو نوجوان لڑکوں کو سمجھ نہیں آرہا تھا بھوک ہڑتال عظمی خان آکر ختم کرائیں گی یا نہیں۔ اس لیئے اس منصوبے کو ہمارے دوست پاکی بھائی نے تو فی الحال ملتوی کردیا۔ عظمی خان کو اطلاع ہو کہ اگر وہ خود بھوک ہڑتال ختم کرانے کی حامی بھریں اورمشروب اپنےہاتھ سے پلائیں تو پاکی بھائی تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کے لیئے تیار ہیں

ابھی ہمدردی کے ڈونگرے پورے ملک میں برس رہے تھے کہ ایڈوکیٹ حسن نیازی عظمی خان کی مدد کو پہنچ گئے ایف آئی آر بھی درج کرانے تھانے گئے۔ اسی دوران بیگم عثمان نے اپنی ویڈیو جاری کردی جس میں ان کا موقف تھا کہ یہ گھر ان کے شور کا ہےاس لیئے قانونی طور پر وہ اس گھر میں جاسکتی تھیں۔ اور انہوں نے وہاں کوکین دیکھی شراب دیکھی اور وہی شراب ادکارہ پر پھینکی۔ توڑ پھوڑ انہوں نےا پنےشوہر پر کی۔

سوشل میڈیا پر اٹھنے والے اس طوفان نے چند گھنٹوں کےلیئے پاکستانیوں کو بھلا دیا کہ تیس کے قریب لوگ کرونا سے مرگئے، طیارہ گرنے سے مرنے والوں کی کئی لاشیں اب بھی ناقابل شناخت ہیں اور ٹڈی دل کے حملے سے فصلیں تباہ ہورہی ہیں جس کی وجہ سے آنے والے وقت میں گندم دالیں سب شدید مہنگی ہوں گی۔ پاکستان کی ہر کمپنی میں چھانٹیاں ہورہی ہیں اور تن خواہوں کی کٹوتیاں ہورہی ہیں۔ سب کچھ چند گھنٹوں کے لیئے محو ہوگیا اور صرف عظمی خان اور بیگم عثمان کے درمیان مظلوم کون کا عالمی مسئلہ سوشل میڈیا کی عدالت میں چل پڑا

ایسے مسائل کو ہوا دینے کا مقصد ہمیشہ اہم ایشوز سے نظر چرانا ہوتا ہے، جب مسائل حل کرنے کی صلاحیت ریاست کے پاس نہیں رہتی تو ایسے ایشوز اسے کچھ دیر کے لیے عوامی دباو سے بچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اسی لیئے بعض اوقات انہیں ایسے ایشوز مل جاتے ہیں تو بعض اوقات ایسے ضمنی ایشوز کھڑے کیئے جاتے ہیں تاکہ عوام کی توجہ بھوک، افلاس بے روزگاری سے دور رہے۔ اداکارہ عظمی خان اور بیگم عثمان خان میں کچھ روز میں خاموشی سے معاملات طے ہوجائیں گے پھر کسی کو کچھ یاد نہ ہوگا بالکل اسی طرح جیسے لوگوں کو اب ٹک ٹاک فیم حریم خان کی ویڈیوز یاد نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں