چینی رپورٹ بھی چینی کی قیمت کم نہ کرسکی، چینی اب بھی مہنگی

بزنس رپورٹر کراچی سے: چینی مافیا کے خلاف رپورٹ جاری ہوگئی لیکن اس کا چینی کی قیمت پر رتی بھر بھی اثر نہ پڑا۔ کراچی میں ہول سیل مارکیٹ میں چینی کی قیمت 78روپے فی کلو جوڑیا بازار میں تھی۔ جس کی وجہ سے عام دکاندار یعنی ریٹیل والے چینی 80روپے سے 84روپے فی کلو میں فروخت کررہے ہیں

کراچی گروسرز ایسوسی ایشن کے مطابق چینی کی ہول سیل مارکیٹ میں قیمت اٹہتر روپے کے آس پاس گذشتہ دو ماہ سے ہے۔ چینی کی یہ قیمت اس وقت ہے جب کہ گنے کی کرشنگ جاری ہے اور چینی کی ملک میں کمی نہیں ہے۔ جیسے جیسے کرشنگ ختم ہوگی تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چینی کی قیمت میں کیا فرق پڑے گا۔ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کو بنیاد بنا کر چینی کی قیمت بڑھائی جاسکتی ہے۔

چینی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف تحقیقاتی کمیشن نے کارٹیل بننے کی نشاندہی کی تھی ۔ شوگر ملز آپس میں مل کر چینی کی قیمتیں بڑھاتے ہیں

چینی کا بحران اور قیمتوں کا طوفا ن پرویز مشرف کےد ور میں آیا تھا ۔ ساری کوشش کے باوجود بھی حکومت چینی کی قیمتیں کم نہیں کراسکی تھیں۔ دوسرا دور پھر زرداری حکومت میں آیا جس میں چینی کے مالکان نے قرضوں کی ادائیگی نہیں کی اور بینکوں کو اپنے گودام سیل کرنے دیئے۔ جس کے نتیجہ میں ملک میں چینی کی شدید قلت ہوگئی اور چینی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ جب قیمتیں انتہائی بلندی پر پہنچ گئیں تو مالکان نے بینکوں سے ادائیگی کے شیڈول پر بات کی اور گودام میں رکھی چینی فروخت کرکے منافع کمایا ساتھ ہی بینکوں کا قرضہ ادا کیا۔

پاکستان میں چینی ہو یا سیمنٹ یا کھاد یا کوئی اور شے، اس کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں حکومتیں مجموعی طور پر ناکام ہی نظر آتی ہیں۔ اسی لیئے اس بار شوگر مافیا کے خلاف جو رپورٹ آئی ہےاس پر بھی عوام کی رائے یہی ہے کہ ’کچھ دن شور شرابا ہوگا اور پھر کچھ نہ ہوگا‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں