پائلٹ نے پہلے انجن کا کنٹرول ختم ہونے کا کہا پھر کہا مےڈے مے ڈے، جہاز گرگیا

کراچی: لاہور سے کراچی آنے والا بدقسمت طیارے نے اترتے وقت کنٹرول ٹاور کو کہا کہ لینڈنگ گیئر میں مسئلہ ہے۔۔پھر کہا ایک انجن لاس ہوچکا ہے۔ جس پر کنٹرول ٹاور نے کہا کہ رن وے خالی ہین آپ اتر جائیں۔ پائلٹ نے پھر کہا کہ انجن لاس ہوچکا ہے۔ جس پر کنٹرول ٹاور نے پھر اترنے کا کہا۔ چند سیکنڈ بعد پائلٹ نے کہا مے ڈے مے ڈے اور چند سیکنڈ بعد خاموشی ہوگئی۔ یہ خاموشی کنٹرول ٹاور کے لیئے تھی لیکن ماڈل ٹاون کے علاقے جناح باغ کے لوگوں نے دھماکا سنا جہاز دو بلڈنگز پر گر چکا تھا۔ ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا۔ قیامت صغرا کا منظر تھا۔

فوری طور پر ریسکیو ٹیمیں پہنچیں ، آرمی رینجرز کی ریسکیو ٹیمیں بھی فوری طور پر پہنچ گئیں۔ جہاں جہاز گرا ہے اس سے چند کلومیٹر پر ملیر کینٹومنٹ کا علاقہ ہے اس لیئے آرمی کی ریسکیو ٹیموں کو پہنچنے میں زیادہ وقت نہ لگا۔ فائر بریگیڈ نے اپنا کام شروع کردیا اور لاشیں نکالنا شروع کردی گئیں۔ اس حادثے میں اکیانوے مسافروں سمیت کل اٹھانوے افراد سوار تھے۔

پی آئی اے ترجمان کے مطابق طیارہ دس سے بارہ سال پرانا تھا اور اس میں بظاہر کوئی تکنیکی خرابی نہ تھی۔

جہاز میں سینئر صحافی انصار نقوی بھی موجود تھے وہ چارماہ بعد لاہور سے اپنے گھر والوں کے ساتھ عید منانے آرہے تھے۔ انصار نقوی طویل عرصے تک جیو نیوز میں سینئر عہدوں پر تعینات رہے آج کل وہ چینل ٹوئنٹی فور کے ڈائریکٹر پروگرامنگ تھے

پی آئی کے طیاروں میں انجنیئرنگ کے عملے کی نااہلیاں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن چیک اور بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے کبھی بھی بڑی کارروائی نہیں ہوئی۔ حادثے کے چند روز تک شور مچتا ہے اور پھر زندگی ویسے ہی رواں دواں ہوجاتی ہے۔ اگلے حادثے ہونے تک کوئی کچھ نہیں پوچھتا کہ کس کا قصور تھا کسے سزا ہوئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں