چاند پر سائنس اور مولاناوں کی لڑائی، سپریم کورٹ کا ڈر

تحریر فرحان رضا: پاکستان میں گلی کے چاند سے لیکر یونیورسٹی کے چاند تک اتنی لڑائی نہیں ہوئی جتنی عید کے چاند پر ہوتی ہے اور اس لڑائی کا مرکز ہمیشہ مولانا حضرات ہی ہوتے ہیں ۔پہلے یہ آپس میں لڑ کر دو عیدیں کرتے تھے۔اب اس میں فواد چوہدری المعروف وزیر سائنس بھی کود پڑے ہیں

فواد چوہدری نے وزارت سائنس سنبھالتے ہی پاکستان کے سب سے نازک اور حساس طبقہ کے قیمتی اثاثے رمضان اور عید کے چاند پر ڈاکہ ڈالا۔ گذشتہ سال انہوں نے رمضان کےچاند کا اعلان کیا اور ساتھ ہی کہہ دیا کہ کئی سال کا کلینڈر بھی تیار کریں گے۔ اس کے بعد جو ہونا تو وہی ہوا۔ وہ مولانا جو ہر سال ٹی وی پر رمضان اور عید کے چاند کے موقع پر جلوہ افروز ہوکر منٹ منٹ پر ٹکرز اور بریکنگ کے مزے لو ٹ رہے تھے ان کے تو سینے پر سانپ لوٹ گئے۔۔انہوں نے تمام فقہی اختلافات بھلا کر باوضو ہوکر مفتی صاحب کو حملوں کا اختیار دیدیا۔ پھر اہل پاکستان نے دیکھا کہ ایک طرف فواد چوہدری صاحب سائنس اور دنیا میں رائج نامور اسلامی ممالک کی مثالیں لا رہے تھے تو مفتی منیب صاحب دین و فقہ کے حوالوں سے ان کو جواب دے رہے تھے۔۔اس دوران چاند نکلنے اور غروب ہونے میں مصروف رہا

دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے سال جنگ صرف دو چاندوں پر ہوئی باقی سال چاند اپنی مرضی سے نکلتا رہا اور ڈوبتا رہا نہ مولاناوں کو اعتراض ہوا نہ وزیر سائنس کو کہ اے چاند تو کیوں ہماری مرضی کے بغیر نکلا

گذشتہ سال اس لڑائی کے ابتدا میں سعودی عرب کی مثالیں دی جارہی تھیں۔ لیکن لگتا ہے وزیر سائنس اور رویت ہلال کمیٹی نے سعودی عرب کا مطالعہ کرکے فیصلہ کیا کہ اس مثال کو رہنے دو ورنہ دونوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا اور ایسا کیوں ہے۔ وہ اس لیئے کہ سعودی عرب میں چاند کا اعلان کرنے والی کمیٹی میں جج شامل ہوتے ہیں اور حتمی اعلان سعودی عرب کی سپریم کورٹ کرتی ہے۔ اب سوچیئے جب چیف جسٹس جسٹس گلزار چاند کا حتمی اعلان کریں گے تو پھر کیا فواد چوہدری کیا مفتی منیب سب نے یس مائی لارڈ کہہ کر چپ ہی سادھ لیں گے۔

چاند کے تنازعہ کا الزام صرف فواد چوہدری پر دھرنا بھی زیادتی ہوگی۔ مفتی پوپلزئی تو ڈٹ کر پاکستان کی ریاست اور رویت ہلال کے سامنے کھڑے ہیں اور دونوں مفتی پوپلزئی کے سامنے بے بس ہیں۔ لیکن رویت ہلال میں موجود کم از کم دو فقہ کے لوگ ماضی میں چاند کے حکومتی اعلان کے خلاف جاچکے ہیں اہل تشیع اور اہل حدیث نے سن اسی کی دہائی میں ایک سے زائد بار علیحدہ عید مناچکے ہیں ۔

اس لڑائی کا انجام بھی سب کو علم ہے۔ پاکستان میں سائنس کی جیت صرف کتابوں میں ہوتی ہے ورنہ کرونا پر ڈاکٹر ہی آخری فیصلہ دینے کی اتھارٹی ہوتے۔ اسوقت سوائے ڈاکٹروں کے سب اس پر فیصلے دے رہے ہیں نتیجہ یہ کہ ڈاکٹر اب صرف آخری جملہ ہی کہنے کے قابل ہیں اور وہ ہے ‘آئی ایم سوری‘۔

دو دن بعد فیصلہ ہوجائے گا کہ چاند کس کے کہنے پر نکلا اور جیتنے والا پورے سال دوسرے کو طعنہ دینے میں گزارے گا۔۔پھر اگلے سال رمضان میں اگر فواد چوہدری وزیر سائنس رہے تو ہم یہی مناظر دیکھیں گے۔ اور اگر وہ وزیر سائنس نہ رہے جس کی دعا کئی مولانا کررہے ہوں گے۔ تو پھر سائنس نہیں رویت ہلال کی ہی چلے گی۔۔آئیے دعا کریں کہ مولاناوں کی روزی روٹی چلتی رہے اور سائنس بھی پھلے پھولے ۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں