ٹوئٹر پر یو اے ای کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ، پاکستانی مزدوروں کے لیئے خطرہ کی گھنٹی

تجزیہ محمد یوسف: پاکستان میں ٹوئٹر پر کل سے متحدہ عرب امارات کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ چل پڑا۔ یہ ٹرینڈ شروع کرنے والاترکی کا ایک سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ہے۔ پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ کرنے والا یہ ہیش ٹیگ پاکستان کی معاشی حالت پر براہ راست اثر انداز ہوسکتا ہے

پاکستان میں یواے ای کے خلاف ٹرینڈ شروع کرنے والا شخص علی کیسکنی ایک ترکی شہری ہے جس کا دعوی ہے کہ وہ سائبر سیکوریٹی اسپیشلسٹ ہے اور صحافی بھی ہے۔ اس نے بائیکاٹ یو اے ٹرینڈ کل رات شروع کیا اور ساتھ ہی پاک ترک دوستی کا ٹرینڈ چلایا

یہ ٹرینڈ اس وقت چلایا گیا جب یو اے ای کی رائل فیملی بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر ڈٹ کر کھڑی ہے۔ امارات کی شہزادی مسلسل بھارت کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں ۔ یو اے ای میں ہندتوا کے سپورٹر بھارتی شہریوں کی سوشل میڈیا پر اسکریننگ کی جارہی ہے ۔ ابتک کئی افراد مسلم مخالف ٹوئٹ یا فیس بک پوسٹ لگانے پر نوکری سے فارغ کردیئے گئے ہیں۔ رائل فیملی کے ارکان بھارت کے مختلیف علاقوں اور مقبوضہ جموں اور کشمیر میں ہونے والے بھارتی حکومت اور فوج کے مظالم کے خلاف ٹوئٹس کررہے ہیں۔

ایسی صورتحال میں ایک ایسے شخص کا جو پاکستان میں مشہور بھی نہیں ہے یو اے ای کے خلاف ٹرینڈ چلانا ایک خطرناک رحجان ہے۔ جس کے دور رس اثرات پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔ یو اے ای رائل فیملی کے ارکان ٹوئٹر پر انتہائی سرگرم ہیں۔ اسی لیئے سوال یہ اٹھ رہا ہےکہ کیا اس ٹرینڈ کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے؟

متحدہ عرب امارات کا پاکستان سے معاشی اور جیو پولیٹیکل تعلق بہت گہرا ہے۔ موجودہ حکومت جب برسر اقتدار آئی تو معاشی مشکلات کے حل کے لیئے یو اے ای نے تین ارب ڈالر فراہم کیئے۔ ا س سے پہلے بھی ادھار پر تیل اور ڈالرزفراہم کرتے رہے ہیں۔ یو اے ای کے سرمایہ کار بڑی تعداد میں پاکستان میں پیسہ لگاچکے ہیں۔ اور بڑی کمپنیوں کے شراکت دار ہیں۔ لیکن اس سے بڑھ کر پاکستانی ورکرز کی بڑی تعداد یو اے ای میں نوکریاں کرتی ہے اور وہاں سے درہم پاکستان بھیجتی ہے۔ بیورو آف اوورسیز پاکستانی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق دوہزارا انیس میں سعودی عرب اور یو اے ای سب سے زیادہ ورکرز نوکریاں کرنے گئے اور پاکستان کی کل اوورسیز ورک فورس کا اڑتیس فیصد سے زائد حصہ اس وقت یو اے ای میں کام کررہا ہے۔

بیورو آف اورسیز کی رپورٹ

ارطغرل ڈرامہ کی وجہ سے ترکوں سے قلبی تعلق قائم ہونا ایک الگ بات ہے لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ ترکی کا پاکستان میں معاشی کردار پیسہ لگا کر لے جانے سے زیادہ نہیں ہے۔ پاکستانی ورک فورس کو نوکریاں دینے میں ترکی کا شمار بہت نچلے درجے پر ہوتا ہے۔ وہ صرف ٹاپ پروفیشنلز کو نوکریاں دیتا ہے جبکہ اس کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کا راز کراکا رینٹل پاورپلانٹ میں کھل چکا ہے۔ اس ٹرینڈ کے پیچھے کیا سیاسی یا جذباتی مقاصد کارفرما ہیں یہ تو آنے والا وقت واضع کرے گا۔ لیکن ایسے ٹرینڈ کا پاکستان میں موجودہ معاشی صورتحال میں چلنا اور سرکاری اداروں کی خاموشی پاکستان کے لیئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے ۔

محمد یوسف سیاسی تجزیہ کار اور نوجوان سیاستدان ہیں ان کا تعلق لیفٹ کی سیاست سے ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں